چراغ بجھے نہیں، ہم ٹھہرنا بھول گئے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ہ خیال محض چراغ اور روشنی کا تقابل نہیں؛ یہ انسان کے بدلتے ہوئے ذہنی مزاج، اس کی کم ہوتی ہوئی یکسوئی اور تیز ہوتی ہوئی زندگی کا ایک خاموش نوحہ ہے۔
ایک زمانہ تھا جب رات اترتی تو دنیا آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتی تھی۔ گھروں میں چراغ جلتے، اور اس کی محدود سی روشنی میں انسان اپنی چھوٹی سی دنیا سمیٹ کر بیٹھ جاتا۔ چراغ کی لو کبھی ہوا کے لمس سے لرز اٹھتی، کبھی یوں سیدھی اور ساکت کھڑی رہتی جیسے خاموشی کی کسی عبادت میں مصروف ہو۔ اسی لرزتی ہوئی روشنی کے حصار میں کتاب کھلتی، قلم حرکت کرتا، اور انسان لفظوں کے ساتھ ایک ایسی رفاقت میں داخل ہو جاتا جس میں جلدی کی کوئی جگہ نہ تھی۔
روشنی کم تھی، مگر توجہ پوری تھی۔
ایک ایک لفظ پڑھا جاتا، اس کے معنی پر ٹھہرا جاتا، جملے کو سمجھا جاتا، پھر اسے کچھ دیر دل و دماغ میں گردش کرنے دیا جاتا۔ کتاب ختم ہونے سے پہلے ہی قاری کے اندر ایک دوسری کتاب لکھی جانے لگتی تھی؛ وہ کتاب جو کاغذ پر نہیں، انسان کے شعور پر تحریر ہوتی ہے۔
شاید چراغ کی اصل روشنی اس کی لو میں نہیں، اس کے گرد بیٹھنے والے انسان کی یکسوئی میں تھی۔
پھر وقت نے رفتار اختیار کی۔
انسان نے رات کو شکست دینے کے لیے بجلی ایجاد کی، اندھیرے کو پیچھے دھکیلا، شہروں کو روشن کیا، فاصلے مٹا دیے اور معلومات کو انگلی کی ایک جنبش پر لا کھڑا کیا۔ یہ انسانی ذہانت کی عظیم فتوحات تھیں؛ مگر ہر فتح اپنے ساتھ ایک سوال بھی لاتی ہے۔
ہم نے دنیا کو روشن کرتے کرتے اپنے اندر کی توجہ تو مدھم نہیں کر دی؟
آج روشنی بے حساب ہے۔ اسکرینیں روشن ہیں، سڑکیں روشن ہیں، بازار روشن ہیں، عمارتیں روشن ہیں؛ شہر رات کے گہرے پہر میں بھی یوں بیدار دکھائی دیتے ہیں جیسے نیند خود کسی پرانے زمانے کی چیز ہو۔ معلومات ہر لمحہ ہماری آنکھوں کے سامنے آتی ہیں، آوازیں ہمیں ہر سمت سے پکارتی ہیں، تصاویر مسلسل بدلتی رہتی ہیں اور ہماری انگلیاں ایک دنیا سے دوسری دنیا تک سفر کرتی رہتی ہیں۔
ہماری آنکھوں کے سامنے بہت کچھ ہے؛
مگر ہماری توجہ کے پاس کسی ایک چیز کے لیے وقت کم ہے۔
شاید اصل مسئلہ روشنی کا نہیں، رفتار کا ہے۔
چراغ کے زمانے میں وقت ایک دریا کی طرح بہتا تھا؛ آج وہ سیکڑوں چھوٹے چھوٹے لمحوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ پہلے ایک کتاب انسان کے ساتھ دنوں، مہینوں اور کبھی پوری زندگی چلتی تھی۔ اسے صرف پڑھا نہیں جاتا تھا؛ اس کے ساتھ رہا جاتا تھا۔ اس کے کردار یاد رہتے، اس کے جملے ذہن میں ٹھہرتے، اس کے سوال انسان کا تعاقب کرتے اور کبھی برسوں بعد زندگی کے کسی موڑ پر اس کا ایک جملہ اچانک اندر روشن ہو جاتا۔
آج ایک تحریر سامنے آتی ہے، ہم اسے دیکھتے ہیں، پسند کرتے ہیں، آگے بڑھ جاتے ہیں۔
لفظ گزر جاتا ہے، مگر اثر کے لیے دروازہ کھلنے سے پہلے ہی اگلا منظر دستک دے دیتا ہے۔
یہی ہمارے عہد کا عجیب تضاد ہے:
چراغ کتاب کو روشن کرتا تھا،
آج کی روشنی اسکرین کو روشن کرتی ہے؛
مگر تب کتاب انسان کے اندر روشن ہوتی تھی،
اور آج اسکرین زیادہ تر انسان کی آنکھوں کے باہر روشن رہتی ہے۔
