کرائے کا آدمی

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ساور کو ایک عجیب عادت تھی۔ ہر صبح آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر وہ اپنا چہرہ دیکھتا اور اسے محسوس ہوتا کہ یہ چہرہ اس کا نہیں۔ آنکھیں اس کی تھیں، آواز بھی اس کی تھی، مگر اندر کوئی اور رہتا تھا۔ پہلے اس نے اس احساس کو تھکن سمجھا، پھر عمر کا اثر، مگر وقت کے ساتھ اسے یقین ہونے لگا کہ اس نے زندگی میں سب کچھ خریدا ہے، سوائے اپنے آپ کے۔
ایک شام شہر کے ایک پرانے کوچے میں اسے ایک شکستہ دکان دکھائی دی۔ تختی پر صرف اتنا لکھا تھا: “یہاں گمشدہ چیزیں ملتی ہیں۔”
وہ مسکرایا۔ اندر داخل ہوا تو ایک سفید ریش بوڑھا خاموش بیٹھا تھا۔
“کیا کھویا ہے؟” اس نے پوچھا۔
ساور نے جواب دیا، “شاید خود کو۔”
بوڑھے نے پہلی بار اس کی طرف غور سے دیکھا اور آہستہ سے بولا، “پھر تم غلط جگہ نہیں آئے، مگر دیر سے آئے ہو۔”
“کیا میرا وجود بھی کہیں رکھا ہوا ہے؟”
“وجود نہیں، اصل۔”
بوڑھا اٹھا، ایک پرانا رجسٹر کھولا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس میں ہزاروں نام درج تھے۔ ہر نام کے سامنے ایک مختصر جملہ لکھا تھا۔
“دولت کے بدلے خود کو دے گیا۔”
“تعریف کے بدلے اپنا سکون چھوڑ گیا۔”
“خوف کے عوض اپنی آزادی بیچ گیا۔”
ساور نے کانپتے ہاتھوں سے آخری صفحہ کھولا۔
وہاں اس کا اپنا نام لکھا تھا۔
اس کے سامنے صرف ایک سطر درج تھی:
“یہ شخص برسوں سے اپنی زندگی کرائے پر گزار رہا ہے۔”
ساور نے سر اٹھایا، مگر بوڑھا غائب تھا۔
دکان بھی نہیں تھی۔
صرف ایک بند دیوار تھی، جیسے وہاں کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔
اس دن کے بعد ساور نے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ نہ کاروبار، نہ شہر، نہ تعلقات۔
اس نے صرف ایک کام کیا۔
ہر وہ چیز واپس کرنا شروع کر دی جس کے بدلے اس نے اپنی ذات کا کوئی حصہ گروی رکھ دیا تھا۔
لوگوں نے کہا، “ساور بدل گیا ہے۔”
مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ پہلی بار بدلا نہیں تھا…
پہلی بار واپس آیا تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top