انحرافِ خرد سے کشفِ حقیقت تک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

جب فکر کی مسند پر عقل متمکن ہوتی ہے تو دلیل چراغ بن کر راستہ دکھاتی ہے؛ مگر جب دل کی بستی میں خاموشی اترتی ہے تو نور خود اپنی گواہی دینے لگتا ہے۔ یہی وہ ساعت ہے جہاں خرد اپنے دائرۂ اختیار میں سمٹ آتی ہے اور حقیقت کسی اعلان کے بغیر خود کو منکشف کر دیتی ہے۔ میں نے اسی دہلیز پر یہ جانا کہ عقل اپنی جگہ معتبر اور لازم ہے، مگر محبت کی معراج وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں حساب کی زبان گنگ ہو جاتی ہے اور میزانِ فہم لرزنے لگتا ہے۔
وہ ایک پل، نہ وقت کی گرفت میں آیا، نہ بیان کی حد میں سما سکا محض ایک واردات نہ تھا بلکہ ایک کیفیتِ کلیہ تھا؛ ایسی کیفیت جس میں ہجر اور وصل ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو بن کر سامنے آئے۔ جدائی نے قرب کی قدر سکھائی، اور قرب نے جدائی کے وقار کو محفوظ رکھا۔ یہاں فاصلے کی کاٹ میں بھی حلاوت تھی اور ملاپ کی مٹھاس میں بھی احتیاط؛ گویا دل کو یہ سبق دیا جا رہا ہو کہ شدت اگر اعتدال سے خالی ہو جائے تو حسن کھو بیٹھتی ہے۔
اس پل میں “تو” کوئی خطاب نہ رہا، بلکہ ایک ایسی حقیقت میں ڈھل گیا جس کے آگے ہر نسبت ہیچ ہو گئی؛ اور “میں” کوئی دعویٰ نہ رہا، ایک پردہ ثابت ہوا جو خود اٹھنے کے لیے بےتاب تھا۔ آنکھ نے دیکھنے سے دست بردار ہوئی تو نظر نے پہچان لیا؛ زبان نے اظہار ترک کیا تو ذکر نے خود کو ظاہر کر دیا۔ عقل نے سوال اٹھانا چاہا، مگر دل نے گواہی دے کر اسے خاموش کر دیا۔ تب یہ عقدہ کھلا کہ سوال وہاں معتبر ہے جہاں جواب کی گنجائش باقی ہو، اور جہاں جواب خود سوال میں تحلیل ہو جائے، وہاں خاموشی ہی سب سے بلیغ تقریر بن جاتی ہے۔
یہاں ہجر محرومی نہیں بلکہ تہذیبِ شوق ہے، اور وصل حصول نہیں بلکہ امانتِ محبت۔ دونوں کے درمیان ایک نہایت نازک اور بامعنی توازن ہے جسے قائم رکھنا ہی اصل سلوک ہے۔ جو اس توازن کی رمز پا گیا، اس نے شدت کے ہنگام میں بھی وقار سیکھ لیا؛ اور جو اس سے غافل رہا، وہ قرب پا کر بھی دراصل دور ہی رہا۔ محبت کا حسن اسی میں ہے کہ وہ اعلان سے گھبراتی ہے اور پردے میں رہ کر نکھرتی ہے؛ کہ اس کی آبرو شور میں نہیں، سکوت میں محفوظ رہتی ہے۔
لفظ یہاں خدمت پر مامور ہیں، حاکم نہیں۔ جب وہ اپنی حد پہچان لیتے ہیں تو معنی کے لیے راستہ کھل جاتا ہے؛ اور جب اپنی حدود بھول بیٹھتے ہیں تو حال کو مجروح کر دیتے ہیں۔ اسی لیے اس واردات کی ترجمانی میں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، مگر خاموشی پوری اتر آتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تحریر اپنی نفی میں اثبات پا لیتی ہے، اور بیان اپنی شکست میں فتح سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔
خرد کا یہ انحراف لغزش نہیں بلکہ ترتیبِ نو ہے؛ ایک ایسی نئی ترتیب جس میں عقل اپنی خودپسندی ترک کر کے دل کے آداب سیکھتی ہے۔ یہاں بےخودی فرار نہیں بلکہ حضور ہے؛ یہاں فنا مٹنا نہیں بلکہ بقا کی شرط ہے۔ جو خود کو چھوڑنے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، وہی خود کو پانے کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے۔
یہ ایک پل جو لمحوں کی ناپ تول سے ماورا ہے اب بھی باطن کے افق پر اسی طرح قائم ہے جیسے ازل کی کوئی امانت، جسے نہ وقت کی گرد میلا کر سکتی ہے نہ تغیر کی ہوا اس کے نور کو ماند کر سکتی ہے۔ وہ نہ یاد کے پردوں میں ڈھلتا ہے، نہ خیال کے سانچوں میں اترتا ہے؛ وہ محض ایک زندہ حضور ہے ایسا حضور جو وجود کی تہوں میں سانس لیتا ہے اور خاموشی کی زبان میں اپنا تعارف کراتا ہے۔ یہاں شعور کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے تو آگہی خود راستہ بنا لیتی ہے، اور آدمی جان لیتا ہے کہ بعض سچ جاننے کی چیز نہیں ہوتے، وہ صرف رہنے کے ہوتے ہیں۔
