تحریرات
طاقت کے ملبے پر کھڑی عقل
دنیا میں ہر جنگ میدان میں نہیں لڑی جاتی اور ہر فتح کے لیے بازوؤں کا مضبوط ہونا بھی ضروری نہیں۔ کبھی انسان کے پاس مقابلے کے لیے لشکر نہیں ہوتا، اختیار نہیں ہوتا، دولت نہیں ہوتی، حتیٰ کہ اپنی بات منوانے کی آواز بھی نہیں ہوتی۔ ایسے میں اس...
جو دکھ لفظ ہو جائے
کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان سہہ تو لیتا ہے مگر اپنے اندر دفن نہیں کر پاتا۔ وہ کسی نہ کسی راستے سے باہر آنا چاہتے ہیں؛ کبھی آنکھ کے راستے، کبھی خاموشی کے راستے اور کبھی لفظ بن کر۔ عجیب بات ہے کہ انسان اپنے سب سے بڑے...
کربلا ابھی زندہ ہے
بات صرف جنگ کی نہیں، شعور کی ہے۔ مسئلہ صرف ہتھیار کا نہیں، کردار کا ہے۔ قومیں اُس دن شکست نہیں کھاتیں جب اُن کے قلعے مسمار ہوتے ہیں، بلکہ اُس دن ہار جاتی ہیں جب اُن کے دلوں سے مزاحمت کا چراغ بجھ جاتا ہے، جب اُن کے نوجوانوں...
دیوانگی کا تقدس
تخلیق کبھی میز پر رکھی روشنائی سے جنم نہیں لیتی وہ پہلے انسان کے اندر ایک خاموش قیامت برپا کرتی ہے وہ دل کے کسی تاریک گوشے میں آہستہ آہستہ خون بنتی ہے پھر آنسو پھر چیخ پھر دعا… اور آخرکار لفظ ہر بڑا تخلیق کار دراصل دو زندگیاں جیتا...
عشق کی آخری قیمت
کچھ محبتیں انسان کو آباد نہیں کرتیں، وہ اُسے آہستہ آہستہ اپنی ہی ذات سے بےدخل کر دیتی ہیں۔ پہلے وہ دل سے سکون چھینتی ہیں، پھر نیند، پھر ہنسی، پھر وہ تمام چیزیں جن کے سہارے انسان خود کو زندہ محسوس کرتا ہے۔ اور ایک دن ایسا آتا ہے...
خوف کے مرنے کے بعد
انسان اکثر محبت نہیں نبھاتا… وہ صرف کھو دینے کے خوف کو زندہ رکھتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل رہے ہوتے، بلکہ ایک دوسرے کے بچھڑ جانے کے اندیشے کو کندھوں پر اٹھائے گھسٹ رہے ہوتے ہیں۔ رشتے پھر محبت کے باغ نہیں رہتے، خاموش سمجھوتوں کے...
جب قُرب کرب بن جائے
بعض اوقات انسان فاصلے سے نہیں ٹوٹتا… وہ قربت سے بکھر جاتا ہے۔ ہجر ہمیشہ میلوں کی دوری کا نام نہیں ہوتا، کبھی کبھی دو لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب آ جاتے ہیں کہ اُن کے درمیان سانس لینے کی جگہ بھی باقی نہیں رہتی، اور پھر یہی قربت...
درد کا تقدس
کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو انسان صرف جھیلتا نہیں، اُنہیں اپنی رُوح میں بسا لیتا ہے۔ وقت اُن پر مٹی نہیں ڈال پاتا، بلکہ وہ درد آہستہ آہستہ انسان کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہی درد اُس کا شعور، اُس...
شہرت کا فریب
انسان کی فطرت میں ایک عجیب طلب رکھی گئی ہے؛ وہ چاہتا ہے کہ اسے دیکھا جائے، پہچانا جائے، سراہا جائے اور اس کا نام دوسروں کی زبانوں پر رہے۔ یہی خواہش اگر اعتدال میں ہو تو انسان کو محنت، تخلیق اور خدمت کی طرف لے جاتی ہے، لیکن جب...
کیا ہم ہار چکے ہیں
کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کا بوجھ اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ "کیا ہم ہار چکے ہیں؟" بھی ایسا ہی سوال ہے۔ یہ کسی میدانِ جنگ کی شکست کا اعلان نہیں، بلکہ ایک زندہ معاشرے کے ضمیر کی آہٹ ہے۔ یہ سوال...
