(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وہ پچھلے چالیس سالوں سے شہر کی سب سے پرانی خانقاہ کے صحن میں جھاڑو دے رہا تھا۔ لوگ اسے سائیں توکل کہتے تھے۔ اس کی کمر جھک چکی تھی، داڑھی کے بال برف کی طرح سفید ہو چکے تھے، اور آنکھیں دو بجھے ہوئے چراغوں کی مانند تھیں جن میں اب دنیا کا کوئی رنگ باقی نہیں رہا تھا۔ خانقاہ پر روزانہ ہزاروں زائرین آتے، منتیں مانگتے، سونے چاندی کے نذرانے چڑھاتے اور اپنے اپنے دلوں کی مرادیں لے کر لوٹ جاتے۔
سائیں توکل کا کام صرف ایک تھا: جیسے ہی دھوپ ڈھلتی، وہ صحن میں بکھری ہوئی خاک، زائرین کے پاؤں کے نشان اور درختوں سے گرے ہوئے خشک پتے اکٹھے کرتا اور انہیں ایک کونے میں ٹھکانے لگا دیتا۔
خانقاہ کے نئے گدی نشین، شاہ صاحب، ریشمی چغہ پہنے، عطرِ ہنا میں بسے، جب سنگِ مرمر کے مصلے پر بیٹھتے تو ان کے جلال و جمال کا ایک سحر ہوتا تھا۔
ایک شام، جب صحن بالکل خالی ہو گیا، شاہ صاحب نے سائیں توکل کو اپنے پاس بلایا اور متکبرانہ شفقت سے پوچھا:
”توکل! چالیس سال بیت گئے تمہیں اس چوکھٹ پر دھول صاف کرتے کرتے۔ یہاں قطب اور ابدال آئے، لوگوں کی کایا پلٹ گئی، کوئی صاحبِ کشف ہوا تو کسی کو معرفت کا تاج ملا۔ پر تو وہیں کا وہیں رہا۔ کیا تو نے اس در سے کبھی اپنے لیے کچھ نہیں مانگا؟”
سائیں توکل نے جھاڑو کو اپنے سینے سے لگایا، اپنی دھندلی آنکھوں کو اٹھایا اور دھیمی، لرزتی ہوئی آواز میں بولا:
”شاہ جی! جو مانگنے آتا ہے، وہ اپنے ساتھ ایک ‘خواہش’ لاتا ہے۔ اور خواہش تو خود ایک پردہ ہے جو بندے اور رب کے بیچ تنا رہتا ہے۔ میں نے یہاں چالیس سال میں صرف ایک بات سیکھی ہے کہ اس در پر پانے کا رستہ مانگنا نہیں، بلکہ خود کو مٹانا ہے۔”
شاه صاحب نے چونک کر اسے دیکھا۔ “خود کو مٹانا؟ کیا مطلب؟”
توکل نے صحن کے وسط میں جمی اس مٹی کی طرف اشارہ کیا جو اس نے ابھی جھاڑو سے اکٹھی کی تھی:
”شاہ جی! یہ جو روزانہ ہزاروں لوگ یہاں آتے ہیں، یہ اپنے ساتھ اپنے اپنے غرور، اپنی حسرتیں اور اپنے گناہوں کا بوجھ لے کر آتے ہیں۔ جب وہ سجدے میں گرتے ہیں، تو ان کے ماتھے کی مٹی یہاں جھڑ جاتی ہے۔ میں چالیس سال سے کسی کرامت کا نہیں، بلکہ اسی خاک کا تماشائی ہوں۔”
اس نے آگے بڑھ کر اس مٹی کا ایک ذرہ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولا:
”جب امیر سجدہ کرتا ہے تو اس کی امیری کی مٹی بھی اسی رنگ کی ہوتی ہے، اور جب فقیر سر جھکاتا ہے تو اس کی غریبی کی مٹی بھی یہی ہے۔ میں روز اس مٹی کو سمیٹتا ہوں اور یہ مٹی مجھے روز پکار کر کہتی ہے کہ ‘توکل! دیکھ، انسان کی اصل بس اتنی ہی ہے، جسے یہ دنیا بھر کا لباس پہنا کر گھومتا ہے۔'”
شام کے سائے گہرے ہو گئے اور خانقاہ کے بلند میناروں پر لگی سبز لائٹیں روشن ہو گئیں۔ شاہ صاحب نے محسوس کیا کہ ان کے نیچے بچھا ہوا وہ قیمتی ریشمی مصلّہ اچانک بے معنی ہو گیا ہے اور سامنے کھڑا وہ بوڑھا خاکروب کائنات کے سب سے بڑے تخت پر متمکن ہے۔
سائیں توکل نے مٹی کو واپس زمین پر چھوڑ دیا، جھاڑو اٹھایا اور اس روحانی سچائی پر اپنا آخری جملہ کہا:
”لوگ خدا کو عرش پر ڈھونڈتے ہیں یا کتابوں کے لفظوں میں، شاہ جی! پر وہ تو اس “خالی پن” میں رہتا ہے جو سب کچھ گنوا دینے کے بعد باطن میں پیدا ہوتا ہے۔ جب تک اندر “میں” کا شور ہے، تب تک وہ خاموش رہتا ہے؛ اور جب “میں” مٹی ہو جاتی ہے، تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس کا ہو جاتا ہے۔”
اگلے دن جب فجر کی اذان ہوئی، تو سنگِ مرمر کے صحن میں جھاڑو تو پڑا تھا، مگر سائیں توکل کا کہیں پتہ نہ تھا۔ شاہ صاحب نے مصلے سے اٹھ کر اس جگہ کو دیکھا جہاں وہ مٹی سمیٹا کرتا تھا۔۔وہاں مٹی کا ایک چھوٹا سا ڈھیر تھا، جو صبح کی ٹھنڈی ہوا کے ایک جھونکے سے اڑ کر خانقاہ کی فضا میں ہمیشہ کے لیے تحلیل ہو چکا تھا۔