فرق صرف وسیلے کا نہیں، تعلق کی نوعیت کا ہے۔
پہلے مطالعہ ایک ملاقات تھا؛ آج اکثر مطالعہ ایک گزرگاہ بن گیا ہے۔ پہلے انسان لفظ کے پاس بیٹھتا تھا؛ آج لفظ انسان کے سامنے سے گزرتا ہے۔ پہلے ایک خیال کو وقت دیا جاتا تھا؛ آج خیال کو بھی جلدی ہے کہ وہ اگلے خیال کے لیے جگہ خالی کرے۔
ہم معلومات کے عہد میں داخل ہو چکے ہیں، مگر شاید تأمل کے عہد سے باہر نکل رہے ہیں۔
ہم جانتے بہت ہیں، مگر سمجھنے کے لیے رکنا کم ہو گیا ہے۔
ہم دیکھتے بہت ہیں، مگر محسوس کم کرتے ہیں۔
ہم سنتے بہت ہیں، مگر کسی ایک آواز کو اپنے اندر اترنے دینے کی مہلت نہیں دیتے۔
اور شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم پڑھتے بہت ہیں، مگر پڑھی ہوئی چیز کو اپنے اندر زندہ رکھنے کا ہنر کھوتے جا رہے ہیں۔
کیونکہ پڑھنا صرف الفاظ کو آنکھوں سے گزار دینا نہیں۔
پڑھنا یہ ہے کہ ایک لفظ آپ کے اندر کوئی سوال پیدا کرے۔
ایک جملہ آپ کے کسی پرانے یقین کو ہلا دے۔
ایک خیال آپ کے اندر ایسی کھڑکی کھول دے جس سے آپ دنیا کو پہلی بار دیکھیں۔
اور کبھی کوئی سطر آپ کو کتاب سے اٹھا کر آپ ہی کے اندر بٹھا دے۔
ایسا مطالعہ رفتار نہیں مانگتا، حاضری مانگتا ہے۔
اسی لیے شاید آج ہمیں مزید روشنی سے زیادہ توقف درکار ہے۔
کبھی موبائل کی روشنی سے دور، کسی نسبتاً مدھم کمرے میں ایک کتاب کھول کر بیٹھیں۔ دنیا کو چند لمحوں کے لیے اپنی پشت پر چھوڑ دیں۔ ایک صفحے پر نگاہ رکھیں اور اسے ختم کرنے کی جلدی نہ کریں۔ ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم پڑھ نہیں سکتے؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ٹھہر کر پڑھنے کی عادت کھو چکے ہیں۔
ہماری انگلیاں مسلسل حرکت میں ہیں، مگر خیالات کو ٹھہرنے کی جگہ نہیں ملتی۔
ہماری آنکھیں مسلسل مصروف ہیں، مگر روح کو خاموش ہونے کا موقع نہیں ملتا۔
ہماری دنیا مسلسل روشن ہے، مگر اندر کا ایک گوشہ اب بھی کسی ایسی روشنی کا منتظر ہے جو آنکھوں کو نہیں، معنی کو روشن کرے۔
شاید ہمیں ماضی کی طرف واپس جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف ماضی کی ایک بھولی ہوئی خوبی واپس لانی ہے: ٹھہراؤ۔
چراغ دوبارہ جلانا ضروری نہیں؛ چراغ جیسی یکسوئی پیدا کرنا ضروری ہے۔
کتاب آج بھی موجود ہے۔
لفظ آج بھی موجود ہیں۔
معنی آج بھی اپنے پورے وقار کے ساتھ ہمارے منتظر ہیں۔
صرف قاری کو اپنے اندر وہ خاموش جگہ دوبارہ بنانی ہے جہاں ایک لفظ اتر سکے، ٹھہر سکے اور آہستہ آہستہ روشنی میں بدل سکے۔
کیونکہ آج کے عہد کا سب سے قیمتی چراغ کوئی بلب، اسکرین یا برقی قمقمہ نہیں؛
وہ انسانی توجہ ہے جو ہزاروں آوازوں کے ہجوم میں کسی ایک لفظ پر ٹھہر جائے، اسے آنکھ سے دل تک لے جائے، اس کے معنی کو اپنے اندر روشن ہونے دے، اور پھر کچھ دیر خاموش رہے۔
شاید انسان کو ہمیشہ اندھیرے سے خطرہ نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی بے حساب روشنی بھی اسے اپنے اندر دیکھنے سے محروم کر دیتی ہے۔
اور شاید چراغ واقعی بجھے نہیں ہیں۔
ہم ہی روشنی کے بڑھتے ہوئے ہجوم میں ٹھہرنا بھول گئے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top