خالی کرسی کی گواہی

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

اس کمرے میں سب کچھ موجود تھا،
صرف وہ نہیں تھا جس کی غیر موجودگی نے اس کمرے کو ایک مکمل کہانی بنا دیا تھا۔
کھڑکی کے پردے اب بھی اسی طرح ہلتے تھے جیسے کسی کے آنے کی خبر دینا چاہتے ہوں۔ دیوار پر لگی گھڑی اب بھی وقت کا حساب رکھتی تھی، مگر اس کمرے میں وقت گزرتا نہیں تھا؛ وہ کسی پرانی یاد کے ایک لمحے میں ٹھہر گیا تھا۔
میز پر رکھی ہوئی کتاب کے چند صفحات کھلے تھے۔
ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے ابھی ابھی پڑھنا چھوڑا ہو اور واپس آ کر وہیں سے سلسلہ جوڑنا ہو۔
مگر کچھ کہانیاں دوبارہ شروع ہونے کے لیے نہیں ہوتیں۔
وہ صرف ادھوری رہ جانے کے لیے لکھی جاتی ہیں۔
کمرے کے ایک کونے میں رکھی وہ کرسی سب سے زیادہ آباد تھی۔
عجیب بات تھی کہ اس پر کوئی بیٹھتا نہیں تھا، پھر بھی وہاں کسی کی موجودگی محسوس ہوتی تھی۔
جیسے کوئی ابھی اٹھ کر گیا ہو، مگر اپنی خاموشی وہیں چھوڑ گیا ہو۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ خالی جگہیں صرف کمی کا نام ہیں، مگر وہ نہیں جانتے کہ کچھ خالی جگہیں اپنے اندر پوری دنیا آباد رکھتی ہیں۔
وہاں یادیں سانس لیتی ہیں، سوال پلتے ہیں، اور کچھ نام ایسے محفوظ رہتے ہیں جنہیں وقت بھی مٹا نہیں پاتا۔
اس کمرے میں بھی ایک نام رہتا تھا۔
ایک ایسا نام جسے کبھی پکارا نہیں جاتا تھا، مگر ہر خاموشی اسی کی آواز بن جاتی تھی۔
وہ شخص کبھی کہا کرتا تھا:
“کچھ ملاقاتیں وقت پر نہیں ہوتیں، وہ صرف یاد بن کر مکمل ہوتی ہیں۔”
تب کسی نے اس بات پر غور نہیں کیا تھا۔
کون جانتا تھا کہ ایک دن یہی جملہ اس کمرے کی دیواروں پر لکھی ہوئی سب سے بڑی حقیقت بن جائے گا۔
وہ چلا گیا تھا۔
نہ کوئی شکایت، نہ کوئی آخری شکوہ، نہ کوئی ایسا جملہ جسے پکڑ کر اسے روکا جا سکتا۔
بس ایک دن اس کی آواز کم ہو گئی، قدموں کی چاپ مدھم پڑ گئی، اور پھر کمرے میں اس کی غیر موجودگی نے اپنی جگہ بنا لی۔
شروع میں سب نے سوچا، وقت گزر جائے گا۔
مگر وقت نے بھی عجیب رویہ اختیار کیا۔
وہ زخم بھرنے کے بجائے یادوں کی تہیں گہری کرتا گیا۔
کبھی کسی خوشبو کے گزرنے سے وہ یاد آتا، کبھی کسی پرانے لفظ سے، کبھی شام کے اس لمحے میں جب سورج ڈوبنے لگتا اور کمرے میں روشنی کم ہو جاتی۔
تب محسوس ہوتا کہ کچھ لوگ جاتے نہیں، صرف نظر آنا چھوڑ دیتے ہیں۔
وہ شخص بھی کہیں گیا نہیں تھا۔
وہ اب اس کتاب کے خاموش صفحوں میں تھا، ان دیواروں کی نمی میں تھا، اس کھڑکی سے آنے والی ہوا میں تھا، اور سب سے بڑھ کر اس خالی کرسی پر بیٹھا تھا۔
سال گزرتے گئے۔
ایک دن وہ شخص واپس آیا۔
وہی دروازہ تھا، وہی کمرہ، وہی خاموشی۔
مگر کچھ بدل گیا تھا۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا اور آہستہ سے کہا:
“وہ کہاں ہے؟”
کمرہ خاموش رہا۔
پھر جیسے دیواروں نے جواب دیا:
“وہ جس کا تم انتظار کر رہے ہو، وہ تو بہت پہلے چلا گیا۔”
اس نے حیرت سے پوچھا:
“مگر میں تو اس سے ملنے آیا تھا۔”
خاموشی نے کہا:
“نہیں…
تم اس سے ملنے نہیں آئے، تم اس احساس سے ملنے آئے ہو جو اس کی موجودگی میں تمہارے پاس تھا اور جس کی قدر تم نے اس کے جانے کے بعد جانی۔”
وہ آہستہ آہستہ اس خالی کرسی کے قریب گیا۔
کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔
پھر پہلی بار اسے احساس ہوا کہ بعض کرسیاں خالی نہیں ہوتیں، وہ اپنے اندر کسی انسان کا انتظار، کسی کی محبت اور کسی کی پوری زندگی سنبھالے رکھتی ہیں۔
وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
اور عجیب بات یہ تھی کہ آج پہلی بار کمرہ مکمل محسوس ہوا۔
مگر یہ تکمیل بھی کتنی اداس تھی۔
کیونکہ کچھ ملاقاتیں سامنے بیٹھ کر نہیں ہوتیں، وہ اس وقت ہوتی ہیں جب سامنے والا موجود نہیں ہوتا۔
اس دن اسے معلوم ہوا کہ ہر کہانی کا سب سے المناک باب موت نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی سب سے بڑا المیہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب کوئی شخص پوری زندگی تم تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، تمہیں سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، تمہارے لیے ایک جگہ محفوظ رکھتا رہتا ہے…
اور تم اسے اس وقت سمجھتے ہو جب اس کی آواز باقی نہیں رہتی، صرف اس کی غیر موجودگی باقی رہ جاتی ہے۔
اس نے آخری بار کمرے کو دیکھا۔
وہی دیواریں، وہی کھڑکی، وہی خاموشی۔
صرف فرق یہ تھا کہ پہلے یہ کمرہ کسی کے انتظار میں تھا،
اور اب یہ کسی کی یاد میں تھا۔
تب خالی کرسی نے پہلی بار گواہی دی:
“کچھ لوگ زندگی میں آ کر نہیں،
بلکہ نہ آ کر ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔”
اور پھر کمرے میں ایک ایسی خاموشی اتر آئی جس میں ایک مکمل ملاقات چھپی ہوئی تھی۔
ایک ایسی ملاقات…
جس میں کوئی موجود نہیں تھا۔
مگر سب کچھ موجود تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top