تخلیقِ حیات کا خاموش مرکز

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

عورت محض ایک وجود نہیں بلکہ کائنات کے توازن میں ودیعت کی گئی وہ لطیف قوت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔ یہ وہ ہستی ہے جسے قدرت نے محض جسمانی ساخت نہیں دی بلکہ احساس، برداشت، محبت اور تخلیقی قوت کا ایسا خزانہ عطا کیا ہے جو نسلوں کی تعمیر کا بنیادی سرمایہ بن جاتا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو انسانی تہذیب کے ہر دور میں عورت کسی نہ کسی صورت زندگی کے قافلے کی خاموش رہنما رہی ہے۔
عورت کی اصل طاقت اس کے شور میں نہیں بلکہ اس کی گہرائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ اکثر اپنی ذات کو پس منظر میں رکھ کر دوسروں کے لیے روشنی کا انتظام کرتی ہے۔ اس کا طرزِ وجود عجیب ہے؛ وہ بسا اوقات اپنی خواہشوں کو دل کی تہوں میں دفن کر دیتی ہے مگر دوسروں کی خوشیوں کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کر دیتی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو انسانی رشتوں کو محض تعلق نہیں رہنے دیتا بلکہ انہیں روحانی وابستگی میں بدل دیتا ہے۔
انسانی معاشرے کی بنیاد دراصل عورت کے صبر اور اس کی بصیرت پر قائم ہے۔ وہ دکھ سہہ کر بھی دلوں میں امید جگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر مرد زندگی کے سفر میں رفتار کی علامت ہے تو عورت اس سفر کی سمت ہے۔ مرد کی قوت بازو ہو سکتی ہے مگر عورت کی قوتِ دل وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی معاشرے اخلاقی یا روحانی بحران کا شکار ہوئے، عورت کی پرورش اور اس کی تربیت نے نئی نسلوں کے اندر وہ روشنی پیدا کی جس سے تہذیبیں دوبارہ زندہ ہوئیں۔
عورت کی شخصیت ایک ہی رنگ میں محدود نہیں رہتی۔ وہ ایک ہی وقت میں کئی جہتوں کی حامل ہوتی ہے۔ کبھی وہ تربیت کا سرچشمہ بن کر کردار سازی کرتی ہے، کبھی رفاقت کی صورت میں کسی وجود کی تھکن کو بانٹ لیتی ہے، اور کبھی ایثار کی ایسی مثال بن جاتی ہے کہ اس کی خاموش قربانیاں وقت کے ماتھے پر عزت کی لکیر کھینچ دیتی ہیں۔ اس کے اندر ایک عجیب سی وسعت ہوتی ہے جو دکھوں کو اپنے اندر جذب کر کے بھی محبت کے چشمے خشک نہیں ہونے دیتی۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ عورت کو ہمیشہ آسان راستے نہیں ملے۔ تاریخ کے بہت سے ادوار میں اسے معاشرتی پابندیوں، ناانصافیوں اور غلط تصورات کے بوجھ تلے جینا پڑا۔ مگر اس کے باوجود اس نے اپنی اصل قوت نہیں کھوئی۔ اس نے دکھوں کو شکست میں نہیں بلکہ تجربے میں بدل دیا اور انہی تجربات سے ایسی بصیرت پیدا کی جس نے آنے والی نسلوں کو جینے کا ہنر سکھایا۔
درحقیقت عورت انسانی زندگی کی وہ بنیاد ہے جس پر احساس کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ اس کے اندر محبت کی جو فطری صلاحیت ہے وہ صرف رشتوں کو نبھانے تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسانیت کے وسیع دائرے تک پھیل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عورت اپنی حقیقی شعوری طاقت کو پہچان لیتی ہے تو وہ صرف ایک گھر نہیں سنوارتی بلکہ پورے معاشرے کی فکری اور اخلاقی سمت متعین کر سکتی ہے۔
یوں دیکھا جائے تو عورت محض ایک کردار یا رشتہ نہیں بلکہ تخلیق کے مسلسل عمل کا وہ مرکز ہے جہاں سے زندگی اپنی معنویت حاصل کرتی ہے۔ اس کے دل کی وسعت میں صبر کا سمندر بھی ہے اور امید کا آسمان بھی۔ اسی لیے جب دنیا تھکن اور بے معنویت کے بوجھ سے جھکنے لگتی ہے تو عورت کی ہمت، اس کی محبت اور اس کی استقامت ہی وہ قوت بن جاتی ہے جو زندگی کو دوبارہ معنی عطا کرتی ہے

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top