آخری دروازہ

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ساور ان لوگوں میں سے تھا جنہیں دنیا کامیاب کہتی ہے۔ اس کی زندگی میں وہ سب کچھ موجود تھا جسے حاصل کرنے کے لیے لوگ عمریں کھپا دیتے ہیں۔ دولت اس کے اشاروں کی تابع تھی، اختیار اس کے دروازے پر دستک دیتا تھا، اور شہرت اس کے نام کے ساتھ ایسے چلتی تھی جیسے سایہ جسم کے ساتھ چلتا ہے۔ مگر ہر رات جب شہر کی روشنیاں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگاتیں اور بلند عمارتوں کے شیشے آسمان کے ستاروں سے مقابلہ کرتے، ساور کے اندر ایک ایسی خاموشی جنم لیتی جو کسی ویران قبرستان سے بھی زیادہ خوفناک ہوتی۔ وہ جتنا باہر آباد تھا، اتنا ہی اندر اجڑا ہوا تھا۔ اسے محسوس ہوتا جیسے اس کے وجود کے بیچوں بیچ ایک ایسا کمرہ ہے جو کبھی کسی نے کھولا ہی نہیں۔
ایک رات وہ بے مقصد شہر کی گلیوں میں نکل آیا۔ بارش ابھی تھمی تھی۔ سڑکیں بھیگی ہوئی تھیں اور روشنیوں کے عکس پانی میں لرز رہے تھے۔ چلتے چلتے وہ شہر کے ایک ایسے حصے میں پہنچ گیا جہاں پرانی عمارتیں وقت کی تھکن اپنے کندھوں پر اٹھائے کھڑی تھیں۔ انہی عمارتوں کے درمیان ایک دروازہ تھا۔ نہ وہ بہت بڑا تھا، نہ بہت چھوٹا، مگر اس کی خاموشی باقی تمام دروازوں سے مختلف تھی۔ اس پر کوئی نقش و نگار نہ تھا، صرف ایک جملہ کندہ تھا: “جو اپنے آپ کو ڈھونڈنے آئے، وہ اکیلا داخل ہو۔”
ساور دیر تک اس عبارت کو دیکھتا رہا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ اس کے قدم کیوں رک گئے ہیں، مگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے برسوں سے کوئی انجانی قوت اسے اسی دروازے تک بلا رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو سامنے ایک طویل راہداری تھی۔ راہداری کے دونوں طرف بے شمار کمرے تھے۔ ہر کمرے کے دروازے پر ایک لفظ لکھا تھا۔ کہیں “اقتدار”، کہیں “دولت”، کہیں “شہرت”، کہیں “محبت”، کہیں “علم”، کہیں “زہد”، کہیں “عبادت”۔ ساور نے پہلا دروازہ کھولا تو اندر صرف ایک آئینہ تھا۔ اس آئینے میں وہ خود کو ایک فاتح بادشاہ کی صورت دیکھ رہا تھا۔ دوسرے کمرے میں گیا تو وہ ایک محبوب شاعر دکھائی دیا۔ تیسرے میں ایک بزرگ، چوتھے میں ایک مظلوم، پانچویں میں ایک ایسا شخص جسے پوری دنیا سراہ رہی تھی۔ ہر آئینہ اس کی کوئی نہ کوئی خواہش، کوئی نہ کوئی پہچان، کوئی نہ کوئی خواب واپس اس کے سامنے لا کھڑا کرتا تھا۔
وہ حیران تھا کہ ان تمام چہروں میں سے اصل کون سا ہے۔ اتنے میں راہداری کے آخری سرے پر ایک بوڑھا شخص نظر آیا۔ وہ نہ فقیر لگتا تھا، نہ عالم، نہ بادشاہ۔ اس کی آنکھوں میں ایسی خاموشی تھی جس میں سوال بھی تھے اور جواب بھی۔ ساور اس کے قریب جا کر رک گیا۔ بوڑھے نے اس کی طرف دیکھ کر کہا، “تم جن آئینوں کو دیکھتے آئے ہو، وہ تم نہیں تھے۔ وہ صرف وہ لباس تھے جو تم نے زندگی بھر پہنے۔ انسان اپنی خواہشوں کے مطابق چہرے بدلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن اپنا اصل چہرہ بھول جاتا ہے۔”
