(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کہتے ہیں کچھ سفر قدموں سے نہیں، یقین سے طے ہوتے ہیں۔
وہ بھی ایک ایسے ہی سفر پر نکلا تھا۔
اس کے ہاتھ میں کوئی نقشہ نہیں تھا، نہ راستے کا علم، نہ منزل کا پتہ۔ بس دل میں ایک یقین تھا کہ پہاڑوں کے اس پار کہیں ایک دروازہ ہے جہاں پہنچ کر برسوں کی پیاس کو پانی مل جائے گا۔
لوگوں نے اسے روکا۔
کسی نے کہا: “راستے بہت دشوار ہیں۔”
کسی نے کہا: “جس کی تلاش میں جا رہے ہو، شاید وہ تمہارا انتظار ہی نہ کر رہا ہو۔”
مگر وہ مسکرا دیا۔
“جس کے لیے دل نے سفر شروع کر دیا ہو، وہاں عقل کے مشورے اکثر دیر سے پہنچتے ہیں۔”
وہ چل پڑا۔
دن گزرتے گئے، موسم بدلتے گئے، مگر اس کے قدموں میں وہی بے قراری رہی۔
ایک شام جب سورج پہاڑوں کے پیچھے اتر رہا تھا، اسے ایک ویران راستے پر ایک بوڑھا درویش ملا۔ سفید داڑھی، جھکی ہوئی کمر اور آنکھوں میں عجیب سی چمک۔
اس نے مسافر کو دیکھا اور کہا:
“کہاں جا رہے ہو؟”
“اپنی منزل کی طرف۔”
بوڑھا ہنسا۔
“خالی ہاتھ؟”
مسافر نے حیرت سے اپنے ہاتھ دیکھے۔
“میرے پاس تو صرف میرا یقین ہے۔”
بوڑھے نے سر ہلایا۔
“یقین خوبصورت چیز ہے، مگر محبوب کے حضور تحفہ بھی تو لے کر جانا چاہیے۔”
پھر اس نے اپنی جھونپڑی سے ایک چھوٹا سا چراغ نکالا۔
“یہ لے جاؤ۔”
مسافر نے پوچھا: “اس میں کیا خاص ہے؟”
بوڑھے نے کہا: “یہ عام چراغ نہیں۔ اسے جلائے رکھنا، یہ تمہیں اندھیروں میں راستہ دکھائے گا۔”
مسافر نے چراغ اٹھا لیا۔
اور عجیب بات ہوئی۔
چراغ ہاتھ میں آتے ہی راستے بدلنے لگے۔ جو منزل قریب محسوس ہوتی تھی، دور ہونے لگی۔ جو پہاڑ ایک دن میں عبور ہو سکتے تھے، مہینوں کے فاصلے بن گئے۔
مگر مسافر خوش تھا۔
وہ ہر رات چراغ جلاتا اور اس کی روشنی کو دیکھ کر خود کو تسلی دیتا۔
“میں راستہ نہیں بھولا، میرے پاس روشنی ہے۔”
سال گزرتے گئے۔
اس کے پاؤں زخمی ہو گئے، بال سفید ہو گئے، آنکھوں کی چمک مدھم پڑ گئی، مگر چراغ اب بھی روشن تھا۔
ایک رات وہ تھک کر زمین پر بیٹھ گیا۔
اس نے پہلی بار چراغ کو غور سے دیکھا۔
اور اس کا دل کانپ اٹھا۔
چراغ روشنی نہیں دے رہا تھا…
وہ تو اس کے اپنے خون سے جل رہا تھا۔
اس کی بتی میں اس کی عمر لپٹی ہوئی تھی، اس کے تیل میں اس کی سانسیں گھلی ہوئی تھیں۔
وہ چیخ اٹھا:
“میں منزل کی طرف جا رہا تھا یا اپنی زندگی جلا رہا تھا؟”
اسی لمحے ہوا کا ایک جھونکا آیا اور چراغ بجھ گیا۔
اندھیرا چھا گیا۔
مگر حیرت انگیز طور پر پہلی بار اسے راستہ صاف دکھائی دینے لگا۔
کیونکہ جب تک چراغ جل رہا تھا، اس کی آنکھیں صرف روشنی دیکھ رہی تھیں؛ بجھنے کے بعد اسے حقیقت نظر آئی۔
منزل کبھی اتنی دور تھی ہی نہیں۔
دور تو وہ تحفہ تھا جسے وہ منزل تک پہنچانے کے فریب میں اٹھائے پھرتا رہا۔
وہ صبح جب وہ اپنے مطلوبہ دروازے پر پہنچا تو وہاں کوئی پہرہ دار نہیں تھا، کوئی سوال نہیں تھا، کوئی حساب نہیں تھا۔
بس ایک آواز آئی:
“تم اتنی دیر کہاں رہے؟”
وہ رو پڑا۔
“میں راستے میں ایک چراغ اٹھا لیا تھا۔”
جواب آیا:
“ہمیں چراغ نہیں چاہیے تھا، ہمیں تمہاری وہ روشنی چاہیے تھی جو تم نے راستے میں کہیں چھوڑ دی تھی۔”
اس دن اسے معلوم ہوا کہ ہر تحفہ منزل تک نہیں پہنچاتا، کچھ تحفے صرف انسان کو سفر میں مصروف رکھتے ہیں۔
اور ہر روشنی رہنمائی نہیں ہوتی؛ بعض روشنیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو انسان کو اپنے اندر کے سورج سے محروم کر دیتی ہیں۔