اس پل کی خبر نہ دلیل کی محتاج ہے نہ استدلال کی پابند۔ اسے دل سناتا ہے اور دل ہی اس کا امین بنتا ہے۔ عقل اگر اس کی دہلیز تک آ بھی پہنچے تو ادب سے رک جاتی ہے، کہ یہاں اس کی مجال صرف اتنی ہے کہ راستہ چھوڑ دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فہم کی تیز دھار کند پڑ جاتی ہے اور ذوق کی نرمی حقیقت کو تھام لیتی ہے۔ دل کی گواہی وہی سمجھ سکتا ہے جو عقل کو معزول نہیں کرتا بلکہ اس کے دائرے کی حد مقرر کر دیتا ہے؛ کہ عقل جب اپنی حد پہچان لے تو خود رہنمائی میں بدل جاتی ہے۔
یہاں محبت نہ حکایت ہے کہ سنی جائے، نہ دعویٰ ہے کہ منوایا جائے؛ یہ ایک حال ہے اور حال کی فطرت یہی ہے کہ وہ بیان سے پہلے وارد ہوتا ہے اور بیان کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ جب حال کمال کو پہنچتا ہے تو لفظ اپنے بوجھ سے آزاد ہو جاتے ہیں، نام اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں، اور نسبتیں تحلیل ہو کر وحدت میں سمٹ آتی ہیں۔ وہاں نہ عاشق اپنی انفرادیت بچا پاتا ہے، نہ معشوق فاصلہ قائم رکھتا ہے بس ایک ایسی نسبت باقی رہ جاتی ہے جو اپنی نفی میں ہی اپنا اثبات رکھتی ہے۔
اس مقام پر ہجر اپنی کاٹ کھو دیتا ہے اور وصل اپنی سرشاری؛ دونوں ایک ایسی کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں جہاں محرومی بھی نعمت کا قرینہ بن جاتی ہے اور عطا بھی امتحان کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دل سیکھ لیتا ہے کہ طلب سے زیادہ اہم رضا ہے، اور پا لینے سے زیادہ ضروری سنبھال لینا۔ یوں محبت کا جوہر کسی اضطراب میں نہیں بلکہ ایک ایسے وقار میں ظاہر ہوتا ہے جو خاموش ہے مگر گہرا، ساکن ہے مگر جاری۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی خود سے سبک دوش ہو جاتا ہے۔ نہ اسے اپنے ہونے کا بوجھ رہتا ہے نہ نہ ہونے کا خوف۔ وہ جان لیتا ہے کہ حقیقت کسی ہجومِ الفاظ میں نہیں بلکہ ایک لطیف سی یکسوئی میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہاں دعا مانگی نہیں جاتی، قبول ہو جاتی ہے؛ یہاں ذکر کیا نہیں جاتا، بن جایا جاتا ہے۔ دل محض آئینہ نہیں رہتا بلکہ آئینہ ساز ہو جاتا ہے اور جو کچھ دکھائی دیتا ہے، وہ اسی کا عکس ہوتا ہے جس نے دکھایا ہے۔
یہ پل جو آغاز بھی ہے اور انجام بھی سالک کے اندر ایک مستقل قیام اختیار کر لیتا ہے۔ نہ یہ واردات کی طرح آتا ہے، نہ کیفیت کی طرح جاتا ہے؛ یہ تو ایک ایسے نور کی مانند ہے جو جلتا نہیں بلکہ روشن رہتا ہے۔ اس کی روشنی میں زندگی اپنی سمت پا لیتی ہے اور موت اپنی ہیبت کھو دیتی ہے۔ یہاں آدمی پر یہ راز کھلتا ہے کہ اصل سفر کہیں باہر نہیں، اور اصل منزل کسی نقشے پر درج نہیں۔
یہاں آ کر تحریر خود خاموشی اوڑھ لیتی ہے، کہ جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ دیا گیا اور جو باقی رہ گیا وہ کہے بغیر ہی سمجھا جانے والا ہے۔ اس مقام پر قلم ادب سے رک جاتا ہے اور دل سر بسجود ہو جاتا ہے۔ یہی اس کلام کا حاصل ہے، یہی اس سفر کی معراج: کہ محبت جب حال بن جائے تو ناموں سے بے نیاز ہو جاتی ہے، اور جب حال حضور میں ڈھل جائے تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا، سوائے اسی کے، اور اسی کے ساتھ۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top