(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
“تم نے کبھی پلٹ کر مجھے ڈھونڈا؟”
اس نے سوال نہیں کیا تھا، جیسے برسوں سے اپنے اندر رکھی ہوئی ایک سانس باہر نکالی ہو۔
میں نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔
“کیوں؟”
“اس لیے کہ جو چیز اللہ مجھ سے لے لے، اسے انسانوں کے دروازوں پر مانگنا مجھے کبھی نہیں آیا۔”
وہ دیر تک خاموش رہی۔
پھر اس کی نظریں آسمان کی طرف اٹھیں، جیسے وہاں کوئی پرانا حساب لکھا ہو۔
“میں نے تمہارے لیے بہت رویا تھا۔”
“معلوم ہے۔”
“پھر بھی تم نہ آئے۔”
“کیونکہ بعض واپسیوں سے زیادہ مہنگی کوئی جدائی نہیں ہوتی۔”
اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔
“تم بدل گئے ہو۔”
“نہیں… میں ٹوٹ گیا ہوں۔ بدلنے اور ٹوٹنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔”
ہوا کا ایک جھونکا آیا۔
درخت سے ایک سوکھا پتہ ٹوٹا اور ہمارے درمیان آ گرا۔
ہم دونوں نے اسے دیکھا، مگر کسی نے اٹھایا نہیں۔
کچھ دیر بعد وہ آہستہ سے بولی۔
“جانتے ہو… میں نے تمہیں کبھی بددعا نہیں دی۔”
میں ہنس پڑا۔
“کیوں؟”
“اس لیے کہ میں جانتی تھی، جو انسان اپنے نصیب کے خلاف چل پڑے، اس کے لیے کسی دشمن کی دعا یا بددعا کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کے قدم ہی اس کا فیصلہ لکھ دیتے ہیں۔”
نجانے کیوں اس جملے کے بعد میرے اندر بہت شور اٹھا۔
پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ انسان گناہ سے پہلے نہیں ٹوٹتا… وہ اس لمحے ٹوٹتا ہے جب اس کا دل، رب کے حکم سے زیادہ اپنی خواہش پر یقین کرنے لگتا ہے۔
ہم دونوں پھر خاموش تھے۔
اس خاموشی میں نہ محبت باقی تھی، نہ شکوہ۔
صرف ایک ایسا سناٹا تھا جو شاید فرشتے بھی سن سکتے تھے۔
وہ جانے کے لیے مڑی، پھر اچانک رکی۔
بغیر میری طرف دیکھے بولی:
“ایک بات پوچھوں؟”
“پوچھو۔”
“اگر وقت پلٹ آئے… تو کیا اس بار بھی وہی راستہ چنو گے؟”
میں نے بہت دیر بعد جواب دیا۔
“نہیں…”
وہ پہلی بار مسکرائی۔
مگر میری اگلی بات سن کر اس کی آنکھوں میں برسوں کا پانی اتر آیا۔
“اس بار میں راستہ نہیں چنوں گا… پہلے اپنے رب کو چنوں گا، پھر وہ جہاں لے جائے گا، وہی میری منزل ہوگی۔”
وہ چلی گئی۔
میں دیر تک اسی جگہ کھڑا رہا۔
اس دن مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض لوگ ہماری زندگی سے اس لیے نہیں جاتے کہ وہ بےوفا ہوتے ہیں؛ وہ اس لیے چلے جاتے ہیں تاکہ ہمیں یہ یاد آ جائے کہ محبت اگر خالق سے آگے نکل جائے تو آخرکار عبادت نہیں رہتی، آزمائش بن جاتی ہے۔
اس رات میں نے بہت دیر تک سجدہ کیا۔
اور عجیب بات یہ تھی…
میں اس شخص کے لیے دعا بھی نہیں کر سکا جسے کبھی اپنی ہر دعا کا مرکز بنایا تھا۔
