تحریرات

جب پردہ اٹھتا ہے تو کردار بولتا ہے

انسان کا سب سے محفوظ جھوٹ وہ ہوتا ہے جو وہ دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے بولتا ہے۔ ہم اپنی شخصیت کے گرد ایک ایسا خوب صورت پردہ تان لیتے ہیں جس پر شرافت، دیانت، اصول اور کردار کے نقش بنے ہوتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ہمیں پردہ اتنا...

ہم کتنی ویرانیاں کم کر کے گئے؟

کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں ہوتی کہ اس کے پاس کم ہے؛ اصل محرومی یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ پاس ہے، اس میں اسے کافی نظر نہیں آتا۔ کثرت کا نشہ انسان کو چیزوں کا محتاج نہیں بناتا، مزید کا محتاج بنا دیتا ہے۔...

جب ضمیر سو جائے تو نظام جاگتا ہوا بھی مفلوج رہتا ہے

ہم نظام کو اکثر ایک عمارت سمجھتے ہیں: آئین کی دیواریں، اداروں کی چھت، قوانین کے دروازے، عدالتوں کی کھڑکیاں اور ریاستی اختیار کے ستون۔ پھر جب اس عمارت میں دراڑیں پڑتی ہیں تو ہم معمار تلاش کرنے لگتے ہیں، حکمرانوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، قوانین بدلنے کی بات...

ایک دوسرے کو عمر بھر نئے سرے سے دریافت کرنا

ہم اکثر محبت کو ایک یاد سمجھ لیتے ہیں؛ وہ لمحہ جب کسی کے چہرے نے ہمیں اپنی طرف کھینچا، کسی آواز نے دل میں گھر کیا، یا کسی وجود کی قربت نے زندگی کو اچانک معنی دے دیے۔ پھر ہم چاہتے ہیں کہ وہ شخص ہمیشہ وہی رہے جس...

اقوالِ نعیم

فاصلوں کی حکمت فاصلے راستوں میں نہیں، ادراک میں پیدا ہوتے ہیں؛ ورنہ دو کناروں کے بیچ دریا بھی ہو تو پل بن جاتا ہے۔ قربت اگر روح کو نہ چھوئے تو ایک ہی گھر میں رہنے والے بھی اجنبی شہروں کے باسی ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ دور جا کر...

مسافتوں سے آگے

انسان عجیب مسافر ہے؛ ساری عمر راستے ناپتا رہتا ہے اور آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ اصل سفر باہر نہیں، اندر جاری تھا۔ جن فاصلوں کو ہم میلوں، شہروں اور برسوں میں شمار کرتے رہے، وہ دراصل دل کی زمین پر بننے والے وہ نقش تھے جنہیں کوئی پیمانہ...

عمر کے آخری دریچے میں جلتا ہوا چراغ

عمر بڑھنا دراصل وقت کا گزرنا نہیں، اپنے فریبوں کا اترنا ہے۔ جوانی میں انسان دنیا کو بدلنے نکلتا ہے، پختگی میں خود کو سمجھنے لگتا ہے، اور بڑھاپا آ کر بتاتا ہے کہ زندگی کو بدلنے سے زیادہ ضروری اسے قبول کرنا تھا۔ ایک عمر کے بعد سب سے...

وہ ہاتھ جو چھڑی تھامنے لگے

قدر کیجیے اُن ہاتھوں کی جو کبھی ہمارے لیے چھاؤں بنے، ہماری انگلی تھام کر ہمیں زندگی کی پہلی راہوں پر چلنا سکھاتے رہے، ہماری لغزشوں کو سہارا دیتے رہے اور ہماری ہر کمزوری کو اپنی قوت بنا کر ہماری بنیادیں مضبوط کرتے رہے۔ وقت عجیب معمار ہے؛ جو ہاتھ...

خواب کا جغرافیہ اور ضمیر کی آزادی

تاریخ کے سینے میں چودہ اگست کا دن صرف ایک عدد کی صورت درج نہیں، بلکہ یہ ہماری قومی بصیرت، حافظے اور آنے والی نسلوں کی آنکھوں میں بسا ایک زندہ سوال ہے۔ ہم نے آکاش کی وسعتوں میں ایک نیا نام اور نقشے پر ایک نیا جغرافیہ تو تراش...

ہر انسان ایک الگ کائنات ہے؛ اُسے اپنی دنیا میں قید نہ کرو

انسان کو عقل اس لیے نہیں دی گئی کہ وہ پوری کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق تراشنے لگے؛ عقل کا اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان کائنات کے تنوع کو سمجھ سکے، انسانوں کے اختلاف کو برداشت کر سکے اور ہر وجود کو اس کی اپنی حقیقت کے...

Scroll to Top