زندگی کا آخری استدلال

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی کو عموماً ایک مسلسل حرکت، ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انسان صبح سے شام تک کسی نہ کسی مقصد، کسی نہ کسی خواہش، کسی نہ کسی شناخت کے پیچھے رواں دواں رہتا ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ٹھہر جانا ہار مان لینے کے مترادف ہو، جیسے خاموشی زوال کی علامت ہو۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ زندگی کے سب سے گہرے معنی شور میں نہیں، بلکہ انہی لمحوں میں کھلتے ہیں جب انسان رک کر خود کو سنتا ہے۔
خواہش انسان کو حرکت عطا کرتی ہے، مگر یہی خواہش اگر لگام سے آزاد ہو جائے تو روح کو تھکا دیتی ہے۔ ہم جن خوابوں کو اپنی نجات سمجھتے ہیں، وہی خواب ایک دن ہمارے اندر بےچینی کی صورت جاگ اٹھتے ہیں۔ محبت بھی ابتدا میں ایک روشن وعدہ لگتی ہے کسی تک پہنچ جانے، کسی کو پا لینے کی آرزو۔ مگر جوں جوں ہم اسے مٹھی میں بند کرنا چاہتے ہیں، وہ خوشبو کی طرح تحلیل ہونے لگتی ہے۔ تب انسان پر یہ عقدہ کھلتا ہے کہ محبت کوئی شے نہیں جسے ملکیت میں لیا جا سکے؛ وہ تو کیفیت ہے، جو آزادی میں ہی زندہ رہتی ہے۔
اسی طرح شہرت اور تحسین بھی انسان کو ایک فریبِ دوام میں مبتلا رکھتی ہیں۔ تالیاں بجتی ہیں، نام گونجتا ہے، چہرے پہچانے جانے لگتے ہیں اور انسان سمجھ بیٹھتا ہے کہ اسے خودی مل گئی ہے۔ مگر یہ سب کاغذی چراغوں کی مانند ہے؛ روشنی ضرور دیتے ہیں، مگر حرارت نہیں۔ جب یہ چراغ بجھتے ہیں تو اندھیرا پہلے سے زیادہ گہرا محسوس ہوتا ہے۔ اس لمحے انسان جان لیتا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں تھا کہ دنیا کیا کہتی ہے، بلکہ یہ تھا کہ میں خود اپنے ساتھ کہاں کھڑا ہوں۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک گہری داخلی تبدیلی جنم لیتی ہے۔ شور، خواہش، تعریف اور انکار سب اچانک بےمعنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ سب کچھ پگھل جائے، تحلیل ہو جائے، اور اندر ایک ایسا خلا باقی رہ جائے جو کسی آواز کا محتاج نہ ہو۔ بظاہر یہ خلا خوفناک لگتا ہے، مگر درحقیقت یہی خلا سکون کا دروازہ ہے۔ یہ “کچھ نہ ہونا” دراصل ہر غیرضروری بوجھ سے نجات کا نام ہے۔
اس مقام پر انسان پہلی بار خود کو مکمل طور پر موجود محسوس کرتا ہے۔ نہ وہ کسی بننے کی فکر میں ہوتا ہے، نہ کسی ثابت کرنے کی دوڑ میں۔ وہ صرف ہوتا ہے خاموش، سادہ اور مطمئن۔ یہی وہ کیفیت ہے جہاں روح کو آرام نصیب ہوتا ہے۔ ایک نرم سی روشنی، ایک آہستہ سی سانس، اور ایک گہرا اطمینان یہ سب کسی بڑی کامیابی سے نہیں، بلکہ خواہشوں کے مدھم پڑ جانے سے حاصل ہوتا ہے۔
عشق بھی جب اپنی اصل میں جلوہ گر ہوتا ہے تو شور سے پاک ہو جاتا ہے۔ وہ تڑپ نہیں رہتا، وہ مطالبہ نہیں کرتا، وہ راستوں کی تلاش میں سرگرداں نہیں ہوتا۔ وہ خود راستہ بن جاتا ہے۔ تب انسان سمجھ لیتا ہے کہ سچا عشق پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ ٹھہر جانے کا ہنر ہے۔ یہی عشق انسان کو اس مقام تک لے آتا ہے جہاں راستے نہیں پوچھے جاتے، کیونکہ سمت خود واضح ہو چکی ہوتی ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا فریب شاید یہی ہے کہ ہم سکون کو کسی آخری منزل میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ وہ تو ہمارے اندر ایک خاموش امکان کی صورت موجود ہوتا ہے۔ ہم جتنا تیز دوڑتے ہیں، اتنا ہی اس امکان سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ اور جس دن ہم رک جاتے ہیں، اسی دن حقیقت ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
آخرکار انسان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ زندگی کا کمال حاصل کرنے میں نہیں، چھوڑ دینے میں ہے۔ خواہشوں کا بوجھ اتار کر، تعریفوں کے شور سے نکل کر، اور خودساختہ شناختوں سے آزاد ہو کر جو خاموشی نصیب ہوتی ہے وہی اصل دولت ہے۔ یہی ٹھہراؤ کی حکمت ہے، یہی عشق کی معراج، اور یہی سکون کا وہ نقطہ ہے جہاں آ کر زندگی پہلی بار مکمل محسوس ہوتی ہے۔
پس دانش کا تقاضا یہی ہے کہ انسان زندگی کو محض رفتار کے پیمانے سے نہ ناپے۔ ہر دوڑ معنی نہیں رکھتی اور ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات رک جانا ہی سب سے بڑی بصیرت بن جاتا ہے، کیونکہ اسی توقف میں انسان خود کو، اپنی حدوں کو اور اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے۔ جو شخص ٹھہرنے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، وہ وقت کے بہاؤ میں بہنے کے بجائے اس کے مفہوم کو پا لیتا ہے۔
یہیں آ کر یہ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ خواہش اگر رہنما نہ رہے تو رہائی بن جاتی ہے۔ ضبط، قناعت اور شعوری انتخاب انسان کو اس مقام تک لے آتے ہیں جہاں وہ زندگی سے الجھتا نہیں بلکہ اسے سمجھتا ہے۔ یہ فہم اسے شور سے بےنیاز، تعریف سے آزاد اور محرومی کے خوف سے محفوظ کر دیتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اصل کامیابی خود سے مصالحت میں ہے، نہ کہ دنیا سے تصدیق میں۔
چنانچہ جس لمحے انسان اپنی خواہشوں کو خاموشی کے سپرد کر دیتا ہے، اسی لمحے اس کے اندر ایک نئی روشنی جنم لیتی ہے ایسی روشنی جو دکھاوے کی محتاج نہیں، جو خود کو منوانے پر اصرار نہیں کرتی۔ یہی روشنی فکر کو پختگی عطا کرتی ہے اور روح کو وہ وقار بخشتی ہے جس کے بعد زندگی کسی سوال کی طرح نہیں، ایک واضح جواب کی مانند محسوس ہونے لگتی ہے۔
اور یوں انسان اس مقام پر آ پہنچتا ہے جہاں زندگی کا آخری استدلال خاموشی میں ڈھل جاتا ہے! کہ سکون حاصل نہیں کیا جاتا، سمجھا جاتا ہے؛کہ عشق پایا نہیں جاتا، اوڑھا جاتا ہے؛ اور کہ زندگی جیتی نہیں جاتی، باوقار ٹھہراؤ کے ساتھ قبول کی جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top