تحریرات

خیالوں کی دنیا میں انسان کا اصل قد

انسان کی اصل پہچان اس کے پاس موجود طاقت، دولت، منصب یا شہرت سے نہیں ہوتی، بلکہ اس خیال سے ہوتی ہے جو اس کے اندر خاموشی سے پروان چڑھ رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر عمل پہلے ایک خیال کے رحم میں جنم لیتا ہے، پھر وہی خیال کردار بنتا...

جب دل تخت پر بیٹھ جائے اور عقل دروازے پر کھڑی رہ جائے

انسان کے اندر دو جہان آباد ہیں؛ ایک وہ جہاں احساسات کے چراغ جلتے ہیں، دوسرا وہ جہاں سوچ کے آئینے رکھے ہیں۔ ایک کو ہم دل کہتے ہیں، دوسرے کو عقل۔ دونوں اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر زندگی کا حسن اسی وقت قائم رہتا ہے جب دونوں ایک دوسرے...

جب سوال مر جاتے ہیں

انسان کی زندگی میں دو لمحے بہت اہم ہوتے ہیں؛ ایک وہ جب وہ آنکھیں کھولتا ہے، اور دوسرا وہ جب سوال کرنا شروع کرتا ہے۔ پہلا لمحہ اسے زندہ کرتا ہے، دوسرا اسے انسان بناتا ہے۔ جو ذہن سوال نہیں کرتا، وہ آہستہ آہستہ دوسروں کے جوابات کا گودام...

ذہن کی نادیدہ جیل

انسان کو ہمیشہ لوہے کی سلاخیں قید نہیں کرتیں، بعض اوقات وہ اپنے ہی ذہن کے بنائے ہوئے فیصلوں میں عمر بھر مقید رہتا ہے۔ دنیا کی سب سے خطرناک جیل وہ نہیں جس کی دیواریں پتھر کی ہوں، بلکہ وہ ہے جس کی دیواریں دکھائی نہ دیں، جس کے...

جس کے سائے میں خوف نہیں ٹھہرتا

مرد کی عظمت اس بات میں نہیں کہ لوگ اس کے نام سے راستہ بدل لیں، بلکہ اس مقام پر ہے کہ لوگ اس کے قریب آ کر اپنے خوف بھول جائیں۔ دنیا نے طاقت کو اکثر غلط سمجھا ہے۔ لوگ سمجھتے رہے کہ بلند آواز، سخت لہجہ، غصہ اور...

عقیدت کا اندھیرا

اندھی عقیدت شعور کی وہ زنجیر ہے جو انسان اپنے ہاتھوں سے پہنتا ہے، انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ وہ غلطی کر جاتا ہے، بلکہ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنی غلطی کو مقدس بنا لیتا ہے۔ اندھی عقیدت وہ ذہنی...

شور یا شعور

ہر زمانہ اپنے احتجاج کی زبان خود ایجاد کرتا ہے۔ کبھی یہ زبان تلوار تھی، کبھی کتاب، کبھی خفیہ منشور، کبھی مسجد و بازار، اور اب ایک اسکرین پر ابھرتا ہوا ہیش ٹیگ۔ مگر تاریخ ایک عجیب اصول پر قائم ہے: آوازیں تاریخ کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں، مگر دروازہ ہمیشہ...

ہجوم اور تاریخ

ہر عہد اپنے احتجاج کی ایک علامت تراشتا ہے۔ کبھی وہ فرانس کی گیلوٹین ہوتی ہے، کبھی روس کا سرخ پرچم، کبھی چین کا لانگ مارچ، کبھی ایران کی مساجد اور کیسٹ ٹیپس، اور کبھی جنوبی افریقہ کی دہائیوں پر محیط مزاحمت۔ آج کی دنیا میں یہ علامت ایک ہیش...

ہیش ٹیگ کی چنگاری اور تاریخ کی بھٹی (جین زی کے انقلاب اور تبدیلی کے ادھورے سفر کا فلسفہ)

ہر عہد اپنی انقلابی نسل خود پیدا کرتا ہے، اور ہر نسل اپنے احتجاج کی زبان خود ایجاد کرتی ہے۔ فرانس کے نوجوانوں نے گیلوٹین کو ظلم کے خاتمے کی علامت بنایا، روس نے سرخ پرچم بلند کیا، چین نے لانگ مارچ کو اپنے عزم کی شاہراہ بنا دیا، ایران...

ہم زندہ انسانوں کو کب کھانا چھوڑیں گے؟

میت والے گھر کا کھانا کھانے سے پہلے، ایک لمحہ ٹھہریے… اور ذرا اپنی زندگی کا حساب بھی کر لیجیے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ برسوں سے زندہ انسانوں کے دل، عزت اور سکون کھاتے آ رہے ہیں؟ انسان کی بھوک ہمیشہ پیٹ میں نہیں اُترتی، بعض اوقات وہ...

Scroll to Top