(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کہتے ہیں انسان اپنی زندگی میں بہت سے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، مگر سب سے مشکل دروازہ وہ ہوتا ہے جو اس کے اپنے اندر کھلتا ہے۔
میں بھی برسوں سے اپنے اندر ایک شہر آباد کیے بیٹھا تھا۔ اس شہر میں خواہشوں کے محل تھے، انا کے قلعے تھے، خوف کی گلیاں تھیں اور بہانوں کے بازار۔ ہر چیز اپنی جگہ خوب صورت دکھائی دیتی تھی، مگر اس پورے شہر میں ایک ویرانی تھی جس کا اعتراف کوئی نہیں کرتا تھا۔
ایک دن میرے دل پر ایک آواز اتری۔
“کچھ چھوڑنا ہوگا۔”
میں نے ادھر ادھر دیکھا۔
“کیا؟”
آواز خاموش رہی۔
میں نے اپنے مال کو دیکھا، اپنے رشتوں کو دیکھا، اپنی عزت، اپنی پہچان، اپنی کامیابیاں… سب کو دیکھا۔ پھر دل نے کہا:
“شاید یہی سب چھوڑنا ہوگا۔”
مگر اندر سے ایک اور آواز ابھری۔
“نہیں، یہ نہیں۔ یہ تو تمہاری محنت ہے، تمہارا حق ہے، تمہاری زندگی ہے۔”
میں سمجھ گیا، وہ آواز میری نہیں تھی؛ مگر وہ اتنی مانوس تھی کہ برسوں سے میرے اپنے لہجے میں بات کرتی رہی تھی۔
میں نے سفر شروع کیا۔
راستہ طویل تھا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ میرے قدموں کے ساتھ ایک سایہ بھی چل رہا تھا۔ کبھی وہ میرے سامنے آ جاتا، کبھی میرے کان میں سرگوشی کرتا۔
“سوچو، اگر تم نے خود کو بدل لیا تو لوگ تمہیں پہچانیں گے کیسے؟”
“اگر تم نے اپنی خواہشیں چھوڑ دیں تو خوشی کہاں سے ملے گی؟”
“اگر تم نے اپنی انا دفن کر دی تو تم رہو گے کیا؟”
میں خاموش رہا۔
کیونکہ پہلی بار مجھے معلوم ہوا تھا کہ انسان کو باہر کے دشمنوں سے پہلے اپنے اندر کے وکیلوں سے لڑنا پڑتا ہے، جو ہر غلطی کے لیے ہزار دلیلیں تیار رکھتے ہیں۔
آخر وہ مقام آ گیا جہاں مجھے اپنا نذرانہ پیش کرنا تھا۔
میرے ہاتھ خالی تھے۔
میں نے سوچا، شاید یہی خلوص ہے کہ میرے پاس دینے کو کچھ نہیں۔
مگر اچانک اندر سے ایک چیخ نکلی۔
“جھوٹ!”
میں نے چونک کر دیکھا۔
وہ میرا اپنا وجود تھا۔
وہی وجود جسے میں برسوں سے پاک سمجھتا رہا تھا۔
وہ بولا:
“تم مجھے لے آئے ہو؟”
میں نے کہا:
“ہاں، تمہیں ہی تو پیش کرنے آیا ہوں۔”
وہ ہنس پڑا۔
“تم نے مجھے بدلا کہاں ہے؟ تم تو صرف میرے کپڑے بدل کر لائے ہو۔ میں اب بھی وہی ہوں۔ میری خواہشیں زندہ ہیں، میری انا زندہ ہے، میری خود پسندی زندہ ہے۔ تم نے جسم کو تھکا دیا، زبان کو مشغول کر لیا، مگر مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔”
میرے ہاتھ کانپنے لگے۔
پھر ایک خاموش فیصلہ ہوا۔
کوئی آواز نہیں آئی، کوئی اعلان نہیں ہوا۔
بس میرے اندر ایک حقیقت روشن ہوئی:
خدا کے حضور سب سے قیمتی قربانی وہ نہیں جو ہاتھ سے دی جائے، بلکہ وہ ہے جو دل کے تخت سے اتاری جائے۔
میں واپس لوٹ آیا۔
لوگوں نے پوچھا:
“کیا لے کر آئے؟”
میں مسکرا دیا۔
“کچھ نہیں۔”
پھر تھوڑی دیر بعد بولا:
“اور شاید پہلی بار کچھ لے کر آیا ہوں۔”
“کیا؟”
“اپنے آپ کو کھونے کی خواہش۔”
اس دن کے بعد میرا نفس میرے ساتھ چلتا رہا، مگر اب بادشاہ بن کر نہیں، ایک تربیت پاتے ہوئے بچے کی طرح۔
کبھی وہ پرانی خواہشوں کی طرف دیکھتا، کبھی رک جاتا۔
میں اسے مارتا نہیں تھا، کیونکہ میں جان چکا تھا کہ نفس کا خاتمہ انسان کی موت ہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ نفس غلام بن جائے اور انسان آزاد۔
اور آج بھی جب کبھی میرے اندر کا وہ پرانا شہر روشن ہونے لگتا ہے، میں اپنے دل کے دروازے پر دستک دیتا ہوں اور خود سے پوچھتا ہوں:
“کیا آج بھی میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے میں خدا کے نام پر چھوڑ نہیں سکتا؟”
کیونکہ میں جان چکا ہوں…
خدا کو ہماری قربانیوں کی ضرورت نہیں۔
ضرورت ہمیں ہے کہ ہم اپنے اندر اس چیز کو قربان کریں جو ہمیں خدا سے دور رکھتی ہے۔
