تحریرات

جب زندگی خود استاد بن جائے

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ وہ غلطی کر بیٹھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کو غلطی ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ انسان خطا کا پتلا ہے، مگر اس کی اصل آزمائش خطا کے بعد شروع ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ایک معمولی اشارے...

عینِ حق: جب حقیقت پردوں سے نکل کر دل پر آشکار ہو جائے

انسان کی روح کا آخری سفر باہر کی دنیا کو فتح کرنے کا نہیں، بلکہ حقیقت کے سامنے اپنی ذات کے پردے ہٹا دینے کا سفر ہے۔ ابتدا میں انسان چیزوں کو دیکھتا ہے، پھر ان کے معنی تلاش کرتا ہے، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ دیکھنے...

عینِ عبودیت: جب انسان اپنی ذات سے گزر کر بندگی تک پہنچتا ہے

انسان کی روح کا سب سے بلند سفر اپنی ذات کو بڑا ثابت کرنے کا نہیں، بلکہ اپنی حقیقت کو پہچان لینے کا سفر ہے۔ جب تک انسان اپنے وجود کو مرکز سمجھتا رہتا ہے، وہ خواہشوں، توقعات اور اپنی اہمیت کے احساس کے حصار میں رہتا ہے؛ لیکن جس...

عینِ عبادت: جب بندہ فاصلے سے قربت تک پہنچ جاتا ہے

عبادت انسان کا اپنے رب سے وہ خاموش مکالمہ ہے جس میں الفاظ کم اور کیفیت زیادہ بولتی ہے۔ یہ صرف چند حرکات کا نام نہیں، بلکہ دل کے اس سفر کا نام ہے جہاں انسان اپنی محدود ہستی کو ایک لامحدود حقیقت کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ بعض لوگ...

عینِ عمل: جب ارادے کردار کا لباس پہن لیتے ہیں

انسان کی پہچان اس کے خیالات سے نہیں، اس کے آثار سے ہوتی ہے۔ خیال خوشبو کی طرح ہے، مگر عمل وہ پھول ہے جس سے خوشبو کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ اچھائی کے خواب دیکھتے ہیں، نیکی کے چرچے کرتے ہیں، بلند مقاصد کے...

عینِ شعور: جب انسان خود سے آگے دیکھنے لگتا ہے

انسان کی پوری زندگی دراصل دو نگاہوں کے درمیان سفر ہے؛ ایک وہ نگاہ جو صرف ظاہر کو دیکھتی ہے، اور دوسری وہ جو ظاہر کے پردے میں چھپے ہوئے باطن کو پہچان لیتی ہے۔ پہلی نگاہ دنیا کو دیکھتی ہے، دوسری حقیقت کو۔ پہلی آنکھ چیزوں کا مشاہدہ کرتی...

خاموش دروازوں کے پیچھے دفن حقیقتیں

انسانی رشتے اکثر بڑے حادثات سے نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی خاموشیوں سے ٹوٹتے ہیں۔ ایک لفظ کا غلط مطلب، ایک رویّے کی غلط تشریح، ایک لمحے کی بے توجہی… اور پھر دل اپنے ہی انداز میں کہانیاں بنانے لگتا ہے۔ حقیقت کہیں اور کھڑی ہوتی ہے اور گمان کہیں اور...

پاک تنہائی

تنہائی اُس وقت عبادت بن جاتی ہے جب وہ ہجوم سے فرار نہیں، اپنے باطن کی طرف سفر ہو۔ ہر اکیلا انسان تنہا نہیں ہوتا، اور ہر مجمع آباد نہیں ہوتا۔ بعض دل بازاروں کے درمیان بھی ویران رہتے ہیں، اور بعض حجرے ایسی آبادیوں سے بھر جاتے ہیں جہاں...

دُعا لفظ نہیں، وجود کی کیفیت ہے

دُعا ہونٹوں سے ادا ہونے والا جملہ نہیں، روح کے اندر برپا ہونے والی ایک کیفیت ہے۔ لفظ تو صرف دروازے ہیں، اصل سفر تو اُس خاموش وادی میں شروع ہوتا ہے جہاں دل اپنی تمام منتشر آوازوں کو سمیٹ کر ایک ہی سمت متوجہ ہو جاتا ہے۔ جس دل...

یادوں کا وزن روح اٹھاتی ہے

کچھ بوجھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کندھے نہیں اٹھاتے، روح اٹھاتی ہے۔ انہی میں سب سے بھاری بوجھ یادوں کا ہوتا ہے۔ یہ لوہے کی زنجیر نہیں ہوتیں، مگر برسوں تک انسان کے باطن کو جکڑے رکھتی ہیں۔ ان کی کوئی شکل نہیں ہوتی، مگر یہ چہرے کا نور بدل...

Scroll to Top