افسانے

زبانِ بے گور و کفن

​شام ڈھل چکی تھی اور پرانے شہر کے تاریک کوچے میں میاں مظفر کی حویلی کا اکلوتا روشن کمرہ گرد و غبار کی زد میں تھا۔ کمرے میں چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگے تھے۔ موٹے موٹے جلدوں والی لغات، میر، غالب، اقبال اور انیس کے کلیات، اور وہ نایاب...

جس دن شہر نے اسے پہچان لیا

اس شہر میں ایک عجیب دستور تھا۔ جو چیز انسان کے لیے حد سے بڑھ کر عزیز ہو جاتی، لوگ اس کا نام لینا چھوڑ دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نام کسی حقیقت کی پہچان تو بن سکتا ہے، مگر اس کی گہرائی بیان نہیں کر سکتا۔ محبت...

سفید جگہ

  شہر میں کسی آدمی کا گم ہونا خبر نہیں تھا۔ خبر یہ تھی کہ کسی آدمی نے راستہ بھولنے سے انکار کر دیا ہو۔ یہاں ہر شخص کے پاس ایک نقشہ تھا۔ پیدائش کے کچھ ہی دن بعد سرکار کی طرف سے ایک چھوٹا سا کاغذ ملتا، جس پر...

ایک خواب، دو زندگیاں

مجھے ہمیشہ یہ گمان رہا کہ انسان کی اصل عمر وہ نہیں جو کیلنڈر پر لکھی ہوتی ہے۔ انسان کی اصل عمر تو وہ ہوتی ہے جو وہ اپنے اندر گزار دیتا ہے۔ باہر سے دیکھو تو ایک شخص ہوتا ہے؛ ایک نام، ایک چہرہ، چند رشتے، چند ذمہ داریاں۔...

وہ دروازہ جو کبھی کھلا نہیں

شہر کے آخری کنارے پر ایک پرانا مکان تھا، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کا ایک دروازہ ایسا ہے جو کبھی کھلا نہیں۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ دروازہ لکڑی کا نہیں، وقت کا بنا ہوا ہے۔ جو اسے کھولنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اپنے ماضی...

کاغذ پر اتری ہوئی قیامت

شہر میں ایک عجیب خاموشی اتر آئی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ خاموشی سکون کی علامت ہے، مگر میں جانتا تھا کہ یہ اس طوفان کا وقفہ ہے جو ابھی الفاظ کی شکل میں جنم لینے والا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات سب سے خوفناک زلزلے زمین کے اندر نہیں،...

لفظوں کا بنایا ہوا زندان

کہتے ہیں قید خانے اینٹوں، پتھروں اور لوہے کی سلاخوں سے بنتے ہیں۔ مگر میں نے ایک ایسا زندان دیکھا ہے جس کی نہ کوئی دیوار تھی، نہ کوئی دروازہ، نہ کوئی پہرہ دار۔ وہ صرف لفظوں سے بنا تھا۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ اس میں قید ہونے...

خوابوں کا قاتل شہر

اس شہر میں سورج ہر صبح طلوع ہوتا تھا، مگر روشنی کبھی زمین تک نہیں پہنچتی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں بلند عمارتیں تھیں، کشادہ سڑکیں تھیں، راتوں کو دن بنا دینے والی روشنیاں تھیں، اور ہر چہرے پر کامیابی کا ایک مصنوعی...

وہ چراغ جو گھر کا راستہ بھول گیا

وہ عمر بھر روشنی تلاش کرتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ کہیں دور کسی ویران پہاڑی کے دامن میں ایک ایسا چراغ چھپا ہے جسے جلانے کے بعد دنیا کے تمام اندھیرے شکست کھا جائیں گے۔ وہ جنگلوں میں گیا، صحراؤں میں بھٹکا، کتابوں کے انبار کھنگالے، خاموش راتوں سے...

جس کہانی نے اپنے خالق کو کھا لیا

وہ شخص کہانیاں نہیں لکھتا تھا، وہ انہیں جنم دیتا تھا۔ اس کے لیے الفاظ محض سیاہی کے نشان نہیں تھے، بلکہ بے قرار روحیں تھیں جو کسی جسم، کسی آواز اور کسی انجام کی تلاش میں اس کے اندر بھٹکتی رہتی تھیں۔ وہ جب قلم اٹھاتا تو اسے محسوس...

Scroll to Top