(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسانی وجود کی پوری داستان دراصل رفاقت کی جستجو ہے۔ کائنات کا نظام بھی تنہائی پر نہیں بلکہ توازن اور تکمیل پر قائم ہے۔ دن رات سے مکمل ہوتا ہے، زمین آسمان کے ساتھ اپنے مدار میں معنی پاتی ہے، اور انسان اپنی داخلی کائنات میں ایک ایسے ہمسفر کی تلاش میں رہتا ہے جو اس کے وجود کی ادھوری صداؤں کو مکمل کر دے۔ اسی فطری توازن کی سب سے نمایاں صورت مرد اور عورت کا تعلق ہے ، ایک ایسا رشتہ جو محض سماجی بندھن نہیں بلکہ فطرت کے عمیق رازوں میں سے ایک راز ہے۔
مرد اور عورت دراصل دو متقابل قوتیں نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو تکمیلی رخ ہیں۔ ان کا باہمی تعلق کسی تصادم کا نہیں بلکہ تکمیل کا رشتہ ہے۔ جب یہ رشتہ محبت، احترام اور اعتماد کے اصولوں پر قائم ہو تو زندگی ایک ہم آہنگ نغمہ بن جاتی ہے، مگر جب اس میں اختیار کی سختی اور تسلّط کی خواہش در آتی ہے تو یہی نغمہ بے سُری ہو جاتا ہے۔
اس رشتے میں مرد کا ہاتھ ایک گہری علامت رکھتا ہے۔ اگر یہ ہاتھ محبت سے بڑھ کر تھاما جائے تو وہ سایہ بن جاتا ہے، ایسا سایہ جو زندگی کی تپتی دھوپ کو نرم کر دیتا ہے۔ وہ حوصلہ بن جاتا ہے، وہ اعتماد بن جاتا ہے، وہ ایک ایسا سہارا بن جاتا ہے جو تھکن کے لمحوں میں روح کو سنبھال لیتا ہے۔ مگر جب یہی ہاتھ اختیار کی گرفت میں بدل جائے اور عورت کے افق کا تعین کرنے لگے، اس کے خوابوں کے گرد حصار کھینچنے لگے، تو وہی ہاتھ رفاقت کی علامت نہیں رہتا بلکہ زنجیر بن جاتا ہے۔
عورت کی زندگی میں مرد کی ضرورت کا مفہوم اسی نازک فرق میں پوشیدہ ہے۔ وہ اسے محافظ یا حاکم کے طور پر نہیں چاہتی بلکہ ایک ایسے شریکِ سفر کے طور پر چاہتی ہے جو اس کے قدموں کی ہم آہنگی میں چل سکے۔ کیونکہ حقیقی رفاقت کسی ایک کی حکمرانی سے نہیں بلکہ دو ارادوں کی ہم آہنگی سے جنم لیتی ہے۔
زندگی کے سفر کو اگر ایک دریا سمجھ لیا جائے تو مرد اور عورت اس دریا کے دو مسافر ہیں جو ایک ہی کشتی میں بیٹھے ہیں۔ اس کشتی کی سمت بھی مشترکہ ہوتی ہے اور اس کی رفتار بھی باہمی ہم آہنگی سے متعین ہوتی ہے۔ اگر ایک مسافر صرف حکم دیتا رہے اور دوسرا محض پیروی کرے تو کشتی اپنا توازن کھو دیتی ہے۔ مگر جب دونوں مل کر چپو چلائیں تو دریا کی تند موجیں بھی ان کے سفر کو نہیں روک سکتیں۔
اسی لیے مرد کا ہاتھ اس وقت تک نعمت ہے جب تک وہ سہارا ہے، اور اسی لمحے آزمائش بن جاتا ہے جب وہ تسلّط میں بدل جائے۔ محبت کی اصل عظمت اسی میں ہے کہ وہ آزادی کو محدود نہیں کرتی بلکہ اسے وسعت دیتی ہے۔ کیونکہ محبت اگر قید بن جائے تو وہ محبت نہیں رہتی، اور رفاقت اگر اختیار میں ڈھل جائے تو وہ رفاقت نہیں رہتی۔
عورت کو مرد کے ہاتھ کی ضرورت ہے، مگر اس ہاتھ کی جو اس کے وجود کو سہارا دے، اس کے خوابوں کی حفاظت کرے اور اس کے افق کو وسیع کرے۔ وہ سایہ چاہتی ہے مگر اپنی دھوپ میں چلنے کی اجازت بھی۔ وہ رفاقت کی طلبگار ہے مگر غلامی کی نہیں۔
حقیقی مردانگی اسی میں ہے کہ مرد عورت کے شانہ بشانہ کھڑا ہو ، نہ اس سے آگے اس کی سمت متعین کرنے کے لیے، اور نہ اس کے پیچھے اسے تنہا چھوڑ دینے کے لیے۔ بلکہ اس کے ساتھ، اس کے خوابوں کے احترام کے ساتھ، اس کے سفر کی حرمت کے ساتھ۔
اسی توازن میں زندگی کی اصل حکمت پوشیدہ ہے۔ کیونکہ جب مرد کا ہاتھ محبت کی علامت بن جائے اور عورت کا وجود آزادی کے ساتھ اپنی روشنی بکھیرے، تو رشتہ محض ضرورت نہیں رہتا بلکہ تکمیلِ حیات کا استعارہ بن جاتا ہے۔
اور شاید رفاقت کی سب سے اعلیٰ تعریف یہی ہے کہ دو انسان ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، مگر ایک دوسرے کے آسمان کو محدود نہ کریں۔ کیونکہ جہاں محبت آزادی کے ساتھ زندہ رہتی ہے، وہیں رشتہ زنجیر نہیں بنتا بلکہ دو روحوں کی مشترکہ پرواز بن جاتا ہے۔
