بلدِ عشق

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

​بلدِ عشق اس بستی کا نام ہے جس کا نقشہ کسی ارضی کاغذ پر نہیں بلکہ انسان کے باطن کی لوح پر کھینچا گیا ہے۔ یہ وہ مقامِ مقام ہے جہاں پہنچ کر مسافر کی “میں” فنا ہو جاتی ہے اور صرف “تُو” کا جلوہ باقی رہ جاتا ہے۔ صوفیا کے نزدیک بلدِ عشق وہ مقدس خطہ ہے جہاں کی ہوا استقامت ہے، جس کی زمین طہارت ہے اور جس کا آسمان معرفتِ الٰہی کی ابدی ضیا سے منور ہے۔ اس شہر میں داخل ہونے کے لیے پہلا قدم اپنی ہستی سے دستبرداری ہے، کیونکہ عشق کی دہلیز پر سر وہی رکھ سکتا ہے جو اسے ہتھیلی پر لے کر آیا ہو۔ عقل اگرچہ چراغِ راہ ہے، مگر بلدِ عشق کی سرحد پر وہ دم توڑ دیتی ہے، کیونکہ وہاں کی تپش سورج کی ضیا سے کہیں زیادہ شدید ہے۔ بقولِ عارف، جب تک انسان اپنی ہستی کو مٹاتا نہیں، وہ اس شہر کا شہری نہیں بن سکتا کیونکہ اس بستی کا دستور ہی یہ ہے کہ یہاں صرف وہی زندہ رہتا ہے جو خود کو قربان کر چکا ہو۔
​بلدِ عشق میں نماز کی حقیقت صرف حرکات و سکنات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ محبوبِ حقیقی سے وہ راز و نیاز ہے جس میں کائنات کے تمام حجابات اٹھا دیے جاتے ہیں۔ اس شہر کے باشندے جب سجدہ کرتے ہیں تو وہ پیشانی زمین پر نہیں بلکہ قدمِ یار پر رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس “اسمِ اعظم استقامت” کا ذکر فرمایا ہے وہ درحقیقت اسی بلدِ عشق کی بنیاد ہے۔ یہاں کی زندگی اس صراطِ مستقیم پر چلنے کا نام ہے جہاں قدم ڈگمگانا کفر سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کے رہنے والے وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو “الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقَامُوا” کے مِصداق بن کر ملائکہ کی ہم کلامی کا شرف پاتے ہیں۔ اس بستی کی خاک میں وہ تاثیر ہے کہ اگر بَیْضَۂِ بَشَرِیَّت اس کی حرارت تلے رکھا جائے تو اس میں سے وہ روح جنم لیتی ہے جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔
​اس بستی کا دوسرا نام اِنْقِطَاع بھی ہے یعنی کائنات کی ہر شے سے کٹ کر صرف اس ایک سے جڑ جانا جو کل کائنات کا خالق ہے۔ بلدِ عشق کے بازاروں میں سودا سلف نہیں بلکہ جان و دل کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہاں کے لوگ ظَالِمٌ لِنَفْسِہٖ اور مُقْتَصِدٌ کے مقامات سے گزر کر سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ یہاں سکون کا مفہوم دنیاوی آسائشات نہیں بلکہ وہ برودت اور سکینت ہے جو دعا کی قبولیت کے بعد دل پر طاری ہوتی ہے۔ جب اس بستی کا کوئی مکین پکارتا ہے تو عرشِ بریں لرز اٹھتا ہے کیونکہ اس کی آواز میں اس کی اپنی انا شامل نہیں ہوتی بلکہ وہ محبوب کی آواز میں اپنی آواز ملا چکا ہوتا ہے۔ بلدِ عشق کا ہر راستہ فنا سے شروع ہوتا ہے اور بقا باللہ پر ختم ہوتا ہے۔
​حاصلِ کلام یہ ہے کہ بلدِ عشق تک پہنچنے کا سفر توبہ کے آنسوؤں سے شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں خودی کو عشق کی آتش میں لایا جاتا ہے تاکہ کندن بن کر وہ اس لائق ہو سکے کہ جمالِ الٰہی کا مشاہدہ کر سکے۔ یہاں پہنچنے کے بعد انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں تیرے سوا کچھ نہیں تھا، صرف میری نظر کے پردے حائل تھے۔ بلدِ عشق وہ آخری ٹھکانہ ہے جہاں روح اپنے اصل مرکز سے جا ملتی ہے اور پھر موت و حیات کے فاصلے ہمیشہ کے لیے مٹ جاتے ہیں۔ یہی وہ منزل ہے جس کی تاہنگ میں اولیاء اللہ اور انبیاء علیہم السلام نے اپنی زندگیاں تڑپ کر گزار دیں، کیونکہ اس شہر کی ایک پل کی سکونت دونوں جہانوں کی بادشاہی سے بہتر ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top