(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
شہر کے کنارے ایک بوڑھا چراغ ساز رہتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے ہاتھوں میں مٹی نہیں، روشنی نرم ہو کر اترتی ہے۔ وہ جب شیشہ تراشتا تو یوں لگتا جیسے ہوا کو شکل دے رہا ہو، اور جب چراغ بناتا تو محسوس ہوتا کہ اندھیرا اپنی شکست کا اعلان خود لکھ رہا ہے۔
مگر اس کی زندگی میں ایک عجیب ضد تھی۔
وہ ہر چراغ بیچ دیتا، مگر ایک چراغ ہمیشہ اپنے پاس رکھتا۔ برسوں تک اس نے اس چراغ کو مکمل نہیں ہونے دیا۔ کبھی اس کی گردن بدل دیتا، کبھی شیشے کی تراش، کبھی روغن کا رنگ، کبھی بتی کی موٹائی۔ لوگ ہنستے کہ ایک چراغ میں پوری عمر کیوں ضائع کر رہا ہے؟
وہ صرف مسکرا دیتا۔
وقت گزرتا رہا۔ اس کے بال برف ہو گئے، ہاتھوں کی رگیں ابھر آئیں، مگر اس کی آنکھوں میں وہی ادھورا چراغ جلتا رہا۔
پھر ایک صبح، جب خزاں کا پہلا پتہ زمین پر گرا، اس نے چراغ مکمل کر لیا۔
اس رات شہر میں پہلی بار وہ چراغ روشن ہوا۔
کسی نے نہیں دیکھا کہ اس کی لو کتنی اونچی تھی، مگر ہر شخص نے محسوس کیا کہ اندھیرا پہلے جیسا نہیں رہا۔ دیواریں نرم پڑ گئی تھیں، خاموشیاں بولنے لگی تھیں، اور لوگوں کو یوں محسوس ہوا جیسے برسوں بعد انہوں نے اپنے گھروں کو پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔
صبح تک چراغ کی خبر سلطنتوں میں پھیل چکی تھی۔ بادشاہوں نے اسے خریدنے کی پیشکش کی، اہلِ ذوق نے اسے فن کا معراج کہا، فلسفیوں نے اس پر کتابیں لکھیں، شاعروں نے اس کے لیے نظمیں کہیں۔
لیکن چراغ ساز… غائب تھا۔
کئی دن بعد وہ دریا کے کنارے ملا۔
نہ اس کے ہاتھ میں اوزار تھے، نہ آنکھوں میں وہ روشنی جو کبھی شیشے کے ذروں سے باتیں کیا کرتی تھی۔ وہ پانی کی سطح پر کنکریاں پھینکتا رہتا اور ہر بنتے ہوئے دائرے کو ایسے دیکھتا جیسے وہ بھی ادھورا رہ گیا ہو۔
کسی نے پوچھا:
“تم نے وہ چراغ کیوں چھوڑ دیا؟”
اس نے بہت دیر خاموش رہنے کے بعد کہا:
“چراغ تو میں نے نہیں بنایا… وہ تو برسوں سے میرے اندر جل رہا تھا۔ میں نے صرف اسے باہر منتقل کیا ہے۔”
پھر وہ خاموش ہو گیا۔
اس دن پہلی بار لوگوں کو احساس ہوا کہ بعض فن پارے پتھر، شیشے یا لفظوں سے نہیں بنتے؛ وہ تخلیق کار کی عمر سے بنتے ہیں۔
اس نے چراغ نہیں تراشا تھا، اس نے اپنی صبحیں، اپنی راتیں، اپنی جوانی، اپنی ہنسی، اپنی نیند، اپنی امیدیں… سب پگھلا کر اس میں انڈیل دی تھیں۔
اور جب آخری قطرہ بھی چراغ میں اتر گیا تو اس کے اندر جلنے کے لیے کچھ باقی نہ رہا۔
اس کے بعد وہ زندہ تو بہت برس رہا، مگر اس کی زندگی اس درخت جیسی تھی جس نے اپنا آخری پھل دے دیا ہو۔ جڑیں مٹی میں تھیں، مگر موسم اب اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔
لوگ اب بھی اس چراغ کو دیکھنے آتے ہیں۔
چراغ آج بھی روشن ہے۔
مگر کوئی نہیں جانتا کہ اس کی روشنی دراصل ایک آدمی کی باقی ماندہ زندگی ہے، جو آج بھی آہستہ آہستہ جل رہی ہے۔
شاید تخلیق کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ دنیا جس لمحے فن پارے پر تالیاں بجانا شروع کرتی ہے، عین اسی لمحے تخلیق کار کے اندر ایک ایسی خاموش قبر بن چکی ہوتی ہے جس میں اس کا سب سے خوبصورت حصہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے۔