ساور نے بے اختیار پوچھا، “اگر یہ سب میں نہیں ہوں، تو پھر میں کون ہوں؟”
بوڑھے نے راہداری کے اختتام پر موجود ایک سادہ سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ اس پر کوئی نام نہیں لکھا تھا۔ نہ رنگ تھا، نہ نقش، نہ زینت۔ صرف خاموشی۔ “اگر ہمت ہے تو اسے کھولو، مگر یاد رکھنا، اس کے بعد تم وہ نہیں رہو گے جو ابھی ہو۔”
ساور نے دروازہ کھولا۔ اندر نہ کوئی روشنی تھی، نہ اندھیرا۔ نہ کوئی آواز تھی، نہ مکمل سکوت۔ وہ ایسی کیفیت تھی جسے الفاظ کبھی بیان نہیں کر سکتے۔ وہاں کوئی آئینہ بھی نہیں تھا۔ پہلی بار اس کے سامنے کوئی تصویر موجود نہ تھی۔ وہ دیر تک کھڑا رہا۔ پھر اسے احساس ہوا کہ وہ پوری زندگی دوسروں کی نظروں میں اپنی تصویر بناتا رہا، مگر کبھی اس نے یہ نہیں دیکھا کہ تصویر دیکھنے والا کون ہے۔ اسی لمحے اس کے اندر برسوں سے جمع ہونے والا شور آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگا۔ خواہشیں ختم نہیں ہوئیں، مگر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ خوف مٹا نہیں، مگر اس کی حکومت ختم ہو گئی۔ کامیابی باقی رہی، مگر اس کی غلامی ختم ہو گئی۔
جب ساور واپس شہر میں لوٹا تو شہر ویسا ہی تھا۔ بازاروں میں ہجوم تھا، دفاتر میں سودے ہو رہے تھے، سڑکوں پر شور تھا، اور لوگ پہلے کی طرح دوڑ رہے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے وہ دنیا کو اپنے اندر بھرنے نکلا تھا، اب وہ اپنے اندر کی وسعت لے کر دنیا میں چل رہا تھا۔ اس نے کاروبار بھی کیا، فیصلے بھی کیے، محبت بھی کی، نقصان بھی اٹھایا اور کامیابیاں بھی سمیٹیں، مگر اب کسی چیز نے اس کی روح پر قبضہ نہ کیا۔ اس نے جان لیا تھا کہ دنیا کو چھوڑ دینا آزادی نہیں، دنیا کے درمیان رہ کر اپنے دل کو آزاد رکھنا ہی اصل آزادی ہے۔
وقت گزرتا رہا۔ لوگ اس میں ایک عجیب تبدیلی محسوس کرتے تھے۔ وہ پہلے سے زیادہ خاموش تھا، مگر اس کی خاموشی بوجھ نہیں بلکہ سکون بن چکی تھی۔ پہلے اس کے پاس جواب بہت تھے اور سوال کم، اب سوال زیادہ تھے مگر بے چینی کم تھی۔ لوگ اس سے راز پوچھتے تو وہ صرف اتنا کہتا، “انسان کی سب سے بڑی قید خواہش نہیں، خواہش کے ساتھ اپنی شناخت جوڑ لینا ہے۔ جس دن تم جان لو گے کہ تم اپنی دولت، شہرت، عبادت، علم یا ناکامی میں سے کوئی بھی نہیں ہو، اسی دن تمہارے اندر کا آخری دروازہ کھل جائے گا۔”
اور شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کائنات کے تمام راستے آخرکار کسی شہر، کسی پہاڑ یا کسی جنگل کی طرف نہیں جاتے، بلکہ انسان کے اپنے باطن میں کھلنے والے اسی آخری دروازے تک پہنچتے ہیں، جہاں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ منزل کبھی باہر تھی ہی نہیں، وہ ہمیشہ سے انسان کے اپنے وجود کے اندر خاموش بیٹھی اس کے پلٹ آنے کی منتظر تھی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top