(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسانی وجود کی ساخت میں طلب یا بھوک ایک ایسا بنیادی جزو ہے جو زندگی کی گاڑی کو رواں رکھتا ہے۔ یہ بھوک صرف روٹی کی نہیں ہوتی؛ یہ طاقت کی بھوک ہے، یہ محبت اور توجہ کی بھوک ہے، یہ منصب اور شہرت کی بھوک ہے۔ لیکن جب یہ بھوک شعور کی آنکھ سے محروم ہو جائے اور اندھی ہو جائے، تو یہ ایک ایسے درندے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو باہر کی دنیا کو تسخیر کرنے کے بعد آخر کار اپنے ہی وجود کو نوچنا شروع کر دیتا ہے۔ اندھی بھوک کا مطلب وہ بے لگام خواہش ہے جو اخلاقیات، حدود اور دوسروں کے حقوق سے بے نیاز ہو جائے۔ ایسا انسان جب اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ہر حد پار کرتا ہے، تو بظاہر وہ کامیاب نظر آتا ہے، مگر باطنی طور پر وہ اپنے ہی انسانی جوہر کو نگل چکا ہوتا ہے۔ وہ جتنا زیادہ حاصل کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ کھوکھلا ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا وجود محض ایک لایعنیت کا ڈھیر بن جاتا ہے۔
حقیقی انسانی کمال اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسی بھوک کے بیچوں بیچ انکار کی قوت جنم لیتی ہے۔ جب انسان کے سامنے وہ لقمہ ہو جس پر اس کا حق نہیں، وہ منصب ہو جس کا وہ اہل نہیں، یا وہ لذت ہو جو کسی کی دل آزاری سے جڑی ہو، اور وہ اپنی تڑپتی ہوئی بھوک کے باوجود وہاں سے نظر پھیر لے، تو یہ لمحہ اس کی روحانی کفالت کا لمحہ ہوتا ہے۔ یہاں بھوک ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ تہذیب یافتہ ہو جاتی ہے۔ ناحق سے نظر پھیر لینے کی یہ طاقت انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنی جبلتوں کا قیدی نہیں بلکہ ان کا حاکم ہے۔ جب آپ اپنی بھوک کو قابو کرنا سیکھ لیتے ہیں، تو آپ کی شخصیت میں وہ وقار پیدا ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی دولت نہیں خرید سکتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بھوک زوال کا سبب بننے کے بجائے ارتقاء کا زینہ بن جاتی ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ بھوک بذاتِ خود کوئی برائی نہیں بلکہ ایک خام توانائی ہے۔ یہ اس ایندھن کی طرح ہے جو اگر انجن کے اندر جلے تو سفر طے کرواتا ہے، اور اگر کھلے عام بھڑک اٹھے تو بستی کو راکھ کر دیتا ہے۔ ہم اسے کس سمت موڑتے ہیں، یہی ہمارے انسانی ہونے کا امتحان ہے۔ اگر ہم اپنی طلب کو دوسروں کے استحصال کا ذریعہ بنائیں گے، تو یہ اندھی بھوک ہمیں اخلاقی دیوالیہ پن کی اس دلدل میں لے جائے گی جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم اسی تڑپ کو جستجو، محنت اور حق پرستی کے راستے پر ڈال دیں، تو یہی بھوک ہمیں تخلیق کے اعلیٰ درجوں تک پہنچا دیتی ہے۔
ایک ناصحانہ نقطہِ نظر سے دیکھیں تو آج کا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم نے بھوک کو مقصدِ زندگی بنا لیا ہے، جبکہ یہ صرف ذریعہِ زندگی تھی۔ جس دن انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے پیٹ کا دائرہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، کائنات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اسی دن وہ ناحق کے لقمے سے بیزار ہو جاتا ہے۔ اپنی بھوک کو کمال تک لے جانے کا راستہ صرف یہ ہے کہ اسے حلال اور حق کی حدود میں مقید کر دیا جائے۔ یاد رکھیے، وہ انسان جو اپنی خواہش کے سامنے “نہیں” کہنے کی جرات رکھتا ہے، وہی دراصل کائنات کا آزاد ترین انسان ہے۔ وہ بھوک جو آپ کو دوسروں کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے، وہ زوال ہے؛ اور وہ بھوک جو آپ کو اپنے نفس کے خلاف کھڑا کر دے، وہی آپ کا اصل کمال اور آپ کی روح کی حقیقی کفالت ہے۔
