وہ چراغ جو گھر کا راستہ بھول گیا

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

وہ عمر بھر روشنی تلاش کرتا رہا۔
اسے یقین تھا کہ کہیں دور کسی ویران پہاڑی کے دامن میں ایک ایسا چراغ چھپا ہے جسے جلانے کے بعد دنیا کے تمام اندھیرے شکست کھا جائیں گے۔
وہ جنگلوں میں گیا، صحراؤں میں بھٹکا، کتابوں کے انبار کھنگالے، خاموش راتوں سے راز پوچھے۔ آخر ایک دن اسے وہ چراغ مل گیا۔ اس نے اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا تو خوشی سے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
“اب دنیا بدل جائے گی۔”
وہ چراغ لے کر اپنے کمرے میں آ بیٹھا۔ دن رات اسی کی لو کو دیکھتا، اس کی روشنی کے زاویے ناپتا، اس کے رنگوں میں چھپے معنی تلاش کرتا۔ وہ اس قدر محو ہوا کہ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ گھر کی دہلیز پر کھڑی ماں کی آواز مدھم پڑ گئی، بچوں کی ہنسی خاموش ہو گئی، اور وہ شخص جو ہر شام اس کے انتظار میں دروازے تک آتا تھا، آہستہ آہستہ انتظار کرنا چھوڑ گیا۔
وہ سمجھتا رہا کہ وہ دنیا کو روشنی دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایک رات چراغ کی لو اچانک تیز ہوئی۔ کمرہ نور سے بھر گیا۔ وہ بے اختیار مسکرا اٹھا۔
“میں کامیاب ہو گیا۔”
مگر اسی لمحے اسے پہلی بار احساس ہوا کہ کمرے کے باہر مکمل اندھیرا ہے۔
وہ گھبرا کر باہر نکلا۔ صحن خالی تھا۔ دروازے بند تھے۔ وہ آوازیں جنہیں وہ معمولی سمجھتا رہا، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھیں۔
وہ دوڑ کر واپس آیا اور چراغ کو بلند کر کے بولا:
“دیکھو! میرے پاس روشنی ہے۔”
مگر روشنی نے کوئی جواب نہ دیا۔
تب اسے معلوم ہوا کہ کچھ چراغ دنیا کو روشن کرنے سے پہلے اپنے قریب کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔
وہ ساری عمر سورج بننے کی خواہش میں جلتا رہا، مگر یہ بھول گیا کہ کسی ایک تھکے ہوئے چہرے کے لیے ایک چھوٹی سی شمع بن جانا بھی کبھی کبھی پوری کائنات کو منور کرنے کے برابر ہوتا ہے۔
اس دن اس نے چراغ تو جلا لیا، مگر گھر کا راستہ کھو دیا۔
اور انسان کی سب سے بڑی شکست یہی نہیں کہ وہ اندھیروں میں رہ جائے؛
سب سے بڑی شکست یہ ہے کہ وہ روشنی لے کر چلے اور پھر بھی اپنے لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top