افسانے

ماں کے بعد کی دنیا

ماں کے ہاتھوں میں ممتا کا لمس نہیں، تقدیر کا وہ غیر مرئی قلم ہوتا ہے جو چپکے سے بچے کا مقدر سنوار رہا ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ جن کی ہتھیلیوں پر وقت کے غار کھد چکے ہوں، پوروں پر مشقت کی دراڑیں جم چکی ہوں اور رنگت محنت کی...

مقدس قبروں کے مجاور

شہر میں قبریں کم تھیں، مجاور زیادہ۔ یہ عجب شہر تھا؛ یہاں لوگ مردوں کو دفن کرنے کے بعد ان سے جان نہیں چھڑاتے تھے، بلکہ اپنی باقی زندگی ان کی قبر کے گرد گزار دیتے تھے۔ کسی نے اپنی جوانی دفن کر رکھی تھی، کسی نے محبت، کسی نے...

وہ دریا جو پیاسا تھا

ایک شخص تھا جس نے ساری عمر اپنی پیاس کو دشمن سمجھا۔ اسے یقین تھا کہ سکون پانی پینے میں نہیں، پیاس مٹانے میں ہے؛ چنانچہ اس نے کنویں چھوڑے، دریا چھوڑے، بارشوں سے منہ موڑا اور اپنے ہونٹوں کو ریاضت کی مٹی سے سی دیا۔ لوگ اسے صاحبِ حال...

شہرِ خواہش

کہتے ہیں، ایک شہر تھا جس کا نام کسی نقشے میں درج نہیں تھا۔ وہاں جانے کے لیے راستہ نہیں، خواہش درکار تھی۔ جو شخص جس چیز کو سب سے زیادہ چاہتا، شہر اس کے سامنے وہی دروازہ کھول دیتا۔ دولت چاہنے والے کے لیے خزانے تھے، شہرت کے طالب...

وہ شخص جو کسی جیسا نہیں تھا

شہر میں ہر شخص کسی نہ کسی جیسا تھا۔ کوئی اپنے باپ کی آواز میں بولتا تھا، کوئی اپنے استاد کی طرح سوچتا تھا، کوئی اپنے محبوب کے لہجے میں محبت کرتا تھا اور کوئی اپنے ہمسائے کے خواب چرا کر انہیں اپنی خواہشوں کا نام دیتا تھا۔ اس شہر...

آئینے کے اُس پار

رات بہت دیر سے جاگ رہی تھی۔ کمرے میں صرف ایک زرد بلب جل رہا تھا اور سامنے دیوار پر لٹکا ہوا ایک پرانا آئینہ خاموشی سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے کئی برسوں سے اسے اسی جگہ دیکھا تھا، مگر اُس رات پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ...

وہ شخص جس کی ایک آنکھ میں صبح تھی

کہتے ہیں، کائنات کی ابتدا میں جب انسان کو مٹی سے تراشا گیا تو خالق نے اس کے سینے میں ایک عجیب سا راز رکھ دیا۔ اسے خود بھی معلوم نہ تھا کہ وہ راز کیا ہے۔ بس اتنا تھا کہ جب بھی وہ کسی منظر کو دیکھتا، منظر دو...

کرائے کا آدمی

ساور کو ایک عجیب عادت تھی۔ ہر صبح آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر وہ اپنا چہرہ دیکھتا اور اسے محسوس ہوتا کہ یہ چہرہ اس کا نہیں۔ آنکھیں اس کی تھیں، آواز بھی اس کی تھی، مگر اندر کوئی اور رہتا تھا۔ پہلے اس نے اس احساس کو تھکن...

آخری دروازہ

ساور ان لوگوں میں سے تھا جنہیں دنیا کامیاب کہتی ہے۔ اس کی زندگی میں وہ سب کچھ موجود تھا جسے حاصل کرنے کے لیے لوگ عمریں کھپا دیتے ہیں۔ دولت اس کے اشاروں کی تابع تھی، اختیار اس کے دروازے پر دستک دیتا تھا، اور شہرت اس کے نام...

خاموشیوں کا محافظ

کہتے ہیں دنیا کے تمام نقشے ایک وادی پر آ کر ختم ہو جاتے تھے؛ اس کے آگے صرف خاموشی کا جغرافیہ شروع ہوتا تھا۔ وہاں پہنچنے والے مسافر بولنا نہیں بھولتے تھے، مگر انہیں جلد معلوم ہو جاتا تھا کہ اس وادی میں زبان کسی کام کی نہیں۔ یہاں...

Scroll to Top