(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی روح کا آخری سفر باہر کی دنیا کو فتح کرنے کا نہیں، بلکہ حقیقت کے سامنے اپنی ذات کے پردے ہٹا دینے کا سفر ہے۔ ابتدا میں انسان چیزوں کو دیکھتا ہے، پھر ان کے معنی تلاش کرتا ہے، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ دیکھنے والے کی حقیقت پر غور کرنے لگتا ہے۔ یہی سفر اسے عینِ حق کی دہلیز تک لے جاتا ہے۔
حق کوئی نئی چیز نہیں جو کہیں دور تلاش کی جائے؛ حق تو وہ حقیقت ہے جس کے سائے میں ہر حقیقت قائم ہے۔ مگر انسان کی مشکل یہ ہے کہ وہ ظاہر کی چمک میں باطن کی روشنی بھول جاتا ہے۔ وہ نشانیاں دیکھتا ہے مگر نشان دینے والے کی طرف کم متوجہ ہوتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحات پڑھتا ہے مگر اس کتاب کے مصنف کی طرف نظر اٹھانے میں دیر کر دیتا ہے۔
عینِ حق وہ کیفیت ہے جہاں نگاہ صرف منظر پر نہیں رکتی، بلکہ منظر کے پیچھے کارفرما حکمت کو پہچاننے لگتی ہے۔ وہاں انسان چیزوں کو صرف ان کی صورت سے نہیں، ان کی نسبت سے دیکھتا ہے۔ پھول صرف رنگ اور خوشبو نہیں رہتا، ایک پیغام بن جاتا ہے؛ ستارے صرف روشنی کے نقطے نہیں رہتے، ایک خاموش گواہی بن جاتے ہیں؛ اور زندگی صرف واقعات کا مجموعہ نہیں رہتی، ایک بامعنی سفر بن جاتی ہے۔
معرفت کا کمال یہ نہیں کہ انسان بہت کچھ جان لے، بلکہ یہ ہے کہ جاننے کے بعد اپنے آپ کو بہت بڑا نہ سمجھے۔ جتنا سمندر گہرا ہوتا ہے، اتنا ہی سطح پر پرسکون دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح جس دل میں حقیقت کا نور اتر جائے، اس میں دعووں کی جگہ عاجزی لے لیتی ہے۔
عینِ حق انسان کو یہ راز عطا کرتی ہے کہ حقیقت کو صرف الفاظ میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ الفاظ راستہ دکھا سکتے ہیں، منزل نہیں بن سکتے۔ کتابیں سمت بتا سکتی ہیں، مگر دل کی بیداری اپنا سفر خود طے کرتی ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت نے ہمیشہ علم کے ساتھ حال، اور جاننے کے ساتھ بننے کو اہمیت دی ہے۔
جب انسان حقیقت کے قریب آتا ہے تو اس کی نگاہ دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے باطن کی اصلاح میں مصروف ہو جاتی ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ سب سے بڑا پردہ باہر نہیں، اندر ہے؛ سب سے مشکل فاصلہ زمینوں کا نہیں، دل کا ہے۔ اور سب سے بڑی فتح دوسروں پر غلبہ نہیں، اپنی خواہشوں پر حکمرانی ہے۔
عینِ حق کا سفر انسان کو ایک ایسی خاموش گہرائی عطا کرتا ہے جہاں شکایتیں کم اور قبولیت زیادہ ہو جاتی ہے۔ وہ ہر واقعے کو فوراً سمجھ لینے کا دعویٰ نہیں کرتا، مگر یہ یقین رکھتا ہے کہ ہر امر کے پیچھے ایک حکمت موجود ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب فوراً نہیں پاتا، مگر سوال کرنے والے دل کو زندہ رکھتا ہے۔
یہ مقام انسان کو حقیقت پسند بھی بناتا ہے اور رحمت والا بھی۔ وہ دنیا کو چھوڑتا نہیں، بلکہ دنیا کے اندر رہتے ہوئے اس کے اصل مقام کو پہچانتا ہے۔ وہ مال کو مقصد نہیں بناتا، مگر اسے امانت سمجھتا ہے؛ وہ عزت کو اپنا حق نہیں سمجھتا، بلکہ اسے ذمہ داری جانتا ہے؛ وہ زندگی کو ملکیت نہیں، عطیہ سمجھتا ہے۔
عینِ حق کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی عظمت کے سامنے اپنی ذات کی بڑائی بھول جاتا ہے۔ وہاں “میں جانتا ہوں” کی جگہ “مجھے دکھایا گیا” کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ وہاں انسان اپنی کوشش کا انکار نہیں کرتا، مگر کامیابی کو صرف اپنی طاقت کا نتیجہ بھی نہیں سمجھتا۔
پھر دل میں ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جہاں محبت عبادت کی خوشبو بن جاتی ہے اور عبادت محبت کی روشنی۔ بندہ اپنے رب کو صرف مانگنے کے وقت یاد نہیں کرتا، بلکہ ہر حال میں اس کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ اس کی خوشی میں شکر ہوتا ہے، اس کے غم میں امید، اور اس کی خاموشی میں بھی ایک تعلق قائم رہتا ہے۔
عینِ حق انسان کو یہ نہیں سکھاتی کہ وہ دنیا سے الگ ہو جائے؛ بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے دل کو دنیا کا قیدی نہ بننے دے۔ وہ بازار میں ہو تو بھی دل کا چراغ روشن رکھتا ہے، لوگوں کے درمیان ہو تو بھی اپنے رب سے تعلق قائم رکھتا ہے، اور تنہائی میں ہو تو بھی خود کو بے سہارا محسوس نہیں کرتا۔
آخرکار انسان سمجھ لیتا ہے کہ پورا سفر باہر سے اندر کی طرف تھا۔ تلاش حقیقت کی تھی، مگر راستہ اپنے دل سے گزرتا تھا۔ جسے وہ دور سمجھ رہا تھا، وہ قرب کا راز تھا؛ جسے وہ منزل سمجھ رہا تھا، وہ دراصل سفر کی ایک منزل تھی۔
عینِ حق وہ مقام ہے جہاں انسان حقیقت کو صرف دیکھتا نہیں، اس کے سامنے جھک جاتا ہے؛ جہاں علم حیرت میں بدل جاتا ہے، حیرت محبت میں، اور محبت حضوری میں۔
پھر زندگی ایک آئینہ بن جاتی ہے؛ ایسا آئینہ جس میں انسان اپنی ذات کی تصویر نہیں، اپنے رب کی نشانیوں کا عکس دیکھنے لگتا ہے۔
یہی عینِ حق ہے؛ جہاں تلاش کو سکون ملتا ہے، سوال کو سمت ملتی ہے، اور دل کو وہ اطمینان نصیب ہوتا ہے جو کسی ظاہری کامیابی سے نہیں مل سکتا۔
کیونکہ آخر میں انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ حقیقت تک پہنچنے کا راستہ فاصلے طے کرنا نہیں، پردے ہٹانا ہے۔
اور جب پردے ہٹ جاتے ہیں تو انسان پاتا ہے کہ جس نور کی تلاش میں وہ عمر بھر سفر کرتا رہا، وہ نور ہمیشہ سے اس کے رب کی رحمت کی صورت میں اس کے قریب تھا۔
