ریاضتِ وجود

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

یہ سوال محض سوال نہیں بلکہ ایک دعوتِ نظر ہے کہ کیا ہم نے کبھی ایسے صاحبِ حجاب کو دیکھا ہے جس نے نہ صرف چہرے پر پردہ رکھا ہو بلکہ اپنی ایّام و لیالی کو بھی کتمان کی چادر میں لپیٹ رکھا ہو؟ ایسا شخص جس کی ہستی پر کسی ایک، مگر نہایت شدید لمحے کی مہر ثبت ہو چکی ہو وہ لمحہ جو حادثہ کہلانے سے آگے بڑھ کر تقدیر بن گیا، اور واردات کی حد سے نکل کر ایک مستقل کیفیت میں ڈھل گیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جو رفتہ رفتہ وقت کے رگ و پے میں سرایت کر کے انسان اور عالمِ ظاہر کے درمیان ایک آہنی دیوار کی صورت قائم کر دیتا ہے۔ مگر یہ دیوار نہ دشمنی کی علامت ہے نہ کنارہ کشی کی؛ بلکہ وقار، ضبط اور تحفظ کی وہ حکیمانہ تدبیر ہے جو سطحی نگاہ کو روک دیتی ہے اور صاحبِ بصیرت کو آگے بڑھنے کا اذن دیتی ہے۔
بظاہر یہ صاحبِ حجاب خاموش، متین اور کم آمیز دکھائی دیتا ہے، لیکن اس سکوت کے پردے میں ایک مسلسل باطنی عمل جاری رہتا ہے۔ اس کی روح نے اس شدید لمحے کو محض جھیلا نہیں بلکہ غور و فکر، صبر و ضبط اور ریاضت کے مراحل سے گزار کر اپنی سرشت میں جذب کر لیا ہے۔ گویا اس نے درد کو فریاد بنانے کے بجائے فکر کا موضوع بنایا، اور فکر کو ایسی خاموشی میں ڈھال دیا جہاں لفظ اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں اور معنی اپنی اصل کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں چیخ بے مصرف ہو جاتی ہے، آہ بے معنی ٹھہرتی ہے، اور تحمل و وقار ایک منظم باطنی نظام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس کیفیت کو اگر کسی ایک جامع اصطلاح میں سمیٹا جائے تو وہ بلا شبہ “ریاضتِ وجود” ہے۔ یہ وہ خاموش مجاہدہ ہے جس میں انسان اپنے زخموں کو نمائش کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ تربیت کا وسیلہ بناتا ہے۔ یہاں دکھ شکوہ نہیں رہتا بلکہ تجربہ بن جاتا ہے، اور محرومی احساسِ کمی نہیں بلکہ وسعتِ شعور میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ وقت یہاں ساعتوں میں نہیں بلکہ کیفیات میں ناپا جاتا ہے؛ ہر دن امتحان ہے، ہر رات خلوت، اور ہر سانس وجود کے باطن میں ایک نئی شہادت کا اضافہ کرتی ہے۔
اہلِ عرفان بخوبی جانتے ہیں کہ ہر شدید صدمہ انسان کو توڑنے کے لیے نہیں آتا؛ بعض صدمات ایسے بھی ہوتے ہیں جو فنا کے مرحلے سے گزار کر بقا کی دہلیز تک پہنچا دیتے ہیں۔ جب یہی شدید لمحہ طول پکڑ لیتا ہے تو وہ وقت کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور وقت بن کر شعور میں ایک مستقل حجاب قائم کر دیتا ہے۔ یہ حجاب نہ جہالت کا ہے نہ فرار کا، بلکہ حجابِ ادراک ہے۔ اس کے پیچھے حقیقت بے پردہ نہیں بلکہ آراستہ و باوقار ہو کر جلوہ گر ہوتی ہے۔ اسی مقام پر فلسفہ اپنی حد کو پہنچ کر خاموش ہو جاتا ہے، کیونکہ عقل کی ترازو اس وزن کو اٹھانے سے قاصر رہتی ہے، سوال اپنی معنویت کھو دیتے ہیں اور جواب غیر ضروری محسوس ہونے لگتے ہیں۔
یہی وہ آہنی دیوار ہے جسے بعض لوگ فاصلہ سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ درحقیقت یہ حفاظت کی علامت ہے۔ یہ روح کو اس بازارِ تماشا سے محفوظ رکھتی ہے جہاں ہر زخم سند مانگتا ہے اور ہر آنسو قیمت۔ صاحبِ ریاضت نے اس سوداگری سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے، کیونکہ وہ جان چکا ہے کہ ہر راز افشا کے لیے نہیں ہوتا اور ہر درد اظہار کا محتاج نہیں۔ بعض حقیقتیں جب سینے میں دفن ہو جائیں تو قبر نہیں بنتیں بلکہ ایسی محرابیں بن جاتی ہیں جہاں خاموشی عبادت اور برداشت دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
یوں وہ شخص نہ معاشرے سے کٹتا ہے اور نہ اس میں بے محابا مدغم ہوتا ہے؛ وہ معنی کے ایک مستقل مدار میں گردش کرتا ہے۔ اس کا شدید لمحہ اب ناسور نہیں رہا بلکہ زادِ راہ بن چکا ہے۔ اس کی خاموشی کمزوری نہیں بلکہ وقار ہے، اور اس کا پردہ فرار نہیں بلکہ شعوری انتخاب۔ جو اسے دیکھتا ہے اور فقط پردے تک محدود رہتا ہے، وہ محروم رہتا ہے؛ اور جو پردے کے مفہوم تک رسائی حاصل کر لیتا ہے، وہ اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ اصل حجاب چہرے پر نہیں بلکہ نگاہ پر ہوتا ہے۔
بالآخر ریاضتِ وجود کسی انجام کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے ایسا سفر جس میں انسان اپنے آپ سے گزرتا ہوا اپنے معنی، اپنی حقیقت اور اپنے رب کے قرب کی منازل طے کرتا ہے۔ یہاں نہ فتح کا شور سنائی دیتا ہے نہ شکست کا ماتم؛ یہاں فقط تسلیم کی وہ خاموش روشنی ہے جو دل کے اندھیروں میں چراغ بن کر روشن رہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان یہ حقیقت جان لیتا ہے کہ سب سے بڑی عبادت خود کی اصلاح ہے، اور سب سے بڑی دانائی یہ کہ ہر لمحہ کہا نہیں جاتا کچھ لمحے جئے جاتے ہیں، اوڑھے جاتے ہیں، اور پھر وجود کی گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے جذب ہو جاتے ہیں۔ یہی ریاضتِ وجود ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top