بھوک کا شعور

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

بھوک معدے کی صدا نہیں، یہ روح کے اندر اٹھنے والی ایک خام قوت ہے ، ایسی قوت جو اگر بے سمت ہو جائے تو انسان کو خود اسی کا لقمہ بنا دیتی ہے۔ اندھی بھوک صرف روٹی نہیں مانگتی، وہ وقار، اصول اور معنی بھی نگل لیتی ہے۔ اس کی آنکھوں پر جب خواہش کی پٹی بندھ جائے تو حلال و حرام، درست و نادرست، سب ایک دھند میں گم ہو جاتے ہیں، اور آدمی جیتے جی اپنی ہی قدروقیمت کھو بیٹھتا ہے۔
مگر یہی بھوک، جب آنکھ کھول لے، جب اس میں ناحق سے منہ موڑ لینے کی سکت پیدا ہو جائے، تو محض طلب نہیں رہتی تربیت بن جاتی ہے۔ وہ انسان کو جھکانا نہیں سکھاتی بلکہ سنبھلنا سکھاتی ہے۔ ایسی بھوک ہاتھ پھیلا کر جینے کی بجائے ہاتھ روک کر جینے کا ہنر دیتی ہے۔ وہ خودداری کی زبان سیکھ لیتی ہے اور انسان کو یہ شعور عطا کرتی ہے کہ ہر حاصل ہونے والی چیز ضروری نہیں، اور ہر چھوڑ دی جانے والی چیز خسارہ نہیں ہوتی۔
اصل خرابی بھوک میں نہیں، بے لگام سمت میں ہے۔ کیونکہ بھوک تو زندگی کی حرارت ہے، آگ ہے اور آگ اگر قابو میں ہو تو چراغ بن جاتی ہے، ورنہ سب کچھ جلا ڈالتی ہے۔ جس دن انسان اپنی بھوک کو مقصد دے دیتا ہے، اس دن وہ محتاج نہیں رہتا، کفیل بن جاتا ہے ، خود اپنا بھی، اور اپنے ضمیر کا بھی۔
یوں بھوک نہ نیکی ہے نہ بدی، یہ تو ایک آئینہ ہے۔ جو اندر ہے، وہی اس میں جھلکتا ہے۔ اگر اندر حرص ہو تو بھوک زوال لکھتی ہے، اور اگر اندر شعور ہو تو یہی بھوک کمال کی دستک بن جاتی ہے۔ انسان کا امتحان بھوکا ہونا نہیں، بلکہ بھوک کے ساتھ انسان رہنا ہے

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top