اعتکافِ عمر

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

عمرِ انسانی کا حقیقی اعتکاف دراصل وجود کے اُس مرکزِ ثقلِ باطن کی طرف رجوع و مراجعت کا نام ہے جہاں کثرتِ حواس کی ہنگامہ آرائیاں خاموش ہو کر فنا کے آغوش میں ڈھل جاتی ہیں اور افقِ شعور پر وحدتِ شہود کا آفتابِ تاباں جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہ محض گوشہ نشینی یا ظاہری خلوت گزینی کا نام نہیں بلکہ شورِ کائنات کے لامتناہی تلاطم میں اپنے باطن کی اُس سکوتِ قدسی کو دریافت کر لینے کا عنوان ہے جہاں صدائے حق کے سوا ہر صدا محوِ عدم ہو جاتی ہے۔ جب سالکِ طریقِ حقیقت اپنے قلب کو ایک ایسی محرابِ حضوری میں تبدیل کر لیتا ہے جہاں غیر کی کوئی آہٹ باقی نہیں رہتی اور جہاں صرف ذاتِ واحدِ لاشریک کا نورِ حضوری جلوہ افروز ہوتا ہے تو گویا وہ ازل سے ابد تک کے اعتکاف میں داخل ہو جاتا ہے۔
یہ اعتکاف دراصل ایک ایسی ہجرتِ باطن ہے جس میں قدم نہیں بلکہ ارادے مسافت طے کرتے ہیں اور راستے نہیں بلکہ نیتوں کی تجرید منازل کو منکشف کرتی ہے۔ یہاں زمان و مکاں کی قیود تحلیل ہو جاتی ہیں اور معتکف اُس آنِ سرمدی میں سکونت اختیار کرتا ہے جو نہ ماضی کے ملال سے گراں بار ہے اور نہ مستقبل کے ہراس سے مضمحل۔اسی مقامِ کشف پر اعتکاف کی چٹائی مسجد کے ایک گوشۂ محدود سے پھیل کر کائناتِ بسیط کی وسعتوں کو محیط ہو جاتی ہے۔ اب اس کی نگاہ جو دیکھتی ہے وہ مشاہدۂ حق کا آئینہ بن جاتی ہے، اس کا لمس لمسِ قدرتِ ایزدی میں ڈھل جاتا ہے اور اس کا ہر سانس ایک ایسی تسبیحِ خاموش بن جاتا ہے جو لفظ و صوت کی احتیاج سے ماورا ہے۔
فلسفۂ عشق کی اصطلاح میں یہی اعتکاف دراصل اُس حضورِ دائم کی کیفیت ہے جہاں غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہاں انسان اپنی انانیت کے بت کو پاش پاش کر کے اُس حقیقت میں بقا پاتا ہے جس کے فیضان کا سایہ کل جہان پر محیط ہے۔ معتکفِ عمر وہ ہے جو خلق کے ہجوم میں رہ کر بھی خالق کے حضور سے غافل نہ ہو، جس کا ظاہر بازارِ حیات میں متحرک ہو مگر اس کا باطن خلوتِ غارِ حرا کی مانند نورِ معرفت میں مستغرق رہے۔
یہی وہ نقطۂ کمال ہے جہاں انسان اپنی خودی کے صدف کو شکست دے کر بحرِ بے کراںِ معرفتِ الٰہی میں غوطہ زن ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر گمشدگی دراصل گمراہی نہیں بلکہ یافتِ حقیقی کی تمہید بن جاتی ہے۔ کیونکہ جب سالک اپنی ہستی کے تعینات سے گزر کر حقیقتِ مطلق کے حضور میں محو ہو جاتا ہے تو تب اسے ادراک ہوتا ہے کہ اعتکاف دیواروں اور چٹائیوں کا محتاج نہیں بلکہ دل کی اُس وسعت کا نام ہے جو جب حضرتِ حق کی بارگاہ میں سرنگوں ہو جائے تو پوری زندگی ایک مسلسل اعتکاف بن جاتی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان جان لیتا ہے کہ
فنا فی الحق ہی دراصل بقا بالحق کی معراج ہے، اور یہی معراج جوہرِ حیات کی حقیقی بازیافت ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top