ضمیرِ آدم کی بازگشت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

جب میں نے انسانی تاریخ کے اوراق کھولے تو مجھے ہر صفحہ انسان کی تقدیر کے بجائے اس کی کوتاہیوں کا نوحہ معلوم ہوا۔ قافلۂ آدم نے جب پہلی بار اعتماد کی شمع بجھائی تھی، اس لمحے اس نے اپنی داخلی شکست کو پہچاننے کے بجائے اسے تقدیر کی مہر سمجھ کر فراموش کر دیا۔
یہ وہ دن تھا جب دنیا میں تالا ایجاد نہ ہوا تھا مگر دلوں کے دروازے بند ہو چکے تھے۔ وہ زمانہ جسے لوگ تہذیب کی پہلی صبح کہتے ہیں، دراصل اخلاقیات کے زوال کا پہلا نقطہ تھا؛ کیونکہ ترقی اس وقت آغاز نہیں بنتی جب انسان مٹی بدل لے، بلکہ جب وہ دل بدل لے، اور انسان نے دل کو بدلنے کے بجائے اسے چھوڑ دیا۔
انسان نے جب محسوس کی جگہ مصلحت کو، اور محبت کی جگہ منفعت کو جی میں جگہ دے دی تو دنیا نے ایک ایسی شام دیکھی جس نے انسانیت کا کفن اوڑھا۔ اور اگلی ہی صبح اس نے بارود کی پیدائش دیکھی، بارود، جو تمدن کی علامت نہیں بلکہ خوف کی اولاد ہے۔
خوف وہ بیج ہے جس سے ظلم کے جنگل اگتے ہیں، اور ظلم وہ سایہ ہے جس میں قومیں پناہ تو لیتی ہیں، مگر پستی سے کبھی نہیں نکلتی۔
میں نے تاریخ سے پوچھا: “انسان نے اپنے آپ کو خود سے جدا کب کیا؟” تاریخ نے جواب دیا: “اُس دن جب کارواں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ مسافر تھکا ہوا ہے، اور یہ سوچنا شروع کیا کہ سامان کتنا قیمتی ہے۔”
اسی دن احساس ایک بے نام قبر میں دفن ہوا۔ اور انسان اس کے جنازے پر موجود نہ تھا۔
دنیا نے علم کے مینار تو بلند کیے مگر دلوں کی خاک سے اگنے والی شفقت کی کونپل ہمیشہ روندی گئی۔
پھر وہ لمحہ آیا جب محبت نے آخری آہ بھری اور زندگی کا معنی رخصت ہو گیا۔ اور جب انسان نے رب کی ربوبیت پر سوال اٹھایا، وہ سوال رب کے خلاف نہیں تھا بلکہ انسان کی اپنی معاشرت کے خلاف تھا، اس معاشرت کے جو عدل کے ستون پر کھڑی تھی اور جس کے ستون کو انسان نے خود توڑ ڈالا۔
رب پر اعتماد ٹوٹا تو معیشت پر سود کی زنجیر ڈال دی گئی۔
قوموں کی گردنیں وہیں جھک گئیں جہاں اٹھنے کی قوت کی امید تھی۔
تاریخ میں ایک منظر بارہا دہرایا جاتا ہے:
ظلم پوری ہیبت کے ساتھ ایستادہ ہے، اور تماشائی خاموش کھڑے ہیں۔
دریا بہہ رہے ہیں مگر مقدس پیاسوں کو چند قطرے بھی نصیب نہیں۔ یہی وہ کیفیت تھی جس نے نقشے پر کوفہ کو جگہ دی، ایک ایسی جگہ جہاں ظالم سے زیادہ مظلوم کی بےحسی لکھی گئی۔
قومیں جب سوال سے خوف کھانے لگیں تو ان کی فکری موت واقع ہو جاتی ہے۔
سوال نہ ہو تو علم مفلوج ہو جاتا ہے؛ جواب نہ ہو تو معاشرہ اندھیروں کا اسیر۔ پھر تعریفیں علم سے زیادہ قیمتی ہو جاتی ہیں اور قصیدے سچ سے زیادہ ضروری۔
اور جو شخص حقیقت کا چراغ لے نکلے اسے غدار، جنونی اور دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ یوں ہر وہ انسان جو سچ لکھتا ہے، ایک نیا سانحہ بن جاتا ہے۔
تاریخ گواہی دیتی ہے: قومیں دشمنوں کے ہاتھوں فنا نہیں ہوتیں؛ وہ اس وقت مرتی ہیں جب سوال اٹھانے والا احساسِ تنہائی میں مر جائے اور چاپلوسی کرنے والا عزت پانے لگے۔
اصل المیہ جنگوں کا نہیں، سلطنتوں کے گرنے کا نہیں، شہروں کی ویرانی کا نہیں، اصل المیہ دلوں کی بستیوں کے اجڑ جانے کا ہے۔
اور یہی بستی ہے جسے انسان سب سے پہلے چھوڑتا ہے اور سب سے آخر میں یاد کرتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی شکست یہ ہے کہ انسان اپنی روح کو کھو دے۔
اور دنیا کی سب بڑی فتح وہ ہے جو ضمیروں پر قائم رہے۔
