(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی کے بہت سے لمحے ایسے ہوتے ہیں جب انسان خود کو معمولی پریشانیوں، چھوٹی رکاوٹوں اور بظاہر بے معنی تاخیر میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ کبھی گاڑی خراب ہو جاتی ہے، کبھی کوئی ملاقات ملتوی ہو جاتی ہے، کبھی کوئی منصوبہ آخری لمحے میں ناکام ہو جاتا ہے، کبھی کوئی راستہ بند ملتا ہے، اور کبھی ایک چھوٹی سی بیماری ہماری رفتار روک دیتی ہے۔ اس وقت ہمیں یہی محسوس ہوتا ہے کہ زندگی ہمارے خلاف ہو گئی ہے، حالات ہم سے روٹھ گئے ہیں، اور وقت نے ہمارے قدموں میں الجھنیں بچھا دی ہیں۔ مگر اکثر حقیقت اس سے کہیں گہری ہوتی ہے۔
بسا اوقات وہی رکاوٹ جسے ہم بدقسمتی سمجھتے ہیں، دراصل کسی بڑے نقصان کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے۔ وہ تاخیر جس پر ہم جھنجھلاتے ہیں، شاید کسی حادثے سے بچا رہی ہوتی ہے۔ وہ ناکامی جس پر ہم افسردہ ہوتے ہیں، ممکن ہے کسی غلط دروازے کے بند ہونے کا نام ہو تاکہ صحیح دروازہ کھل سکے۔ وہ جدائی جس پر دل ٹوٹتا ہے، شاید ایک ایسی وابستگی سے نجات ہو جو آنے والے وقت میں روح کو زخمی کر دیتی۔
انسان کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ دکھ محسوس کرتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر دکھ کو آخری سچ سمجھ لیتا ہے۔ ہم حال کے ایک صفحے کو پوری کتاب سمجھ بیٹھتے ہیں، جبکہ قدرت پوری داستان دیکھ رہی ہوتی ہے۔ ہم ایک لمحے کے نقصان پر شور مچاتے ہیں، جبکہ رب آنے والے برسوں کی سلامتی لکھ رہا ہوتا ہے۔
یہ کائنات اندھی طاقت کے سپرد نہیں۔ اس میں ایک نظم ہے، ایک حکمت ہے، ایک پوشیدہ ترتیب ہے۔ ہر واقعہ محض حادثہ نہیں ہوتا، ہر رکاوٹ محض رکاوٹ نہیں ہوتی، ہر انکار نفرت نہیں ہوتا، ہر تاخیر محرومی نہیں ہوتی۔ کچھ انکار رحمت ہوتے ہیں، کچھ محرومیاں تربیت ہوتی ہیں، کچھ تاخیر نجات ہوتی ہے، اور کچھ خاموشیاں جواب سے زیادہ بامعنی ہوتی ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ زندگی ہمارے منصوبے کے مطابق چلے، مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارا منصوبہ خواہش سے بنتا ہے، جبکہ اس کا منصوبہ حکمت سے۔ ہم صرف آج دیکھتے ہیں، وہ انجام بھی دیکھتا ہے۔ ہم صرف دروازہ دیکھتے ہیں، وہ دروازے کے پیچھے کھڑی آزمائش بھی جانتا ہے۔ ہم صرف خواہش مانگتے ہیں، وہ اس خواہش کی قیمت بھی جانتا ہے۔
اسی لیے بعض اوقات دعا فوراً قبول نہیں ہوتی، بعض اوقات راستہ آسان نہیں ہوتا، بعض اوقات منزل بدل دی جاتی ہے۔ یہ رد نہیں، رہنمائی ہوتی ہے۔ یہ محرومی نہیں، حفاظت ہوتی ہے۔ یہ خاموشی نہیں، تدبیر ہوتی ہے۔
انسان جب اپنی محدود سمجھ کو حتمی سمجھ لیتا ہے تو شکوہ جنم لیتا ہے۔ مگر جب وہ مان لیتا ہے کہ ایک بڑی دانائی اس کی زندگی کے پس منظر میں کام کر رہی ہے، تو دل میں سکون اترنے لگتا ہے۔ پھر انسان ہر رکاوٹ پر چیختا نہیں، ہر تاخیر پر ٹوٹتا نہیں، ہر ناکامی پر بکھرتا نہیں۔ وہ ٹھہر کر سوچتا ہے کہ شاید یہاں کوئی راز ہے جو ابھی میری سمجھ سے باہر ہے۔
کبھی زندگی میں کاما وہاں لگتا ہے جہاں ہم جملہ ختم سمجھ رہے ہوتے ہیں، اور کبھی فل اسٹاپ وہاں آتا ہے جہاں ہم نئی سطر شروع کرنا چاہتے ہیں۔ مگر لکھنے والا اگر حکیم ہو تو پھر وقفہ بھی معنی رکھتا ہے اور اختتام بھی۔
اس لیے ہر چھوٹی مشکل کو صرف مشکل نہ سمجھیں۔ ممکن ہے وہ آپ کے حق میں لکھی گئی ایک خاموش دعا ہو۔ ہر تاخیر کو سزا نہ جانیں۔ شاید وہ آپ کے لیے وقت کی حفاظتی ڈھال ہو۔ ہر بند دروازے پر ماتم نہ کریں۔ بعض دروازے اس لیے بند ہوتے ہیں کہ انسان غلط سمت میں نہ چلا جائے۔
یقین رکھیے، زندگی کا مسودہ آپ کے ہاتھ میں نہیں، مگر جس کے ہاتھ میں ہے، وہ بے خبر نہیں۔ وہ جانتا ہے کہاں رفتار دینی ہے، کہاں روکنا ہے، کہاں موڑ دینا ہے، کہاں بچا لینا ہے۔ اور اکثر وہ ہمیں بچا لیتا ہے، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اس نے ہمیں روکا ہے۔
