(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات کا یہ طلسم کدہ تضادات سے بھرا ہوا ہے؛ کہیں ببول اپنی تلخی اور خار کے ساتھ کھڑا ہے اور کہیں اسی خاک سے گلاب اپنی خوشبو لے کر طلوع ہو رہا ہے۔ ایک ہی زمین، ایک ہی فضا، ایک ہی موسم اور پھر بھی کسی کے حصے میں خزاں آتی ہے اور کسی کے وجود سے بہار پھوٹنے لگتی ہے۔ شاید فرق موسموں میں نہیں، انسان کے اندر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ حالات کو اپنی قسمت سمجھ کر ان کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور کچھ لوگ حالات کی پیشانی پر اپنے عزم کی تحریر لکھ دیتے ہیں۔
بہار دراصل کیلنڈر کا کوئی صفحہ نہیں جسے پلٹتے ہی موسم بدل جائے۔ بہار ایک داخلی کیفیت ہے، ایک ایسا یقین جو ویران ساعتوں میں بھی امکان کی کونپل دیکھ لیتا ہے۔ جس دل میں امید زندہ ہو وہاں خزاں بھی آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ وہاں خشک شاخ پر بھی آنے والے پھول کی چاپ سنائی دیتی ہے اور اندھیری رات کے سینے میں بھی صبح کا امکان دھڑکتا رہتا ہے۔
زندگی ہمیشہ ہمیں گلاب نہیں دیتی؛ کبھی ہاتھ میں کانٹے رکھ دیتی ہے، کبھی راستے میں پتھر بچھا دیتی ہے اور کبھی ایسے موسم سے گزارتی ہے جس میں بظاہر کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ مگر انسان کی اصل آزمائش یہی نہیں کہ اسے کیا ملا، اصل آزمائش یہ ہے کہ جو کچھ ملا اس کے ساتھ اس نے اپنے اندر کیا تعمیر کیا۔ ایک ہی زخم کسی کو تلخی دے سکتا ہے اور کسی کو بصیرت۔ ایک ہی شکست کسی کو مایوسی کے حوالے کر سکتی ہے اور کسی دوسرے کو اپنے اندر چھپی ہوئی قوت سے متعارف کرا سکتی ہے۔
ہم اکثر اپنی محرومیوں کا ملبہ تقدیر پر ڈال کر اپنے اختیار سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ یہ رویہ انسان کو شکست سے زیادہ خطرناک مقام پر لے جاتا ہے، کیونکہ شکست باہر نہیں ہوتی، اندر ہوتی ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے پاس کچھ بدلنے کی طاقت نہیں تو پھر وہ اپنے مقدر کا تماشائی بن جاتا ہے۔ حالانکہ زندگی کا حسن یہ ہے کہ ہر انسان کو حالات کا انتخاب شاید ہمیشہ نہ ملے، مگر حالات کے جواب کا انتخاب اکثر ضرور مل جاتا ہے۔ یہی انتخاب شخصیت بناتا ہے، یہی ارادہ تقدیر کے اندھیروں میں چراغ روشن کرتا ہے۔
خزاں سے گزرنا کوئی المیہ نہیں؛ خزاں میں خزاں بن جانا المیہ ہے۔ بعض لوگ دکھ سے گزر کر دکھ بن جاتے ہیں، بعض دکھ سے گزر کر دوا بن جاتے ہیں۔ بعض کے دل پر زمانہ پتھر رکھتا ہے تو وہ خود پتھر ہو جاتے ہیں، اور بعض اسی پتھر پر بیٹھ کر اپنی روح کے لیے ایک چشمہ دریافت کر لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی تقدیر کا شکوہ کرنے والے وجود سے نکل کر اپنی زندگی کا معمار بننا شروع کرتا ہے۔
بہار ان لوگوں کے حصے میں نہیں آتی جو صرف بہار کا انتظار کرتے رہتے ہیں؛ بہار ان کے وجود میں اترتی ہے جو خزاں کے باوجود شاخوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ جو مایوسی کے ہجوم میں امید کا چراغ بچا لیتے ہیں، جو شکست کے بعد بھی اپنے اندر دوبارہ اٹھنے کی جگہ باقی رکھتے ہیں اور جو دنیا کی سختیوں کو اپنے دل کی نرمی کا قاتل نہیں بننے دیتے، وہ دراصل اپنے لیے موسم نہیں بدلتے بلکہ اپنے گرد کا موسم بدلنے لگتے ہیں۔
کائنات کا ایک عجیب راز یہ بھی ہے کہ روشنی ہمیشہ سورج سے نہیں آتی؛ کبھی ایک انسان بھی دوسرے انسان کی رات میں طلوع ہو جاتا ہے۔ ایک حوصلہ، ایک دعا، ایک مخلص ہاتھ، ایک سچا لفظ اور کبھی صرف کسی کا خاموش ساتھ کسی ٹوٹے ہوئے وجود کے اندر بہار واپس لے آتا ہے۔ اس لیے اپنی بہار صرف اپنے لیے مت رکھیے۔ اگر آپ کے اندر روشنی ہے تو اسے کسی اندھیرے تک پہنچنے دیجیے، اگر دل میں امید ہے تو اسے کسی مایوس دل کے سپرد کیجیے، کیونکہ زندگی کی سب سے خوب صورت سخاوت یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کے لیے وہ موسم بن جائے جس کا وہ مدت سے منتظر تھا۔
آخرکار انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ اسے زندگی نے کتنے پھول دیے، بلکہ اس میں ہے کہ اس نے کتنے کانٹوں کے درمیان رہ کر بھی اپنے اندر گلاب محفوظ رکھا۔ مقدر شاید زمین دے، موسم شاید بدلتے رہیں، حالات شاید اپنے فیصلے سناتے رہیں، مگر انسان کے پاس ہمیشہ یہ اختیار رہتا ہے کہ وہ اپنے باطن میں کون سا موسم آباد کرتا ہے۔
اور شاید زندگی کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ جب زمانہ آپ کے حصے میں خزاں لکھ دے تو آپ اپنے کردار سے ثابت کر دیں کہ بہار کسی موسم کی محتاج نہیں؛ بعض لوگ جہاں کھڑے ہوتے ہیں، وہیں سے موسم بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔
