(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
بارود صرف زمین کو زخمی نہیں کرتا، وہ آسمان کی خاموشی کو بھی دھواں بنا دیتا ہے۔ جنگ صرف دیواریں نہیں گراتی، وہ خوابوں کی چھتیں بھی منہدم کر دیتی ہے۔ خون صرف انسان کے جسم سے نہیں بہتا، تہذیب کی رگوں سے بھی رسنے لگتا ہے۔ اور جب ایک معاشرہ دیر تک بارود کی بو میں سانس لیتا رہے تو سب سے پہلے اس کی حسِ جمال مرنے لگتی ہے۔
جگنو کبھی اندھیرے کے دشمن نہیں تھے؛ وہ اندھیرے کے اندر امید کے چھوٹے چھوٹے چراغ تھے۔ وہ ہمیں یہ سبق دیتے تھے کہ روشنی ہمیشہ سورج کے حجم کی محتاج نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک ننھی سی کرن بھی پوری رات کے خلاف اعلانِ بغاوت بن جاتی ہے۔
بارود کی ایک ہولناک عادت ہے؛ وہ صرف چراغ نہیں بجھاتا، وہ دلوں سے روشنی کا امکان بھی چھین لیتا ہے۔ اور جب روشنی کا امکان نہ رہے تو جگنو کبھی واپس نہیں آتے۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس نے جنگیں لڑیں، بلکہ یہ ہے کہ اس نے جنگوں کو تہذیب کا ناگزیر باب سمجھنا شروع کر دیا۔ جب تلوار کو دلیل، گولی کو زبان اور نفرت کو سیاست کا ہنر مان لیا جائے تو پھر بچے تتلیوں کے تعاقب کے بجائے دھماکوں کی آوازوں سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں پھول نہیں، خوف اگنے لگتا ہے۔ ان کی آنکھوں میں قوسِ قزح نہیں، دھوئیں کی تہیں اتر آتی ہیں۔
بارود ہمیشہ میدانوں میں نہیں پھٹتا۔ کبھی وہ لفظوں میں چھپا ہوتا ہے، کبھی نظریات میں، کبھی تعصب میں، کبھی مذہبی غرور میں، کبھی نسلی تفاخر میں، کبھی سیاسی انتقام میں، اور کبھی سوشل میڈیا کے شور میں۔ ایسے بارود کی آواز سنائی نہیں دیتی، مگر اس کی تباہی کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے، کیونکہ وہ عمارتوں سے پہلے انسان کے باطن کو کھنڈر بناتا ہے۔
کسی قوم کی پہچان اس کے ہتھیار نہیں، اس کے جگنو ہوتے ہیں۔ جگنو کون ہیں؟ وہ شاعر جو دلوں میں امید بوتے ہیں؛ وہ ادیب جو انسان کو اس کا چہرہ دکھاتے ہیں؛ وہ استاد جو سوال کرنا سکھاتے ہیں؛ وہ ماں جو نفرت کے بجائے محبت کی زبان بولتی ہے؛ وہ باپ جو رزق کے ساتھ کردار بھی کماتا ہے؛ وہ بچہ جو تتلی کے پیچھے بھاگتے ہوئے کسی پھول کو روندنے سے پہلے رک جاتا ہے۔ یہی جگنو تہذیب کی اصل روشنی ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے روشنی کو صرف بجلی سمجھ لیا ہے، حالانکہ اصل اندھیرا آنکھوں میں نہیں، ضمیر میں اترتا ہے۔ شہروں میں بلند عمارتیں، کشادہ شاہراہیں اور چمکتی روشنیاں بھی اس قوم کو مہذب نہیں بنا سکتیں جس کے دلوں سے رحم، حیا، برداشت اور حسن کا ذوق رخصت ہو جائے۔ تمدن کنکریٹ سے نہیں، کردار سے بنتا ہے۔