قوموں کی سب سے بڑی امید وہ لوگ ہیں جو سوال کو جرم، محبت کو کمزوری اور انصاف کو مصلحت نہیں سمجھتے۔
انسانی تاریخ کا حسن یہ ہے کہ وہ اپنے زخموں کو چھپاتی نہیں؛ ہر دور کا دکھ، ہر نسل کی خطا اس کی تہوں میں محفوظ رہتی ہے۔ اور شبہ نہیں کہ انسان انہی زخموں کو پڑھتا ہے مگر عبرت نہیں لیتا۔
جو حادثہ ایک نسل کو ہلا دیتا ہے وہ اگلی نسل کے لیے معمول بن جاتا ہے۔ اور جو زخم کبھی نوحہ مانگتا تھا وہ آخرکار تہذیب کی علامت سمجھ لیا جاتا ہے۔
انسان نے جب عقل پر ناز کیا تو اس کی پہلی قربانی احساس تھا۔ عقل جب اخلاق کی نگہبانی کھو دے تو گمراہ ہو جاتی ہے۔ اسی دن انسان نے اپنے خالق کو بھلا دیا اور اپنے بھائی کو دشمن بنا لیا۔ ترقی کا سفر بلندی کی طرف نہیں بلکہ خلا کی طرف بڑھنے لگا۔
میں نے تاریخ سے پوچھا:
“انسان کب گم ہوا؟”
تاریخ نے جواب دیا:
“جب اس نے ہار جیت کو معیارِ حق سمجھ لیا اور حق کو طاقت کی لونڈی بنا دیا۔”
قدیم سلطنتوں کی شکست کا نوحہ انہی اینٹوں سے لکھا جا سکتا ہے جو طاقت کے غرور میں عدل کے پیالے کو توڑ بیٹھیں۔
عدل کے بغیر طاقت درندگی ہے، اور سوال کے بغیر علم اندھا۔
ہر قوم کی تاریخ میں وہ لمحہ آتا ہے جب لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ظلم طاقت ہے، خاموشی حکمت ہے، اور سچ بولنا حماقت۔ یہ لمحہ قوم کی اخلاقی موت کا اعلان ہوتا ہے۔
فوج، دولت، سیاست سب بعد میں گرتے ہیں، پہلے ضمیر گرتا ہے۔ اور ضمیر کی شکست کب شروع ہوتی ہے؟
اُس دن جب معاشرہ سوال اٹھانے والے کو غدار اور جھوٹ بولنے والے کو محسن بنا دے؛
جب دلیل جرم ہو جائے اور اختلاف قابلِ تعزیر؛ جب رائے حقیقت پر غالب آ جائے اور حقیقت مصلحت کی تابع۔
یہی وہ لمحہ ہے جب محبت بسترِ مرگ پر کراہتی ہے اور علم اپنے جنازے میں شریک ہونے سے انکار کرتا ہے۔
معاشرہ فوراً فنا نہیں ہوتا، مگر اس کی قبر کھودی جا چکی ہوتی ہے۔
آج کا انسان اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتا ہے، مگر ترقی وہ نہیں جو مشینوں سے ہو؛ ترقی وہ ہے جو دلوں سے ہو۔
سڑکیں چوڑی کرنے سے راستے نہیں کھلتے؛ راستے اُس وقت کھلتے ہیں جب دل تنگی سے نکلیں۔
عمارتوں کی بلندی تہذیب کی دلیل نہیں، تہذیب اُس وقت بنتی ہے جب اخلاق کی عمارت بلند ہو۔
تاریخ کے آئینے میں نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کو دو چیزیں بچا سکتی ہیں:
عدل اور سوال
اور دو چیزیں تباہ کر سکتی ہیں:
خاموشی اور خوف
عدل کے بغیر دنیا طاقت کا اصطبل ہے۔
سوال کے بغیر علم لاٹھی ٹیکتا ہوا بوڑھا۔
خاموشی ظلم کا پیالہ بھرتی ہے۔
اور خوف انسان کو اس کی اصل سے جدا کر دیتا ہے۔
قومیں تب زندہ رہتی ہیں جب افراد میں اتنی جرات باقی ہو کہ وہ “کیوں” پوچھ سکیں؛ قومیں تب مرتی ہیں جب یہ جرات ختم ہو جائے۔
بغیر سوال کے معاشرہ بھیڑ بن جاتا ہے، جسے چاہو ہانک دو، جیسے چاہو موڑ دو۔
اے مسافرِ فکر!
اگر تو چاہتا ہے کہ مستقبل کا مؤرخ تیرے بارے میں اچھے الفاظ لکھے، تو اپنے عہد کے زخموں سے غافل نہ رہ۔ تہذیبیں کتابوں سے نہیں کرداروں سے بنتی ہیں۔ اور کردار اُس دن بنتا ہے جب آدمی اپنے اندر کے خوف کو مار ڈالتا ہے اور اپنی آنکھوں کو سچ کی تاب کے قابل بنا لیتا ہے۔
دل کے قفل توڑ،
سوال کو زندہ رکھ، محبت کو شعور بنا، اور عدل کو محور، کیونکہ قومیں تلوار سے نہیں مرتیں؛ وہ اس دن مرتی ہیں جب انسانیت کی قبر پر خاموشی کے کتبے نصب ہو جائیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top