(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
نسانی وجود کی کہانی ایک ایسے سفر کی حکایت ہے جس کا پہلا قدم ہی اپنے اختتام کی طرف اٹھتا ہے۔ بظاہر زندگی ہمیں ایک قائم حقیقت محسوس ہوتی ہے اور موت اس کی ضد دکھائی دیتی ہے، مگر جب شعور ظواہر کی سطح سے نیچے اتر کر حقیقت کے باطن میں جھانکتا ہے تو یہ دونوں متضاد نہیں رہتے۔ وہ ایک ہی مسلسل عمل کے دو نام بن جاتے ہیں۔ جسے ہم زندگی کہتے ہیں وہ دراصل فنا کے وسیع افق پر ابھرنے والی ایک عارضی لہر ہے، ایک ایسا نقش جو بنتے ہی مٹنے کی سمت بڑھنے لگتا ہے۔
انسان وقت کو اکثر ایک بہتے ہوئے دریا کی طرح دیکھتا ہے جس میں زندگی اپنی کشتی لیے آگے بڑھ رہی ہوتی ہے، مگر حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے۔ وقت ایک خاموش ریت گھڑی کی مانند ہے۔ اس کا اوپری حصہ ہر لمحہ خالی ہو رہا ہے اور نچلا حصہ بھر رہا ہے۔ انسان جب پہلی سانس لیتا ہے تو وہ اپنی مہلت کا پہلا ذرہ خرچ کر دیتا ہے۔ ہر گزرتا لمحہ بظاہر عمر میں اضافہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ زندگی کے سرمائے میں کمی کا اعلان ہوتا ہے۔
یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ انسان آگے بڑھنے کو کامیابی سمجھتا ہے، حالانکہ وجود کی گہری منطق میں آگے بڑھنا دراصل واپسی کے قریب ہونا ہے۔ زندگی محض حرکت نہیں بلکہ ایک تدریجی واپسی ہے۔ انسان زمین پر جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی اس مرکز کے قریب پہنچتا جاتا ہے جہاں سے اس کی ہستی نے ابتدا کی تھی۔
اسی زاویے سے دیکھا جائے تو انسانی جدوجہد کی ساری رنگینیاں ایک نئی معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ انسان شہر آباد کرتا ہے، تہذیبیں تعمیر کرتا ہے، علم اور فن کے چراغ روشن کرتا ہے اور تاریخ کے صفحات پر اپنا نام چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ بظاہر یہ سب بقا کی خواہش کے مظاہر ہیں، مگر حقیقت میں یہ سب اس مختصر مہلت کو معنی دینے کی کوششیں ہیں جو اسے فنا سے پہلے عطا ہوئی ہے۔
موت کو اکثر ایک اچانک واقعہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ وہ زندگی کے ساتھ ساتھ خاموشی سے بڑھتی رہتی ہے۔ جس طرح شام اچانک نہیں اترتی بلکہ آہستہ آہستہ ڈھلتی ہوئی روشنی کی تکمیل ہوتی ہے، اسی طرح موت بھی زندگی کے بہاؤ کا آخری کنارہ ہے۔ وہ زندگی کے باہر سے نہیں آتی بلکہ اسی کے اندر بتدریج جنم لیتی رہتی ہے۔
یہ ادراک بظاہر ایک تلخ سچائی معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہی شعور انسان کو ایک بلند فکری مقام عطا کرتا ہے۔ جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ زندگی دائمی قیام نہیں بلکہ ایک محدود مہلت ہے تو اس کے اندر حرص کی شدت کم ہونے لگتی ہے اور انا کی دیواریں نرم پڑنے لگتی ہیں۔ پھر وہ زندگی کو محض گزارنے کی چیز نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک امانت کے طور پر دیکھنے لگتا ہے جس کے ہر لمحے میں ایک معنی پوشیدہ ہے۔
اسی مقام پر وجود کی کشمکش ایک عجیب وقار اختیار کر لیتی ہے۔ انسان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ کائنات کے اس وسیع منظرنامے میں اس کا کردار اگرچہ مختصر ہے، مگر اس کی خوبصورتی اسی اختصار میں ہے۔ زندگی کی اصل قدر اس کی طوالت میں نہیں بلکہ اس آگہی میں ہے جس کے ساتھ انسان اسے جیتا ہے۔
انسان ایک شمع کی مانند ہے۔ اس کا مقصد محفل کو روشن کرنا ہے، مگر اس کی روشنی کا ہر لمحہ اس کے وجود کو بھی آہستہ آہستہ پگھلاتا رہتا ہے۔ اگر شمع نہ جلے تو روشنی پیدا نہیں ہوتی اور اگر روشنی ہو تو موم کا پگھلنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہی وجود کا حسن ہے کہ اس کی روشنی اور اس کا زوال ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
اسی لیے زندگی کو ٹھہراؤ نہیں بلکہ گزرگاہ سمجھنا چاہیے۔ ہم اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ ایک مرحلہ طے کرنے کے لیے آتے ہیں۔ مگر اسی گزرنے کے عمل میں وہ جمال پوشیدہ ہے جو انسان کو محض مٹی کا پیکر نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے شعور کی ایک روشن علامت بنا دیتا ہے۔
یوں وجود کا زوال دراصل وجود کی تکمیل ہے، کیونکہ فنا کے بغیر بقا کا تصور ممکن نہیں اور اختتام کے بغیر آغاز کی معنویت بھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہی وہ راز ہے جو زندگی کو محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک گہرا تجربہ بنا دیتا ہے، ایک ایسا سفر جو بظاہر ناتمام ہے مگر اپنے اندر ایک مکمل معنی سمیٹے ہوئے ہے
