تحریرات

ایک سالک کی پکار

اے ربِّ کریم! میں کیا عرض کروں اور کس زبان سے عرض کروں؟ میری زبان گنگ ہے اور میرا دل لبریز۔ لب خاموش ہیں مگر دل کی ہر دھڑکن تیری بارگاہ میں ایک فریاد ہے۔ آنسو ہیں کہ گواہی دے رہے ہیں، آہیں ہیں کہ دلیل بن رہی ہیں اور...

اختیار کا جہیز

زندگی کے بڑے فیصلے اکثر شور و غوغا میں اپنی اصل معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ شادی بھی انہی میں سے ایک اہم موڑ ہے جہاں رسم و رواج کی چمک دمک حقیقت کی بنیادی ضرورتوں پر دبیز پردہ ڈال دیتی ہے۔ بیٹی کو رخصت کرتے وقت ماں باپ اپنی محبت...

جب بارش فیصلہ کرتی ہے

انسان کے باطن کی اصل قدر اُس کی سختی میں نہیں، اُس کی تاثیر میں ہوتی ہے۔ جو دل خود کو لوہا سمجھتا ہے، وہ دراصل اپنی بے حسی پر فخر کر رہا ہوتا ہے اور جو دل مٹی ہونے کا اقرار کرتا ہے، وہ اپنی تخلیقی صلاحیت، اپنے اندر...

تقدیر کے رموزِ وقف

زندگی کے بہت سے لمحے ایسے ہوتے ہیں جب انسان خود کو معمولی پریشانیوں، چھوٹی رکاوٹوں اور بظاہر بے معنی تاخیر میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ کبھی گاڑی خراب ہو جاتی ہے، کبھی کوئی ملاقات ملتوی ہو جاتی ہے، کبھی کوئی منصوبہ آخری لمحے میں ناکام ہو جاتا ہے،...

محبت کے بعد کی خاموشی

وئی محبت سے مرتد ہو جائے تو یہ محض ایک تعلق کا ٹوٹنا نہیں ہوتا، یہ ایک عقیدے کا بکھر جانا ہوتا ہے۔ محبت صرف ایک جذبہ نہیں، ایک ایمان ہوتی ہے اور جب ایمان ٹوٹتا ہے تو انسان صرف محروم نہیں ہوتا، وہ اندر سے منہدم ہو جاتا ہے۔...

دل کی امانت اور وجود کی حرمت

انسانی رشتے محض ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں ہوتے بلکہ یہ روحوں کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہوتے ہیں جس میں الفاظ سے زیادہ احساس بولتے ہیں اور وعدوں سے زیادہ رویے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ جب کوئی کسی کی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو وہ...

مدینہ سے ایوانِ اقتدار تک

تاریخ نے بادشاہ بہت دیکھے ہیں، فاتح بہت دیکھے ہیں، اور سلطنتوں کے عروج و زوال کے بے شمار تماشے بھی دیکھے ہیں۔ کسی نے لشکروں کے بل پر دنیا فتح کی، کسی نے خزانوں سے اپنی عظمت کے مینار کھڑے کیے، کسی نے خوف کو حکومت کا ستون بنایا...

جب وقت عدالت بن جائے

کچھ مقدمے عدالتوں میں نہیں چلتے، وہ وقت کے سینے پر چلتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی وکیل ہوتا ہے، نہ گواہوں کی قطار، نہ دلیلوں کا شور۔ وہاں صرف انسان کا کردار کھڑا ہوتا ہے، اور سامنے وقت کی وہ آنکھ ہوتی ہے جو چہرہ نہیں، نیت پڑھتی ہے۔ زندگی...

چراغ بجھے نہیں، ہم ٹھہرنا بھول گئے

ہ خیال محض چراغ اور روشنی کا تقابل نہیں؛ یہ انسان کے بدلتے ہوئے ذہنی مزاج، اس کی کم ہوتی ہوئی یکسوئی اور تیز ہوتی ہوئی زندگی کا ایک خاموش نوحہ ہے۔ ایک زمانہ تھا جب رات اترتی تو دنیا آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتی تھی۔ گھروں میں چراغ جلتے،...

جب عقل میں دل کی روشنی اترتی ہے

انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وہ کم جانتا ہے؛ المیہ یہ ہے کہ کبھی کبھی جتنا جانتا ہے، اتنا محسوس نہیں کرتا۔ علم اگر دل سے بے خبر ہو جائے تو ذہانت پیدا ہوتی ہے، دانائی نہیں۔ اور احساس اگر عقل سے محروم ہو جائے تو...

Scroll to Top