ایک سالک کی پکار

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

اے ربِّ کریم! میں کیا عرض کروں اور کس زبان سے عرض کروں؟ میری زبان گنگ ہے اور میرا دل لبریز۔ لب خاموش ہیں مگر دل کی ہر دھڑکن تیری بارگاہ میں ایک فریاد ہے۔ آنسو ہیں کہ گواہی دے رہے ہیں، آہیں ہیں کہ دلیل بن رہی ہیں اور میری بے بسی ہے کہ التجا کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ میں کیا کہوں، جب تُو وہ سن لیتا ہے جو لبوں تک نہیں آتا اور وہ جان لیتا ہے جو دل کے نہاں خانوں میں بھی ابھی خیال کی صورت میں پوری طرح جنم نہیں لیتا۔
اے مالکِ ارض و سما! اس دنیا کی حقیقت مجھ پر اس وقت کھلی جب میں نے اپنے وجود کو خاک کے ایک ذرّے سے زیادہ نہ پایا۔ ایک ہلکی سی ہوا چلتی ہے اور یہ ذرّہ اپنی سمت بھول جاتا ہے۔ کبھی اپنے آپ کو ایک قطرہ سمجھا جو اپنی ہستی پر نازاں تھا، مگر جب نگاہ سمندر کی وسعت پر پڑی تو معلوم ہوا کہ قطرہ اپنی حقیقت میں کچھ بھی نہیں، اصل عظمت تو اسی دریا کی ہے جس میں اس کی گم گشتگی ہی اس کی معراج ہے۔
میں نے خود کو شمع سمجھا تھا کہ شاید میں روشنی کا سرچشمہ ہوں، مگر جب حقیقت کی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ میں تو ایک پروانہ ہوں جو روشنی کے شوق میں اپنی ہی ہستی کو نذرِ آتش کر دیتا ہے۔ یہ بھی تیری ہی کرم نوازی ہے کہ جلنے میں بھی ایک لذت ہے اور مٹنے میں بھی ایک رازِ بقا پوشیدہ ہے۔
اے میرے رب! میں نے تجھے آوازوں کے ہجوم میں تلاش کیا، قافلوں کی گرد میں ڈھونڈا اور زمانے کے شور میں تیرا سراغ چاہا؛ مگر جب دل تھک کر خاموش ہوا اور نفس کی شوریدہ موجیں ساکت ہوئیں، تب اس خاموشی کے عالم میں تیری آہٹ سنائی دی۔ تب معلوم ہوا کہ تو دور نہیں تھا، پردہ صرف میری اپنی غفلت کا تھا۔
میں نے دنیا کے آئینوں میں اپنا عکس دیکھا اور اسی کو حقیقت سمجھتا رہا، مگر جب ایک لمحے کو وہ آئینہ تیری تجلی کی روشنی سے روشن ہوا تو حقیقت آشکار ہوئی کہ جو کچھ دکھائی دیتا تھا وہ محض فریبِ نظر تھا؛ حقیقت صرف تُو تھا اور تُو ہی ہے۔
تو نے مجھے زمین پر بسایا، مگر میرے دل میں آسمان کی آرزو رکھ دی۔ تو نے مجھے الفاظ کی دولت عطا کی، مگر تیری قربت کا سراغ خاموشی میں ملا۔ تو نے مجھے زندگی بخشی، مگر اس زندگی کے پردے میں فنا کا راز بھی رکھ دیا، تاکہ بندہ جان لے کہ بقا کا در اصل راستہ اسی فنا سے ہو کر گزرتا ہے۔
اے ربِّ رحیم! میری دعائیں لرزتے ہاتھوں میں سمٹی ہوئی ہیں اور میری امیدیں دل کی دھڑکنوں کے ساتھ کانپ رہی ہیں۔ میں فانی ہوں اور تُو باقی۔ میں سوال ہوں اور تُو جواب۔ میں محتاج ہوں اور تُو بے نیاز۔ میری بندگی کا سرمایہ کچھ بھی نہیں، مگر تیری ایک نگاہِ کرم میری پوری زندگی کا حاصل بن سکتی ہے۔
اے میرے پروردگار! میرے دل کے اندھیروں میں اپنی ہدایت کا چراغ روشن کر دے۔ میرے قدموں کو بھٹکتی راہوں سے اٹھا کر اپنی رضا کی شاہراہ پر جما دے۔ اور مجھے وہ ساعت نصیب کر دے جس میں بندہ اپنی ہستی کو تیرے حضور مٹا کر تیری قربت میں ایسی زندگی پا لے جسے نہ زمانہ فنا کر سکے اور نہ موت چھین سکے

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top