(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وہ شخص کہانیاں نہیں لکھتا تھا، وہ انہیں جنم دیتا تھا۔
اس کے لیے الفاظ محض سیاہی کے نشان نہیں تھے، بلکہ بے قرار روحیں تھیں جو کسی جسم، کسی آواز اور کسی انجام کی تلاش میں اس کے اندر بھٹکتی رہتی تھیں۔ وہ جب قلم اٹھاتا تو اسے محسوس ہوتا جیسے کسی اندھیری کوٹھڑی کا دروازہ کھل گیا ہو اور وہاں قید بہت سے چہرے روشنی کی طرف لپک آئے ہوں۔
لوگ اس کی تحریروں کو پڑھ کر کہتے: “کتنا گہرا مشاہدہ ہے، کتنی سچی زندگی ہے ان کرداروں میں۔”
مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کرداروں کو زندگی دینے کی قیمت وہ خود ادا کر رہا ہے۔
ایک دن اس نے ایک کہانی شروع کی۔ ابتدا میں وہ صرف چند کردار تھے؛ ایک بوڑھا جس کی آنکھوں میں صدیوں کی تھکن تھی، ایک لڑکی جس کی خاموشی میں ہزار چیخیں دفن تھیں، ایک نوجوان جو کسی نامعلوم امید کا دامن تھامے چل رہا تھا۔
وہ انہیں دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا اور پھر کاغذ پر اتار دیتا۔
رفتہ رفتہ اسے احساس ہوا کہ وہ کردار کاغذ سے نکل کر اس کے کمرے میں آ بیٹھے ہیں۔
بوڑھا رات گئے اس کی میز کے پاس خاموش بیٹھا رہتا، لڑکی کھڑکی کے پار کسی دور کے خواب کو تکتی رہتی، اور نوجوان بار بار اس سے پوچھتا: “کیا ہمارا انجام کبھی بدلے گا؟”
وہ انہیں تسلی دیتا: “فکر نہ کرو، میں تمہیں ایک خوبصورت زندگی دوں گا۔”
مگر اسے معلوم نہ تھا کہ کچھ زندگیاں لکھنے والے سے اس کی اپنی زندگی مانگ لیتی ہیں۔
دن گزرتے گئے۔ گھر کے دروازے پر دستک ہوتی، لوگ اسے پکارتے، رشتے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے، مگر وہ ایک دوسری دنیا کے دروازے پر بیٹھا رہتا۔
اس کی ماں کی آواز مدھم پڑ گئی، دوستوں کی محفلیں دور ہو گئیں، محبت کرنے والے چہرے اجنبی محسوس ہونے لگے۔
وہ سب کو چھوڑ نہیں رہا تھا، بس ایک ایسی دنیا بچانے میں مصروف تھا جسے اس کے سوا کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔
ایک رات اس نے اپنی کہانی کے آخری باب پر قلم رکھا۔
اس نے لکھا: “اور پھر وہ سب کردار ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گئے۔”
وہ مسکرایا۔
اسے لگا کہ آج اس نے ایک عظیم تخلیق مکمل کر لی ہے۔
مگر اسی لمحے کمرے کے چاروں طرف خاموشی پھیل گئی۔
اس نے دیکھا، بوڑھا غائب تھا۔ لڑکی غائب تھی۔ نوجوان بھی کہیں نہیں تھا۔
صرف وہ اکیلا تھا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ جن کرداروں کو وہ زندگی دیتا رہا، وہ آہستہ آہستہ اس کی اپنی زندگی کے حصے لے گئے تھے۔
اس کی ہنسی ان کے پاس رہ گئی تھی۔ اس کے خواب ان کے نام ہو گئے تھے۔ اس کے دن ان کی کہانی میں دفن ہو چکے تھے۔
وہ اپنی تحریر کے آخری صفحے کو دیکھتا رہا۔
وہاں ایک جملہ لکھا تھا:
“ہر خالق کو ایک دن اپنی تخلیق کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے، کیونکہ بعض کہانیاں صرف لکھی نہیں جاتیں، وہ اپنے لکھنے والے کو بھی لکھ ڈالتی ہیں۔”
وہ چونکا۔
یہ جملہ اس نے نہیں لکھا تھا۔
یا شاید لکھا تو اسی نے تھا، مگر اب اسے یاد نہیں تھا۔
اس نے قلم اٹھانے کی کوشش کی، مگر انگلیاں ساتھ نہ دے سکیں۔
کمرے کے کونے میں رکھی ہوئی کتاب کھلی تھی۔ اس کے صفحات ہوا کے بغیر پلٹ رہے تھے، جیسے کوئی ان میں چھپی روح آخری بار سانس لے رہی ہو۔
صبح جب لوگ اس کے کمرے میں داخل ہوئے تو میز پر ایک مکمل کہانی رکھی تھی۔
لوگوں نے اسے پڑھا، روئے، تعریف کی، اسے عظیم تخلیق قرار دیا۔
مگر کسی نے یہ نہ دیکھا کہ اس کتاب کے آخری صفحے پر ایک خالی جگہ تھی۔
جہاں مصنف کا نام ہونا چاہیے تھا۔
وہ جگہ خالی تھی۔
کیونکہ جس کہانی نے سب کرداروں کو نام دیے تھے، آخرکار وہ اپنے خالق کا نام بھی اپنے اندر جذب کر چکی تھی۔
اور یوں ایک عظیم کہانی مکمل ہوئی۔
مگر اس کا خالق کہیں باقی نہ رہا۔
کیونکہ بعض اوقات انسان کہانی نہیں لکھتا…
کبھی کبھی کہانی انسان کو لکھ دیتی ہے۔
