زبانِ بے گور و کفن

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

​شام ڈھل چکی تھی اور پرانے شہر کے تاریک کوچے میں میاں مظفر کی حویلی کا اکلوتا روشن کمرہ گرد و غبار کی زد میں تھا۔ کمرے میں چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگے تھے۔ موٹے موٹے جلدوں والی لغات، میر، غالب، اقبال اور انیس کے کلیات، اور وہ نایاب قلمی نسخے جنہیں میاں مظفر نے اپنی زندگی کے پچاس برس نچوڑ کر جمع کیا تھا۔
​میاں مظفر، جو کبھی شہر کے نامور نقاد اور اردو کے جید استاد مان جاتے تھے، آج اپنی بیٹھک میں اکیلے بیٹھے تھے۔ سامنے میز پر ایک نوزائیدہ “ادبی مجلے” کا تازہ شمارہ پڑا تھا، جس کا ٹائٹل چمکدار اور رنگین تھا، لیکن اندر کے صفحات پر املا کی غلطیوں، بے وزن شاعری اور بے ہنگم نثری پاروں کا ہجوم تھا۔
​”توبہ ہے…! عروض کا جنازہ نکال دیا ہے اور املا کا یہ حال کہ اپنی بے خبری کو چھپانے کے لیے اساتذہ کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں!” میاں مظفر نے عینک ناک کی نوک پر ٹکاتے ہوئے ایک گہری آہ بھری۔
​اسی اثنا میں ان کا پوتا، زوہان، کمرے میں داخل ہوا۔ زوہان ایک جدید ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسی میں کام کرتا تھا اور آج کل سوشل میڈیا پر “شارٹ پوئٹری” اور “آن لائن غزل شو” کے ذریعے کافی مقبول تھا۔
​”دادا حضور! آپ ابھی تک ان پرانی دیمک زدہ کتابوں میں الجھے ہوئے ہیں؟” زوہان نے آئی پیڈ پر ایک ہاتھ سے اسکرول کرتے ہوئے کہا۔ “دیکھیے، میں نے ابھی انسٹاگرام پر ایک نئی نظم پوسٹ کی ہے، صرف دس منٹ میں پانچ ہزار ‘لائکس’ مل گئے!”
​میاں مظفر نے عینک درست کی اور پوچھا، “ذرا ہمیں بھی تو سناؤ، کیا لکھا ہے؟”
​زوہان نے فخر سے گردن اکڑا کر پڑھنا شروع کیا:
​”تیرے جانے کا غم اتنا تھا کہ…
ہم نے اپنے دل سے کہ دیا کہ اب لوٹ کے نہ آنا!
ورنہ یہ شام یوں ہی چلی جائے گی!”
​میاں مظفر نے لمحہ بھر کو آنکھیں بند کیں اور ٹھنڈی آہ بھر کر بولے، “برخوردار! اس میں شعر کی روح کہاں ہے؟ نہ بحر ہے، نہ رعایتِ لفظی… اور املا کا یہ حال کہ کہنے (فعل) کی جگہ تم نے حرفِ ربط لکھ دیا ہے! ‘دل سے کہ دیا’ کیا ہوتا ہے؟ یہاں ‘کہہ’ ہونا چاہیے!”
​زوہان نے فوراً شانے اچکائے، “دادا حضور! آپ بھی کن باریکیوں میں الجھ رہے ہیں۔ کہنے کے معنی میں ‘کہ’ تو غالب نے بھی لکھا تھا! جب غالب کا ‘کہ’ درست ہے تو میرا کیوں نہیں؟”
​میاں مظفر کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے عینک اتار کر میز پر رکھی اور دھیمے مگر متانت بھرے لہجے میں بولے:
​”میاں! تاریخ، عروض اور وقت کے تقاضوں کو سمجھو۔ غالب کے دور کا رسم الخط اور تھا، اور پھر وہاں شعر کے وزن اور تقطیع کی مجبوری تھی۔ جس طرح ماضی کے کچھ حالات و واقعات۔۔مثلاً لونڈی و غلام کا نظام۔۔۔اپنے مخصوص دور اور وقت کے لحاظ سے روا سمجھے جاتے تھے لیکن آج کے معیار پر انہیں سند نہیں بنایا جا سکتا… بالکل اسی طرح غالب کے اس ہنگامی و شعری تصرف کو آج کی جدید نثری املا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا! مقتدرہ قومی زبان اور لغویین نے اب فعل اور حرفِ ربط کا فرق واضح کر دیا ہے۔ تم اپنی بے خبری اور املا کی غلطی کو غالب کے سر تھوپ کر سند نہیں بنا سکتے!”
​زوہان چند لمحے دادا کی اس علمی دلیل پر جھینپ سا گیا، مگر اپنی خفقت مٹانے کے لیے آئی پیڈ کی اسکرین بند کرتے ہوئے بولا:
​”دادا! اب اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ وہ آپ کے عروض، تقطیع اور لغت کے چکروں میں پڑے؟ لوگ جلدی میں ہیں، انہیں بس جذبات چاہیے، چاہے املا اور وزن جیسا بھی ہو۔ اب دنیا بدل چکی ہے اور آپ کا یہ علم کسی کام کا نہیں۔ اب ادب وہی ہے جو بکتا ہے اور جو ٹرینڈ کرتا ہے۔”
​میاں مظفر کی آنکھوں میں ایک ویرانی سی اتر آئی۔ انہوں نے میز پر رکھے ہوئے اپنے دادا کے دور کے ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط کو چھوا، جن کی روشنائی اب مدہم ہو چکی تھی۔
​”پتر!” میاں مظفر کی آواز میں ایک عجیب سی کپکپاہٹ تھی، “ادب بکتا نہیں تھا، ادب تو روح کی غذا تھا۔ ہم نے اس زبان کے لیے عمریں کھپائیں۔ ہم ایک لفظ کے صحیح تلفظ، وزن اور املا کے لیے رات رات بھر لغات کھنگالتے تھے۔ اور آج… آج تم لوگوں نے لفظوں کو سستا کر دیا ہے۔ تم نے غزل کا لباس اتار کر اسے بازار کا سامان بنا دیا ہے۔”
​زوہان نے شانے اچکائے اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا، جہاں سے جلد ہی اس کی لائیو اسٹریم کی آوازیں آنے لگیں، اور صدہا لوگ بغیر کسی گہرائی کے محض چند سطور پر واہ واہ کے ڈونگرے برسا رہے تھے۔
​کمرے میں پھر سے خاموشی چھا گئی۔
​میاں مظفر اٹھے اور لکڑی کی پرانی الماری کے پاس گئے۔ انہوں نے بڑی عقیدت سے میر تقی میر کا دیوان نکالا، اسے چوما اور اپنی گود میں رکھ کر بیٹھ گئے۔ باہر ہوا تیز ہو چکی تھی اور کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا کر کسی کے روٹھنے کی سی آواز پیدا کر رہی تھی۔
​میاں مظفر نے دیوان کھولا اور شمع کی مدہم روشنی میں زیرِ لب پڑھا:
​ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
​انہوں نے کتاب سینے سے لگائی اور آنکھیں موند لیں۔ کمرے کے کونے میں پڑی گرد آلود لغات کا ایک صفحہ ہوا سے ہلکا سا ہلا، جیسے اردو ادب کی آخری سانسیں گن رہا ہو۔
​اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی، تو میاں مظفر اپنی کرسی پر ساکت بیٹھے تھے۔ ان کی گود میں میر کا دیوان کھُلا تھا، اور پرانے شہر کے اس چھوٹے سے کمرے میں ایک پوری زبان کی لاش بے گورو کفن پڑی ہوئی تھی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top