افسانے

کاغذی محل

​شام کے ٹھیک سات بجے، انٹرنیشنل کیپیٹل ہاؤس کی چودھویں منزل پر بنے شیشے کے شاندار کیبن میں، دانیال اپنی گھومنے والی کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ سامنے لگی تین بڑی ڈیجیٹل اسکرینوں پر نیویارک، لندن اور ٹوکیو کی مارکیٹوں کے گراف لال اور سبز لکیروں کی صورت میں...

خوابوں کی اوٹ

​پرانے شہر کی اس تنگ، تاریک گلی کی چوتھی منزل پر، جہاں کھڑکی کھولو تو سامنے کسی اور کے گھر کی دیوار نظر آتی تھی، اس کا کینوس سجا رہتا تھا۔ فرحان پیشے کے لحاظ سے ایک گرافک ڈیزائنر تھا، جو دن بھر اشتہاروں کے لیے بے جان، چمکتے ہوئے...

خاک کا سفر

​وہ پچھلے چالیس سالوں سے شہر کی سب سے پرانی خانقاہ کے صحن میں جھاڑو دے رہا تھا۔ لوگ اسے سائیں توکل کہتے تھے۔ اس کی کمر جھک چکی تھی، داڑھی کے بال برف کی طرح سفید ہو چکے تھے، اور آنکھیں دو بجھے ہوئے چراغوں کی مانند تھیں جن...

سود خور کا جادو

​رحیم رکشہ چلاتے ہوئے تپتی سڑکوں پر پچھلے پندرہ سال سے دوڑ رہا تھا۔ اس کی زندگی کا ایک ہی ہدف تھا: اپنی بیٹی کی شادی اور کرائے کے مکان سے نجات۔ پچھلے سال، حين پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور سواریوں نے رکشے کے کرائے پر بحث...

کاغذی چہرے

​شام کے سائے گہرے ہوتے ہی حویلی کے بڑے دالان میں رنگ برنگی فانوس روشن ہو گئے تھے۔ چودھری ذوالقرنین کی بیٹی کی شادی کی یہ آخری اور سب سے بڑی تقریب تھی۔ شہر کے نامور سیاستدان، بیوروکریٹس اور تاجر اپنے ریشمی لباسوں کی چمک دمک اور چہروں پر مصنوعی...

خلا کا قیدی

​کائنات کی آخری سرحد پر بنے اس مائع ہائیڈروجن کے اسٹیشن پر، وہ پچھلے بیس سالوں سے اکیلا رہ رہا تھا۔۔صرف ستاروں کی خاموشی اور کمپیوٹر کی مشینی گھنٹیاں اس کی ساتھی تھیں۔ اس کا کام زمین سے بھیجے جانے والے ان سگنلز کو ریکارڈ کرنا تھا جو انسان کائنات...

​عکس اور آئینہ

​شام کا دھندلکا بستی پر اتر رہا تھا جب وہ اپنی حویلی کے آخری، تاریک کمرے میں داخل ہوا۔ اس کمرے میں صرف ایک چیز تھی: دادا جان کا چھوڑا ہوا وہ قدیم آئینہ، جس کے فریم پر سانپ کی شکل کے نقش و نگار بنے تھے۔ ​بستی میں ان...

فٹ پاتھ اور سنگِ مرمر

​شہر کی سب سے چمکتی ہوئی شاہراہ پر، جہاں بڑی بڑی گاڑیوں کے شیشے سورج کی شعاعوں کو چوم کر گزرتے تھے، سڑک کے ایک کنارے فٹ پاتھ تھا اور دوسرے کنارے ایک نئی، عالی شان کمرشل بلڈنگ بن رہی تھی۔ اس عمارت کے فرش پر دنیا کا مہنگا ترین...

تیسرا کپ

میرا نام کرامت بخش ہے، مگر اس گھر میں سب مجھے چاچا کرامت کہتے تھے۔ میں نے اپنی عمر کے پچاس سے زیادہ برس اس ایک گھر میں دیکھے ہیں۔ میں نے انسانوں کو بدلتے، موسموں کو پلٹتے اور رشتوں کو ٹوٹ کر پھر ٹوٹتے دیکھا ہے۔ مگر میں نے...

Scroll to Top