(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
شہر میں ایک عجیب خاموشی اتر آئی تھی۔
لوگ کہتے تھے کہ یہ خاموشی سکون کی علامت ہے، مگر میں جانتا تھا کہ یہ اس طوفان کا وقفہ ہے جو ابھی الفاظ کی شکل میں جنم لینے والا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات سب سے خوفناک زلزلے زمین کے اندر نہیں، کسی انسان کے سینے میں پل رہے ہوتے ہیں۔
وہ شخص برسوں سے لکھ رہا تھا۔
اس کے کمرے میں کتابیں نہیں تھیں، یادوں کے ملبے تھے۔ میز پر پڑی روشنائی صرف سیاہی نہیں تھی، ان تمام چہروں کا لہو تھی جنہیں اس نے زندگی میں دیکھا، سمجھا، محسوس کیا اور پھر لفظوں کے حوالے کر دیا۔
لوگ اسے عظیم مصنف کہتے تھے۔
وہ مسکرا دیتا۔
اسے معلوم تھا کہ عظمت اور تباہی کے درمیان کبھی کبھی صرف ایک قلم کا فاصلہ ہوتا ہے۔
وہ کردار تراشتا تھا۔ پہلے وہ انہیں محبت سے بناتا، ان کے چہروں پر مسکراہٹیں رکھتا، ان کی آنکھوں میں خواب بھرتا، ان کے راستوں پر پھول بچھاتا۔ پھر اچانک کسی ایک جملے کے ذریعے ان کی تقدیر بدل دیتا۔
کسی کو تنہائی دے دیتا۔ کسی سے محبت چھین لیتا۔ کسی کے ہاتھ میں امید رکھ کر آخری صفحے پر اسے توڑ دیتا۔
لوگ اس کے افسانے پڑھ کر روتے تھے اور وہ سوچتا تھا:
“کیا میں تخلیق کر رہا ہوں یا قتل؟”
ایک رات اس نے ایک ایسا کردار لکھنا شروع کیا جو اس کے خیال میں اس کی زندگی کا سب سے بڑا شاہکار ہوگا۔
وہ ایک ایسا انسان تھا جس کے اندر پوری دنیا کے دکھ جمع تھے۔ ایک ایسا دل جو دوسروں کے زخم محسوس کرتا تھا، مگر اپنے زخموں کے لیے کوئی زبان نہیں رکھتا تھا۔
مصنف نے اسے نام دیا۔ اسے ماضی دیا۔ اسے خواب دیے۔ اسے محبت دی۔
پھر وہ رک گیا۔
اسے خیال آیا کہ اگر یہ کردار خوش رہا تو لوگ اسے یاد نہیں رکھیں گے۔ دنیا خوشیوں کو جلد بھول جاتی ہے، مگر المیے صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔
اس نے قلم اٹھایا۔
اور اس کردار کی زندگی میں ایک ایسی رات لکھ دی جس کے بعد صبح کبھی نہ آئی۔
اس نے لکھا کہ وہ انسان سب کچھ کھو بیٹھا۔
پھر لکھا کہ وہ مسکراتا رہا۔
پھر لکھا کہ اندر سے مر چکا تھا۔
پھر آخری سطر لکھی:
“وہ زندہ تھا، صرف اس لیے کہ موت ابھی اسے قبول نہیں کر رہی تھی۔”
جیسے ہی اس نے نقطہ لگایا، کمرے کی ہوا بدل گئی۔
اس نے محسوس کیا کہ کاغذ پر موجود حروف ہل رہے ہیں۔
وہ قریب گیا۔
وہ کردار جو اس نے بنایا تھا، کاغذ سے باہر نہیں آیا تھا، مگر اس کی آنکھیں صفحے سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
ان آنکھوں میں ایک سوال تھا۔
“تم نے مجھے ایسا کیوں بنایا؟”
مصنف کے ہاتھ کانپ گئے۔
“میں نے تمہیں دنیا کی حقیقت دکھائی ہے۔”
کردار نے خاموشی سے جواب دیا:
“نہیں، تم نے اپنی طاقت دکھانے کے لیے میری دنیا برباد کی ہے۔”
یہ جملہ تیر کی طرح اس کے دل میں اتر گیا۔
اس رات پہلی بار اسے احساس ہوا کہ تخلیق کار ہونا صرف اختیار نہیں، ایک امانت بھی ہے۔
ایک مجسمہ ساز پتھر توڑتا ہے تو صرف پتھر نہیں ٹوٹتا، اس کے اندر چھپا ایک ممکنہ حسن بھی زخمی ہوتا ہے۔
ایک مصنف جب کسی کردار کو مارتا ہے تو صرف ایک خیالی وجود نہیں مرتا، کہیں نہ کہیں کسی قاری کے دل میں امید کا ایک چراغ بھی بجھ سکتا ہے۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
وہ کتاب چھپ چکی تھی۔
لوگ اسے شاہکار کہہ رہے تھے۔
نقاد اس کے گہرے فلسفے پر گفتگو کر رہے تھے۔
محفلوں میں اس کے اقتباسات دہرائے جا رہے تھے۔
اور اس کے کمرے میں ایک مصنف بیٹھا تھا جسے اپنی ہی تخلیق کا ماتم کرنا تھا۔
سال گزر گئے۔
وہ بوڑھا ہو گیا۔
ایک دن اس نے اپنی پرانی کتاب دوبارہ کھولی۔
صفحات زرد ہو چکے تھے۔
مگر وہ کردار اب بھی وہیں تھا۔
وہی آنکھیں۔ وہی سوال۔
مصنف نے آہستہ سے کہا:
“کاش میں نے تمہیں تھوڑی سی روشنی بھی دی ہوتی۔”
صفحات سے کوئی آواز نہیں آئی۔
بس ایک جملہ ابھرا:
“جس قلم میں رحم نہ ہو، وہ تلوار سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔”
مصنف نے قلم اٹھانے کی کوشش کی مگر ہاتھ رک گیا۔
اسے خوف تھا کہ کہیں ایک اور دنیا کاغذ پر نہ اتر آئے۔
اس دن اسے معلوم ہوا کہ قیامت ہمیشہ آسمان سے نہیں اترتی۔
کبھی کبھی ایک انسان اپنے اندر کے اندھیرے کو روشنائی بنا لیتا ہے، پھر ایک سفید کاغذ پر چند خوبصورت جملے لکھتا ہے۔
اور دنیا اسے فن کہتی رہتی ہے۔
مگر وہ جانتا ہے کہ اس نے ایک قیامت اتاری ہے۔
ایسی قیامت جو نہ زمین ہلاتی ہے، نہ آسمان چیرتی ہے۔
بس خاموشی سے کسی کے خواب دفن کر دیتی ہے۔
کیونکہ ہر لفظ جو پیدا ہوتا ہے، اپنے ساتھ ایک دنیا لے کر آتا ہے۔
اور ہر وہ ہاتھ جو دنیا بناتا ہے، اسے برباد کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔
