لفظوں کا بنایا ہوا زندان

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کہتے ہیں قید خانے اینٹوں، پتھروں اور لوہے کی سلاخوں سے بنتے ہیں۔
مگر میں نے ایک ایسا زندان دیکھا ہے جس کی نہ کوئی دیوار تھی، نہ کوئی دروازہ، نہ کوئی پہرہ دار۔
وہ صرف لفظوں سے بنا تھا۔
اور عجیب بات یہ تھی کہ اس میں قید ہونے والے لوگ خود اپنے ہاتھوں سے اس کی دیواریں چنتے تھے۔
شہر کے ایک خاموش گوشے میں ایک شخص رہتا تھا۔ لوگ اسے “حافظِ الفاظ” کہتے تھے۔ وہ برسوں سے لفظ جمع کرتا تھا۔ عام لوگوں کے لیے لفظ صرف آوازیں تھے، مگر اس کے لیے ہر لفظ ایک زندہ مخلوق تھا۔
وہ کہتا:
“لفظ مرتے نہیں، صرف اپنا جسم بدلتے ہیں۔ کبھی دعا بن جاتے ہیں، کبھی بددعا، کبھی زنجیر اور کبھی پرواز۔”
لوگ اس کی بات سن کر مسکرا دیتے۔
انہیں کیا خبر تھی کہ کچھ لوگ لفظوں کے ساتھ کھیلتے نہیں، لفظ ان کے ساتھ کھیلتے ہیں۔
حافظِ الفاظ نے اپنی پوری زندگی ایک کتاب لکھنے میں لگا دی۔ ایسی کتاب جس میں انسان کے تمام دکھ، تمام خوشیاں، تمام راز اور تمام سچ محفوظ تھے۔
وہ سمجھتا تھا کہ جس دن یہ کتاب مکمل ہو گی، انسان اپنے آپ کو پہچان لے گا۔
اس نے برسوں تک لوگوں کے چہروں سے لفظ چنے۔
ایک ماں کی خاموش دعا سے۔ ایک بوڑھے کی لرزتی ہوئی آواز سے۔ ایک عاشق کے انتظار سے۔ ایک شکست خوردہ انسان کی آہ سے۔
پھر اس نے ان سب کو سطروں میں قید کر دیا۔
مگر اسے معلوم نہ تھا کہ جس چیز کو وہ محفوظ کر رہا ہے، وہی ایک دن اسے قید کر لے گی۔
کتاب مکمل ہوئی تو لوگوں نے اسے پڑھا۔
کسی نے کہا: “یہ تو ہماری زندگی کی تصویر ہے۔”
کسی نے کہا: “اس میں میرے دل کا راز لکھا ہے۔”
کسی نے کہا: “یہ کتاب انسان کو بدل دے گی۔”
اور واقعی کچھ بدلنے لگا۔
مگر عجیب طریقے سے۔
لوگ اپنے اصل چہروں سے زیادہ ان الفاظ پر یقین کرنے لگے جو ان کے بارے میں لکھے گئے تھے۔
ایک شخص کو کسی نے “ناکام” لکھ دیا، تو وہ عمر بھر اپنی کامیابیوں کے باوجود خود کو ناکام سمجھتا رہا۔
کسی عورت کو “کمزور” کہہ دیا گیا، تو اس کی پوری زندگی اپنی طاقت ثابت کرنے میں گزر گئی۔
کسی بچے کو “عام” قرار دے دیا گیا، تو اس کے اندر چھپے آسمان کبھی پرواز نہ کر سکے۔
حافظِ الفاظ نے دیکھا کہ اس کی کتاب آئینہ نہیں رہی، زنجیر بن گئی ہے۔
وہ لوگوں کو ان کے چہرے نہیں دکھا رہی تھی، بلکہ ان کے چہروں پر نقاب چڑھا رہی تھی۔
وہ چیخ اٹھا:
“میں نے تو انسان کو آزاد کرنے کے لیے لفظ لکھے تھے!”
مگر لفظ خاموش رہے۔
کیونکہ لفظوں کا ایک اپنا انتقام ہوتا ہے۔
وہ جس مقصد کے لیے پیدا کیے جائیں، کبھی کبھی اس کے برعکس کام کرنے لگتے ہیں۔
ایک دن حافظِ الفاظ اپنی کتاب کے آخری صفحے پر بیٹھا تھا۔
اس نے دیکھا کہ وہاں ایک جملہ لکھا ہے:
“انسان سب سے زیادہ اس چیز کا قیدی بنتا ہے جسے وہ اپنی پہچان سمجھ لیتا ہے۔”
وہ چونک گیا۔
یہ جملہ اس نے نہیں لکھا تھا۔
یا شاید لکھا تو اسی نے تھا، مگر اب اسے یاد نہیں تھا۔
اس نے کتاب بند کر دی۔
مگر کتاب بند نہ ہوئی۔
اس نے اسے الماری میں رکھا۔
مگر کتاب الماری سے نکل کر میز پر آ گئی۔
اس نے اسے جلا دینا چاہا۔
مگر آگ نے کاغذ کو چھوا اور خود راکھ ہو گئی۔
تب پہلی بار اسے احساس ہوا کہ کچھ تحریریں کاغذ پر نہیں لکھی جاتیں۔
وہ انسانوں کے اندر لکھی جاتی ہیں۔
اور جو لفظ روحوں میں اتر جائیں، انہیں جلایا نہیں جا سکتا۔
حافظِ الفاظ اب بوڑھا ہو چکا تھا۔
ایک دن ایک نوجوان اس کے پاس آیا اور پوچھا:
“بابا! آپ نے اتنی بڑی کتاب لکھی، کیا آپ خوش ہیں؟”
بوڑھا دیر تک خاموش رہا۔
پھر بولا:
“میں نے سمجھا تھا کہ میں لفظوں کو قابو کر رہا ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ لفظ مجھے قابو کرتے رہے۔”
نوجوان نے پوچھا:
“تو کیا لفظ خطرناک ہیں؟”
بوڑھا مسکرایا۔
“نہیں بیٹا۔ آگ بھی خطرناک نہیں ہوتی۔ خطرناک وہ ہاتھ ہوتا ہے جو اسے سمت دیے بغیر چھوڑ دے۔ لفظ بھی ایسے ہی ہیں۔ وہ چراغ بھی بن سکتے ہیں اور قید خانہ بھی۔”
کچھ دن بعد حافظِ الفاظ دنیا سے چلا گیا۔
لوگوں نے اس کی کتاب کو عظیم قرار دیا۔
اس کے مجسمے بنائے گئے۔
اس کے جملے دیواروں پر لکھے گئے۔
مگر کسی نے یہ نہ سوچا کہ شاید سب سے بڑا سبق اس کتاب میں نہیں، اس کے خالق کی خاموشی میں چھپا تھا۔
کیونکہ وہ شخص جان گیا تھا کہ انسان صرف لوہے کی زنجیروں سے قید نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی ایک تعریف بھی قید کر دیتی ہے۔
کبھی ایک الزام بھی۔
کبھی ایک نظریہ بھی۔
کبھی ایک لفظ بھی۔
اور سب سے خطرناک زندان وہ ہوتا ہے جس کی چابی بھی قیدی کے پاس ہو…
مگر وہ اسے استعمال کرنا بھول چکا ہو۔
اسی لیے دنیا کے سب سے بڑے قید خانے پتھر سے نہیں بنتے۔
وہ الفاظ سے بنتے ہیں۔
اور جب تک لفظ زندہ ہیں، یہ سوال بھی زندہ رہے گا:
ہم لفظوں کے خالق ہیں…
یا لفظوں کے قیدی؟

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top