افسانے

وہ چراغ جو راستہ کھا گیا

کہتے ہیں کچھ سفر قدموں سے نہیں، یقین سے طے ہوتے ہیں۔ وہ بھی ایک ایسے ہی سفر پر نکلا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی نقشہ نہیں تھا، نہ راستے کا علم، نہ منزل کا پتہ۔ بس دل میں ایک یقین تھا کہ پہاڑوں کے اس پار کہیں ایک...

وہ تحفہ جو قبول نہ ہوا

کہتے ہیں انسان اپنی زندگی میں بہت سے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، مگر سب سے مشکل دروازہ وہ ہوتا ہے جو اس کے اپنے اندر کھلتا ہے۔ میں بھی برسوں سے اپنے اندر ایک شہر آباد کیے بیٹھا تھا۔ اس شہر میں خواہشوں کے محل تھے، انا کے قلعے تھے، خوف...

ٹوٹے ہوئے دائرے

"تم نے کبھی پلٹ کر مجھے ڈھونڈا؟" اس نے سوال نہیں کیا تھا، جیسے برسوں سے اپنے اندر رکھی ہوئی ایک سانس باہر نکالی ہو۔ میں نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔ "کیوں؟" "اس لیے کہ جو چیز اللہ مجھ سے لے لے، اسے انسانوں کے دروازوں پر مانگنا...

آخری چراغ کے بعد

شہر کے کنارے ایک بوڑھا چراغ ساز رہتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے ہاتھوں میں مٹی نہیں، روشنی نرم ہو کر اترتی ہے۔ وہ جب شیشہ تراشتا تو یوں لگتا جیسے ہوا کو شکل دے رہا ہو، اور جب چراغ بناتا تو محسوس ہوتا کہ اندھیرا اپنی شکست...

کندھے کا آخری پتھر

جب تو گھر سے نکلی تو تیرے ہاتھ خالی تھے اور دل بھرا ہوا۔ لوگوں نے کہا، "خالی ہاتھ محبوب کے در پر جانا بے ادبی ہے۔" تو راستے ہی میں تحفہ ڈھونڈنے لگی۔ پہلا شخص ملا۔ اس نے تیرے کندھے پر ایک پتھر رکھ دیا۔ کہنے لگا: "یہ تیری...

آخری پردہ

قیامت سے پہلے کی ایک رات تھی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا میدان ہے۔ ہر شخص اپنے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی تحفہ اٹھائے ایک عظیم الشان دربار کی طرف جا رہا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں عبادت تھی، کسی کے ہاتھ میں علم، کسی کے...

بے نام قبریں

بستی کے کنارے ایک ایسا گھر تھا جس کے دروازے پر کبھی کنڈی نہیں لگی۔ شاید اس لیے کہ وہاں سے چوری ہونے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا تھا، اور آنے والوں کو روکنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ دیواریں کچی تھیں، مگر ان پر وقت نے اتنی دراڑیں...

جو موسم کبھی ختم نہیں ہوتے

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے انسان کو گوشت اور ہڈیوں سے نہیں، موسموں سے بنایا ہے۔ باہر کا موسم تو کیلنڈر بدلنے سے بدل جاتا ہے، مگر اندر کا موسم کسی تاریخ کا پابند نہیں ہوتا۔ کسی کے اندر برسوں سے خزاں پڑی ہوتی ہے، حالانکہ اس...

خالی کرسی کی گواہی

اس کمرے میں سب کچھ موجود تھا، صرف وہ نہیں تھا جس کی غیر موجودگی نے اس کمرے کو ایک مکمل کہانی بنا دیا تھا۔ کھڑکی کے پردے اب بھی اسی طرح ہلتے تھے جیسے کسی کے آنے کی خبر دینا چاہتے ہوں۔ دیوار پر لگی گھڑی اب بھی وقت...

صدائے مجروح

مہرین کے لیے وہ کوئی لمحہ نہیں تھا، ایک ایسی دہلیز تھی جہاں وقت آ کر ٹھہر گیا تھا۔ وہ ماضی اور حال کے درمیان کھڑی تھی؛ نہ پیچھے لوٹ سکتی تھی، نہ آگے بڑھنے کا حوصلہ پاتی تھی۔ کمرے کی خاموشی میں ایک عجیب سا بوجھ تھا۔ یہ وہ...

Scroll to Top