افسانے

دستخط

اس کے انتقال کے بعد گھر سے بہت سے کاغذات نکلے۔ زمین کے۔ بینک کے۔ بیمے کے۔ وصیت کے۔ ہر کاغذ پر اس کے دستخط موجود تھے۔ صرف ایک معاہدہ ایسا تھا... جس پر وہ پوری زندگی دستخط نہ کر سکا۔ وہ معاہدہ... اس کا اپنے آپ سے تھا۔ بچپن...

آئینہ

اس کے انتقال کے بعد گھر میں سب سے زیادہ بحث جائیداد پر نہیں ہوئی۔ بحث ایک پرانے آئینے پر ہوئی۔ وہی آئینہ جو پچاس برس سے اس کے کمرے کی دیوار پر لٹکا تھا۔ بیٹے نے کہا، "یہ تو پرانا ہو چکا ہے، پھینک دو۔" بیٹی نے خاموشی سے...

خالی کرسی

وہ بوڑھا آدمی کسی محکمے کا سربراہ نہیں تھا، نہ عالم، نہ شاعر، نہ کوئی مشہور شخصیت۔ وہ صرف ایک دربان تھا۔ چالیس برس تک ایک ہی عمارت کے مرکزی دروازے پر بیٹھا رہا۔ ہر آنے والے کو سلام کرتا۔ ہر جانے والے کو دعا دیتا۔ لوگ اس کا نام...

آخری دروازہ

شہر کے پرانے حصے میں ایک ایسا مکان تھا جس کے دروازے پر کبھی تالا نہیں لگا۔ لوگ کہتے تھے، "یہ بوڑھا آدمی عجیب ہے۔" وہ مسکرا دیتا۔ "جس کا کوئی انتظار نہ ہو، اسے تالے کی ضرورت نہیں ہوتی۔" ہر صبح وہ دروازہ کھول کر ایک کرسی باہر رکھ...

بند لفافہ

بارش ابھی تھمی ہی تھی۔ ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان پر دو ہاتھ ایک ہی کتاب کی طرف بڑھے۔ دونوں نے فوراً ہاتھ کھینچ لیے۔ "آپ لے لیجیے۔" دونوں نے ایک ساتھ کہا۔ چند لمحے خاموشی رہی، پھر دونوں ہنس دیے۔ پچیس برس بعد وہ...

نقاب اور حقیقت

قدیم شہر کی گلیوں میں، جہاں ہر اینٹ میں کہانیاں بسی تھیں، سلمیٰ اور اس کا شوہر علی ایک معمولی سے مگر محبت بھرے گھر میں رہتے تھے۔ سلمیٰ کا دل نرم اور خیالوں سے بھرا تھا، لیکن وہ ہمیشہ اپنے آپ کو دنیا کی چمک دمک سے محروم محسوس...

مٹی کی لاج

​ساون کا بادل پورے خطے پر منڈلا رہا تھا، مگر اب کے برس وہ چوہدری حشمت کے ڈیرے پر آ کر ٹھہر گیا۔ چناب کے کنارے آباد اس پنڈ میں اگر کسی جوان کا چرچا تھا، تو وہ بوڑھے رحمو کا بیٹا قاسم تھا۔ قاسم کڑیل جوان تھا اور جب...

پگڑی کی لاج

​سورج ابھی پوری طرح نہیں ابھرا تھا، مگر سکھ چوہدریوں کی چوپال کے سامنے بنے بڑے کنویں پر رونق شروع ہو چکی تھی۔ گاموں نے بیلوں کی جوڑی کو ناد سے باندھا اور گہرے کنویں سے چمڑے کا بوکا کھینچنے لگا۔ پچھلے چالیس سالوں سے اس کی صبح اسی کنویں...

رنگِ حنا

​ڈاکٹر کامران نے بستر کی دائیں جانب بنے سائیڈ ٹیبل پر پچھلے چھ ماہ کی میڈیکل رپورٹس کو ایک بار پھر دیکھا اور عینک اتار کر صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔ پورا کمرہ سنسان تھا، صرف باہر صحن میں خزاں کی ہوا سے گرنے والے سوکھے پتوں کی...

آئینے کا عکس

​رات کے دو بج رہے تھے جب سرفراز کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ پورے گھر میں قبرستان جیسا سناٹا تھا، صرف ہال میں لگے کلاک کے ٹک ٹک کرنے کی آواز اس کے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔ اس نے ماتھے پر آیا ہوا ٹھنڈا پسینہ پونچھا...

Scroll to Top