جب بارش فیصلہ کرتی ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کے باطن کی اصل قدر اُس کی سختی میں نہیں، اُس کی تاثیر میں ہوتی ہے۔ جو دل خود کو لوہا سمجھتا ہے، وہ دراصل اپنی بے حسی پر فخر کر رہا ہوتا ہے اور جو دل مٹی ہونے کا اقرار کرتا ہے، وہ اپنی تخلیقی صلاحیت، اپنے اندر چھپی زندگی اور نمو کی قوت کو پہچان چکا ہوتا ہے۔
مٹی کی فطرت یہ ہے کہ وہ قبول کرتی ہے، جذب کرتی ہے اور پھر کسی مناسب لمحے پر زندگی کو جنم دیتی ہے۔ اُس پر بارش کی پہلی بوند گرتی ہے تو وہ محض گیلی نہیں ہوتی، وہ خوشبو بن کر فضا میں پھیل جاتی ہے۔ یہی کیفیت ایک نرم دل انسان کی ہوتی ہے۔ وہ دکھ کو محسوس کرتا ہے، طعنوں کو سہتا ہے اور وقتی طور پر شاید مرجھا بھی جاتا ہے، مگر اُس کے اندر ایک خاموش ارتقاء جاری رہتا ہے۔
اس کے برعکس، لوہا اپنی مضبوطی پر نازاں تو ہوتا ہے، مگر وہ زندگی پیدا نہیں کر سکتا۔ اُس میں نہ خوشبو ہے، نہ نمو کی صلاحیت۔ وہ سخت ضرور ہے، مگر اُس کی سختی اُسے وقت کے ساتھ کمزور بنا دیتی ہے۔ جیسے ہی حالات کی “بارش” شروع ہوتی ہے۔۔۔چاہے وہ آزمائش کی ہو، وقت کی ہو یا سچائی کی۔۔ وہی لوہا زنگ آلود ہو کر اپنی اصل کھو دیتا ہے۔
یہ ایک فکری حقیقت ہے کہ نرمی کمزوری نہیں، بلکہ ایک بلند درجے کی طاقت ہے۔ نرم دل ہونا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ انسان ابھی زندہ ہے، اُس کے اندر احساس باقی ہے اور وہ دنیا کو صرف دیکھتا نہیں، محسوس بھی کرتا ہے۔ ایسے دل وقتی شکست سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ ہر تجربے سے نئی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔
زندگی کے میدان میں آخرکار وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مٹی کی طرح خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں، نہ کہ وہ جو لوہے کی طرح اپنی سختی پر اَڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ وقت، جو سب سے بڑا منصف ہے، وہ ہمیشہ لچک کو ترجیح دیتا ہے، جمود کو نہیں۔
لہٰذا، اگر کسی نے آپ کی نرمی کا مذاق اڑایا ہے تو یہ اُس کی کم فہمی ہے، آپ کی کمزوری نہیں۔ یاد رکھیں، بارش کا انتظار کرنے والی مٹی ہی ایک دن پھول بن کر کھلتی ہے اور دنیا کو اپنی خوشبو سے معطر کر دیتی ہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top