ادب اسی لیے ضروری ہے کہ وہ انسان کے اندر مرنے والے جگنوؤں کو زندہ کرتا ہے۔ شاعر جب پھول کی بات کرتا ہے تو وہ صرف نباتات کا ذکر نہیں کرتا، وہ انسان کے باطن میں اگنے والی لطافت کو بچاتا ہے۔ افسانہ نگار جب کسی ٹوٹے ہوئے کردار کی کہانی لکھتا ہے تو وہ دراصل ہمارے ٹوٹے ہوئے ضمیر کا نوحہ لکھ رہا ہوتا ہے۔ مصور جب رنگ بکھیرتا ہے تو وہ دیوار نہیں، انسان کے اندر کے موسم بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک مہذب معاشرہ اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں سکھاتا، خوبصورت ہونا بھی سکھاتا ہے۔ یہاں خوبصورتی چہرے کی نہیں، کردار کی ہے؛ لباس کی نہیں، اخلاق کی ہے؛ عمارتوں کی نہیں، رویّوں کی ہے۔ نیکی ہمیشہ حسین ہوتی ہے اور برائی ہمیشہ بدصورت۔ اسی لیے قرآن ہمیں احسان کی دعوت دیتا ہے، کیونکہ احسان، حسن کی بلند ترین صورت ہے۔
نفرت کی سب سے خطرناک بات یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو جلاتی ہے؛ اس کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ اپنے حامل کے اندر کے جگنو بھی مار دیتی ہے۔ جو شخص ہر وقت انتقام میں زندہ رہے، وہ کبھی محبت کے موسم نہیں دیکھ سکتا۔ جس دل میں کینہ آباد ہو جائے، وہاں تتلیاں نہیں اترتیں۔ وہاں صرف کانٹے اگتے ہیں، اور کانٹے کبھی باغ نہیں بناتے۔
آج انسان نے چاند تک رسائی حاصل کر لی ہے، مگر اپنے پڑوسی کے دل تک پہنچنے کا راستہ کھو بیٹھا ہے۔ اس نے مصنوعی ذہانت پیدا کر لی، مگر فطری دانائی گم کر دی۔ اس نے معلومات کے سمندر جمع کر لیے، مگر حکمت کا ایک چشمہ خشک ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے زمانے میں شور بہت ہے، مگر مکالمہ کم؛ رابطے بہت ہیں، مگر تعلق کم؛ آبادی بہت ہے، مگر انسان کم۔
دنیا کو اس وقت مزید بارود کی ضرورت نہیں۔ اسے مزید جگنو چاہیے۔ ایسے لوگ چاہیے جو نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولیں، شور کے عہد میں خاموشی کی حکمت سکھائیں، تعصب کے صحرا میں برداشت کے درخت لگائیں، اور خوف کی رات میں امید کے چراغ روشن کریں۔
کیونکہ قومیں صرف اسلحے سے محفوظ نہیں ہوتیں، حساس دلوں سے محفوظ ہوتی ہیں۔ تہذیبیں ایٹم بم سے نہیں، بچوں کی ہنسی سے زندہ رہتی ہیں۔ اور تاریخ کا سب سے روشن باب وہ نہیں ہوتا جس میں فتوحات لکھی جائیں، بلکہ وہ ہوتا ہے جس میں انسان نے انسان کو بچایا ہو۔
شاید اسی لیے آج بھی میرا سب سے بڑا خواب کسی نئے ہتھیار کی ایجاد نہیں، بلکہ ایسے معاشرے کی تعمیر ہے جہاں شام ڈھلے پھر سے جگنو نکلیں، تتلیاں بے خوف پھولوں پر اتریں، بچے آسمان کو دھوئیں کے بغیر دیکھ سکیں، اور انسان ایک دوسرے سے صرف اس لیے محبت کریں کہ وہ انسان ہیں۔
کیونکہ جہاں جگنو لوٹ آتے ہیں، وہاں دراصل انسانیت واپس آ جاتی ہے۔
