خوابوں کا قاتل شہر

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

اس شہر میں سورج ہر صبح طلوع ہوتا تھا، مگر روشنی کبھی زمین تک نہیں پہنچتی تھی۔
لوگ کہتے تھے کہ یہ ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں بلند عمارتیں تھیں، کشادہ سڑکیں تھیں، راتوں کو دن بنا دینے والی روشنیاں تھیں، اور ہر چہرے پر کامیابی کا ایک مصنوعی اطمینان تھا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس شہر میں رہنے والے لوگ اکثر رات کو سو نہیں پاتے تھے۔
شاید اس لیے کہ جن خوابوں کو آنکھیں بند کر کے دیکھا جاتا ہے، وہی خواب یہاں دن کے اجالے میں قتل کر دیے جاتے تھے۔
میں پہلی بار اس شہر میں آیا تو میرے پاس ایک چھوٹا سا بکس تھا، جس میں چند کپڑے، کچھ کتابیں اور بہت سارے خواب رکھے تھے۔
ماں نے رخصت کرتے وقت کہا تھا: “بیٹا! بڑے شہر انسان کو بڑے مواقع دیتے ہیں۔”
میں نے یقین کر لیا تھا۔
مجھے کیا معلوم تھا کہ کچھ شہر مواقع نہیں دیتے، صرف انسان کو آہستہ آہستہ اپنے جیسا بنا لیتے ہیں۔
ابتدا میں مجھے سب کچھ خوبصورت لگا۔ ہر طرف دوڑتے لوگ، مصروف چوراہے، کامیابی کے قصے، بڑے بڑے خوابوں کے اشتہار۔
ہر عمارت جیسے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی: “یہاں صرف وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو آگے بڑھتے ہیں۔”
میں بھی آگے بڑھنا چاہتا تھا۔
میں نے اپنے خوابوں کو سنبھال کر رکھا۔ انہیں روز صبح نکالتا، صاف کرتا، دیکھتا کہ کہیں ان پر گرد نہ جم جائے۔
مگر اس شہر میں خوابوں کے لیے جگہ بہت کم تھی۔
پہلے پہل لوگوں نے مجھے مشورے دیے۔
“اتنا حساس مت بنو۔”
“حقیقت پسند بنو۔”
“دنیا جذبات سے نہیں چلتی۔”
“خواب دیکھنے کا وقت گزر گیا ہے۔”
میں حیران ہوتا تھا کہ خواب دیکھنے کی بھی کوئی عمر ہوتی ہے کیا؟
پھر ایک دن میں نے دیکھا کہ میرے ساتھ کام کرنے والا ایک نوجوان، جو کبھی شاعر بننے کے خواب دیکھتا تھا، اب صرف تنخواہ بڑھنے کے خواب دیکھتا تھا۔
میں نے پوچھا: “تم نے شاعری چھوڑ دی؟”
وہ ہنس دیا۔
“نہیں، بس زندگی نے مجھے سمجھا دیا کہ کچھ خواب صرف غریب لوگوں کے شوق ہوتے ہیں۔”
اس کی ہنسی میں مجھے کسی خواب کی موت کی آواز سنائی دی۔
پھر میں نے اس شہر کا اصل راز جانا۔
یہاں خواب ایک دم نہیں مرتے تھے۔
یہ شہر انہیں آہستہ آہستہ قتل کرتا تھا۔
پہلے امید کو تھکاتا تھا۔ پھر خواہش کو شرمندہ کرتا تھا۔ پھر انسان کو اس بات پر قائل کر دیتا تھا کہ جو کچھ وہ چاہتا تھا، وہ کبھی حقیقت میں ممکن ہی نہیں تھا۔
ایک دن میری ملاقات ایک بوڑھے شخص سے ہوئی جو دریا کے کنارے بیٹھا کاغذ پھاڑ رہا تھا۔
میں نے پوچھا: “آپ کیا کر رہے ہیں؟”
وہ مسکرایا: “اپنے خواب دفن کر رہا ہوں۔”
میں چونک گیا۔
“خواب بھی دفن کیے جاتے ہیں؟”
اس نے دریا کی طرف دیکھا۔
“ہاں بیٹا! کچھ خواب مرنے کے بعد بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے، اس لیے انہیں دفن کرنا پڑتا ہے۔”
میں خاموش ہو گیا۔
اس نے ایک پرانا کاغذ میری طرف بڑھایا۔
اس پر لکھا تھا:
“میں ایک دن ایسا گھر بناؤں گا جہاں کوئی شخص تنہا نہ سوئے۔”
میں نے پوچھا: “یہ آپ کا خواب تھا؟”
اس نے سر جھکا لیا۔
“ہاں، مگر پھر میں نے سیکھ لیا کہ اس شہر میں گھر اینٹوں سے بنتے ہیں، دلوں سے نہیں۔”
اس دن مجھے پہلی بار خوف محسوس ہوا۔
مجھے ڈر لگا کہ کہیں یہ شہر میرے اندر بھی کچھ قتل نہ کر چکا ہو۔
میں نے اپنے دل میں جھانکا۔
وہاں ایک چھوٹا سا خواب ابھی زندہ تھا۔
وہ خواب کہ انسان صرف کامیاب نہ ہو، اچھا بھی رہے۔
میں نے اسے بچانے کی کوشش کی۔
مگر شہر بہت طاقتور تھا۔
اس نے مجھے مصروف کر دیا۔ اتنا مصروف کہ سوچنے کا وقت نہ رہا۔ اتنا تھکا دیا کہ خواب دیکھنے کی ہمت نہ رہی۔
پھر ایک صبح میں آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔
سامنے ایک کامیاب آدمی تھا۔
اچھی ملازمت۔ اچھا لباس۔ اچھا مکان۔
بس آنکھوں میں وہ لڑکا نہیں تھا جو کبھی ستاروں سے باتیں کیا کرتا تھا۔
میں بہت دیر تک خود کو دیکھتا رہا۔
پھر اچانک مجھے محسوس ہوا کہ اس شہر نے میرا سب سے قیمتی سرمایہ چرا لیا ہے۔
میری جیب نہیں خالی ہوئی تھی۔
میری روح خالی ہوئی تھی۔
میں اسی دن شہر چھوڑنے کے لیے نکل پڑا۔
راستے میں وہی بوڑھا دریا کنارے بیٹھا تھا۔
اس نے مجھے دیکھا اور مسکرا کر پوچھا:
“کیا تم بھی اپنا خواب دفن کرنے جا رہے ہو؟”
میں نے سر ہلایا۔
“نہیں، میں اسے واپس لینے جا رہا ہوں۔”
وہ دیر تک مجھے دیکھتا رہا۔
پھر بولا:
“جلدی کرنا بیٹا، کیونکہ خواب بھی انسانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ زیادہ دیر قید رہیں تو ایک دن خود کو آزاد سمجھنا بھول جاتے ہیں۔”
میں شہر سے باہر نکل آیا۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو بلند عمارتیں اب بھی چمک رہی تھیں۔
وہ شہر پہلے کی طرح خوبصورت تھا۔
بس فرق اتنا تھا کہ اب میں جان چکا تھا:
کچھ شہر اینٹوں اور پتھروں سے نہیں بنتے۔
وہ انسانوں کے ادھورے خوابوں کی قبروں سے بنتے ہیں۔
اور دنیا میں سب سے خوفناک قبرستان وہ نہیں جہاں مردے دفن ہوتے ہیں…
بلکہ وہ ہے جہاں زندہ انسان اپنے خواب دفن کر دیتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top