(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کہتے ہیں دنیا کے تمام نقشے ایک وادی پر آ کر ختم ہو جاتے تھے؛ اس کے آگے صرف خاموشی کا جغرافیہ شروع ہوتا تھا۔
وہاں پہنچنے والے مسافر بولنا نہیں بھولتے تھے، مگر انہیں جلد معلوم ہو جاتا تھا کہ اس وادی میں زبان کسی کام کی نہیں۔ یہاں ہر شخص کے گرد ایک غیر مرئی فضا تھی، اور اس فضا میں اس کی پوری زندگی لکھی ہوئی تھی۔ جو پڑھنا جانتا، اسے لفظوں کی ضرورت نہ رہتی۔
اس وادی کا ایک محافظ تھا۔
کوئی نہیں جانتا تھا وہ کب سے وہاں تھا۔ اس کے بال برف کی طرح سفید تھے، مگر آنکھوں میں ایسی تازگی تھی جیسے ابھی کسی بچے نے پہلی بار دنیا دیکھی ہو۔
لوگ اسے فقیر سمجھتے، بعض دیوانہ کہتے، مگر مسافر جب اس کے قریب سے گزرتے تو عجیب ہلکا پن محسوس کرتے، جیسے برسوں سے اٹھایا ہوا کوئی بوجھ کسی نے خاموشی سے ان کے کندھوں سے اتار دیا ہو۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ کسی سے سوال نہیں کرتا تھا۔
وہ صرف دیکھتا تھا۔
کبھی کسی کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ، کبھی چلتے قدموں کی بے ترتیبی، کبھی مسکراہٹ کے کنارے پر لرزتی ہوئی تھکن۔
پھر وہ آہستہ سے سر جھکا لیتا، گویا کسی ان دیکھی کتاب کا ایک اور ورق پڑھ لیا ہو۔
ایک روز ایک نوجوان اس وادی میں آیا۔
اس نے اعلان کیا کہ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کی تلاش میں نکلا ہے۔
اس نے محافظ سے کہا،
“مجھے بتائیے، انسان سب سے زیادہ کیا چھپاتا ہے؟”
بوڑھا مسکرایا۔
پہلی بار اس نے جواب دیا۔
“وہ بات نہیں جسے وہ کہہ نہیں پاتا، بلکہ وہ وجود جسے وہ خود بھی کبھی پوری طرح نہیں جان پاتا۔”
نوجوان مطمئن نہ ہوا۔
وہ وادی میں چلتا رہا۔
اس نے دیکھا، لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ہنستے ہیں، گلے لگتے ہیں، مگر ان کے درمیان ایک باریک سا فاصلہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
گویا ہر روح اپنے گرد ایک بند دروازہ لیے پھرتی ہو۔
کئی دن بعد وہ پھر محافظ کے پاس آیا۔
اس بار اس نے پوچھا،
“اگر ہر دروازہ بند ہے تو محبت کیسے پیدا ہوتی ہے؟”
بوڑھے نے سامنے کھڑے دو سوکھے درختوں کی طرف اشارہ کیا۔
دونوں کی شاخیں ایک دوسرے سے بہت دور تھیں، مگر ان کی جڑیں زمین کے اندر کہیں جا کر ایک ہو چکی تھیں۔
“جو تعلق نظر آ جائے، وہ رشتہ نہیں ہوتا۔ رشتہ ہمیشہ وہاں بنتا ہے جہاں نگاہ کی رسائی ختم ہو جائے۔”
نوجوان دیر تک ان درختوں کو دیکھتا رہا۔
اس دن پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ زمین بھی خاموشی میں گفتگو کرتی ہے۔
وہ کئی مہینے اس وادی میں رہا۔
اس نے بولنا کم کر دیا۔
لوگوں کو سمجھانا چھوڑ دیا۔
صرف انہیں دیکھنا سیکھ لیا۔
ایک شام اس نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو دریا کے کنارے بیٹھی مسکرا رہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر چہرے پر سکون۔
نوجوان اس کے قریب جا بیٹھا۔
اس نے کچھ نہ پوچھا۔
بوڑھی نے بھی کچھ نہ کہا۔
کافی دیر بعد وہ اٹھ کر چلی گئی۔
اس لمحے نوجوان نے پہلی بار محسوس کیا کہ دو انسانوں کے درمیان سب سے سچا مکالمہ شاید وہ ہوتا ہے جس میں کوئی لفظ استعمال نہ ہو۔
جب وہ واپس محافظ کے پاس آیا تو بوڑھا وہاں موجود نہیں تھا۔
صرف اس کی لکڑی کی لاٹھی زمین پر رکھی تھی۔
اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا پتھر پڑا تھا جس پر صرف ایک جملہ کندہ تھا۔
“اب وادی کو محافظ کی ضرورت نہیں، ایک محرم کی ضرورت ہے۔”
اس دن نوجوان نے پہلی بار سمجھا کہ دکھ بانٹنے والے بہت ہوتے ہیں، مگر دکھ کی حرمت بچانے والے بہت کم۔
سالہا سال بعد مسافر اس وادی میں آنے لگے۔
اب وہاں ایک نیا بوڑھا بیٹھا ہوتا تھا۔
وہ بھی کسی سے سوال نہیں کرتا تھا۔
صرف لوگوں کی خاموشیوں کو سنتا تھا۔
عجیب بات یہ تھی کہ وہاں سے لوٹنے والوں کی زندگیاں ہمیشہ بدل جاتی تھیں، حالانکہ انہیں کبھی کوئی نصیحت نہیں دی جاتی تھی۔
شاید اس لیے کہ انسان کو بدلنے کے لیے ہمیشہ نئے لفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی صرف ایک ایسا دل کافی ہوتا ہے جو اس کے اندر صدیوں سے قید خاموشی کی آواز سن سکے۔
