تحریرات

جڑوں کو پانی دیتے رہنا

زندگی کا ایک عجیب المیہ ہے کہ انسان جن لوگوں کی محبت کو سب سے زیادہ یقینی سمجھتا ہے، اکثر انہی کی قدر کرنے میں سب سے زیادہ دیر کر دیتا ہے۔ باپ بھی انہی رشتوں میں سے ایک ہے۔ وہ محبت کا شور نہیں کرتا۔ وہ اپنی محبت کو...

حد کے اُس پار

کائنات میں شاید کوئی طاقت بے لگام پیدا نہیں ہوتی۔ ہر قوت کے سامنے کوئی نہ کوئی حد کھڑی ہوتی ہے—دریا کے سامنے کنارا، سمندر کے سامنے ساحل، آگ کے سامنے ظرف، ہوا کے سامنے دیوار، اور انسان کے اندر خواہش کے سامنے ضمیر۔ ہم اکثر حد کو رکاوٹ سمجھتے...

اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی بغاوت

انسان کی سب سے بڑی غلامی زنجیروں سے نہیں ہوتی؛ وہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنا سیکھ لیتا ہے۔ پھر اسے سچ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی، اسے صرف بتا دینا کافی ہوتا ہے کہ سچ کیا ہے۔ وہ سوال سے گھبرانے لگتا...

جب آدمی اپنے اندر اترتا ہے

ہم ساری عمر کسی نہ کسی چیز کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔۔کامیابی، محبت، شناخت، سکون، سچائی، خوشی، حتیٰ کہ خدا کی قربت بھی کبھی کبھی ہماری خواہشات کی فہرست کا ایک اور عنوان بن جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی کا ہر قیمتی راز کہیں آگے، کہیں باہر، کسی...

جو ہمارے بعد بھی زندہ رہتا ہے

انسان مرتا ہے تو صرف اس کا جسم دنیا سے رخصت ہوتا ہے؛ اس کی بہت سی چیزیں جانے سے انکار کر دیتی ہیں۔ کسی کے چلنے کا انداز، کسی کے بولنے کی نرمی، کسی مشکل گھڑی میں خود کو سنبھالنے کا ہنر، کسی بھوکے کو دیکھ کر بے چین...

موت: آخری شام نہیں، ازل کی پہلی سحر

کائنات کی سب سے بڑی خاموشی قبرستانوں میں نہیں اترتی، انسان کے اس دل میں اترتی ہے جو جینا بھول چکا ہو۔ موت سے پہلے مر جانے والے لوگ ہی موت سے سب سے زیادہ خوف زدہ ہوتے ہیں، کیونکہ انہوں نے زندگی کو کبھی اپنے خون میں گھلنے ہی...

جب کتاب بند ہوتی ہے، ادب شروع ہوتا ہے

ادب کا مقصد جواب تقسیم کرنا نہیں، سوال پیدا کرنا ہے۔ جو تحریر پہلی قرأت میں اپنے تمام راز کھول دے، وہ شاید معلومات تو دے سکتی ہے، مگر قاری کے باطن میں دیرپا قیام نہیں کر سکتی۔ عظیم ادب ہمیشہ اپنے اندر ایک ایسا خاموش سوال محفوظ رکھتا ہے...

سکوت کے دردمند محرم

کائنات کا سب سے گہرا المیہ یہ نہیں کہ انسان ایک دوسرے سے دور ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خاموشیوں سے ناواقف ہیں۔ ہر وجود اپنے اندر ایک ایسی کائنات اٹھائے پھرتا ہے جس کے موسم، زلزلے، بہاریں اور ویرانیاں کسی اور کی نگاہ میں نہیں...

سکتۂ شعور اور کانچ کے نوحے

سائنس کا گمان ہے کہ سانس کا ٹوٹنا موت ہے، مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان تب مرتا ہے جب اس کے اندر بیداری کا چراغ بجھ جائے۔ جسم کا لہو بہہ جائے تو مٹی سُرخ ہوتی ہے، لیکن اگر شعور بہہ جائے تو پوری کائنات بے رنگ...

جہاں لفظ ختم ہوتے ہیں

کائنات میں ایک ایسی زبان بھی ہے جس کے لیے نہ ہونٹ درکار ہوتے ہیں، نہ آواز اور نہ ہی الفاظ۔ یہ زبان صرف دل جانتا ہے، اور اس کا ترجمہ صرف وہ ذات سمجھتی ہے جس نے دل کو دھڑکنا سکھایا۔ جب انسان کے اندر درد اپنی آخری حد...

Scroll to Top