(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسانی نفسیات کے تاریک گوشوں میں ایک عجیب منطق جنم لیتی ہے کہ جب شعور کی دھوپ پختہ ہو جائے اور جب ضرورتوں کے تپتے صحرا میں کچھ سائے میسر آ جائیں، تو شاید محبت کی قندیل بجھا دینے میں کوئی ہرج نہیں۔ یہ ایک ایسا فریب ہے جسے دانائی کا لبادہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو خود کو ادھورے پن کے احساس سے ماورا قرار دیتے ہیں، دراصل اپنے وجود کے خالی پن کو فلسفوں کی گرد سے بھرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کہنا کہ مکمل ہو جانے والوں کو محبت کی حاجت نہیں رہتی، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ سمندر جب کناروں تک بھر جائے تو اسے چاندنی کی کشش کی ضرورت نہیں رہتی۔ حالانکہ سمندر کتنا ہی وسیع اور عمیق کیوں نہ ہو جائے، اس کے سینے میں اٹھنے والا تلاطم ہمیشہ کسی آسمانی اشارے کا منتظر رہتا ہے۔
یہ “سیانے لوگ” دراصل وہ مسافر ہیں جو تپتی راہوں میں آبلہ پائی سے اس قدر ہراساں ہوئے کہ انہوں نے منزل کے تصور ہی سے انکار کر دیا۔ محبت سے مکر جانا کوئی ارتقاء نہیں، بلکہ ایک دفاعی حصار ہے جو انسان اپنے گرد اس لیے کھینچ لیتا ہے تاکہ دوبارہ کسی کے سامنے اپنی روح کو بے لباس نہ کرنا پڑے۔ وہ اپنی ضرورت کو من مرضی کے نام دیتے ہیں؛ کبھی اسے خود شناسی کا بلند مرتبہ کہتے ہیں اور کبھی اسے تنہائی کی تقدیس کا عنوان دیتے ہیں۔ مگر یہ تمام پر شکوہ الفاظ دراصل اس سسکتی ہوئی خواہش کے جنازے ہیں جو ہر رات ان کے سینوں میں جی اٹھتی ہے۔ وہ جنہیں ہم ادھورے پن کا ادراک رکھنے والے کہتے ہیں، وہ تو دراصل اس خلا کے سب سے بڑے اسیر ہوتے ہیں، مگر انا کی قبا کو داغدار ہونے سے بچانے کے لیے وہ ایک ایسی جھوٹی کفایت کا ڈھونگ رچاتے ہیں جو اندر سے انہیں کھوکھلا کر دیتی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ محبت کوئی ایسی کمی نہیں جسے مادی آسائشیں یا ذہنی بلوغت بھر دے، بلکہ یہ تو وجود کا وہ بنیادی آہنگ ہے جس کے بغیر زندگی کی راگنی بے سری رہتی ہے۔ ضرورت آخری دم تک، آخری سانس تک اور آخری سسکتی ہوئی خواہش تک برقرار رہتی ہے۔ یہ پیاس مٹتی نہیں، بس رخ بدل لیتی ہے۔ جب انسان محبت کے نام سے خوفزدہ ہو کر اس سے کنارہ کش ہوتا ہے، تو وہی جذبہ کسی اور بھیس میں، کسی اور نام سے اس کے تعاقب میں رہتا ہے۔ ہم لاکھ سیانے بن جائیں، لاکھ اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے دعوے کریں، مگر کائنات کے اس ازلی سچ سے مکرنا ممکن نہیں کہ انسان کی روح ہمیشہ ایک دوسرے لمس، ایک دوسری آواز اور ایک ایسے دل کی متلاشی رہتی ہے جہاں وہ اپنے تمام تر کمال اور دانائی کے بوجھ کو اتار کر ایک لمحے کے لیے سستا سکے۔ یہ انکار دراصل اقرار کی ایک تھکی ہوئی صورت ہے، کیونکہ جو چیز جتنی ناگزیر ہوتی ہے، اس سے مکرنے کے لیے اتنے ہی بڑے جھوٹ تراشنے پڑتے ہیں۔
